2024-07-17
رسول اکرم

از قلم ساجد محمود انصاری

چند دنوں سے ایک وڈیو گردش میں ہے جس میں ایک بے بنیاد دعویٰ کیا گیا ہے کہ کسی فرانسیسی کمپنی نے  رسول اکرم ﷺ کا خطبہ حجۃ الوداع ہوا میں  معلق اربوں انسانوں کی آوازوں  میں سے کشید کرلیا ہے اور وہ عنقریب اسے نشر کرنے والی ہے۔

جان لیجیے  کہ اب تک کی سائنسی تحقیقات اور ٹیکنالوجی کی تمام تر ترقیات کے باوجود ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ جن میں سے چند ایک اہم وجوہات درج ذیل ہیں:

1۔ ہماری آوازیں ہوا میں تحلیل ہوجاتی ہیں اور کچھ ہی عرصہ بعد ان کا اصل وجود باقی نہیں رہتا۔آوازانرجی کی ایک قسم ہے جو  میکانکی موجوں(مکینیکل ویوز) کی شکل میں سفر کرتی ہے،یہ موجیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنا وجود (انرجی)کھو بیٹھتی ہیں۔ اگرچہ ایک ناسمجھ آنے والے  مدھم شور کی شکل میں ان کا ادنیٰ سا احساس باقی رہ سکتا ہے، مگر اس شور سے کسی بھی طرح اصلی آواز پیدا نہیں کی جاسکتی۔

2۔ اب تک کوئی ایسا آلہ ایجاد نہیں ہوا کہ جس کے ذریعے قدیم آوازوں کو ہوا میں سے کشید(فلٹر)کیا جاسکے۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس بھی ایسا کرنے سے قاصر ہے۔ بعض سائنسدانوں نے  کوانٹم اکاؤسٹکس ڈیوائسز  کا مفروضہ پیش کیا ہے جو ہوا میں موجود مدھم شور کا سراغ لگاسکتے ہیں، مگر یہ آلات بھی ابھی تک مفروضے کے درجے میں ہیں، جو حقیقت کا روپ نہیں دھار سکے۔

3۔خطبہ حجۃ الوداع ریکارڈ کرنے کامذکورہ بالا دعویٰ  لیزر انٹر فیرومیٹر کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔مگر یہ پیالی میں طوفان اٹھانے یا رائی کا پہاڑ بنانے کے مترادف ہے۔ لیزرانٹرفیرومیٹرکے ذریعے ہلکے سے ہلکے  ارتعاش کو محسوس کیا جاسکتا ہے، جس کی وجہ سے اسے زلزلے کی  درست پیمائش کے لیے کامیابی سے استعمال کیا گیا ہے،  مگر کیا  لیزرفیرومیٹ سے اصل انسانی آواز پیدا  کی جاسکتی ہے ؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔

4۔ فرض کرلیں کہ آرٹفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے ایسا آلہ بنالیاجاتا ہے کہ جس سے قدیم آوازوں کے مدھم ارتعاش کا سراغ لگا کر انہیں انسانی آوازوں میں ڈھالا جاسکے۔ مگر یہ تصدیق کیسے ہوگی کہ کونسی آواز کس شخص کی ہے؟ ہر انسان کی آواز کی طبعی خصوصیات دوسرے انسانوں کی صوتی خصوصیات سے مختلف ہوتی ہیں۔ ہرا نسان کی آواز کی فریکوئنسی، پچ، ایمپلی ٹیوڈ وغیرہ دوسرے انسانوں سے مختلف ہوتی ہے۔ جبکہ ہمیں قدیم انسانوں کی آواز کی ان خصوصیات کا سرے سے علم بھی نہیں کہ کس انسان کی پچ اور فریکوئنسی کیا تھی؟ لہٰذا اگر آج کوئی سائنسدان کسی فصیح البیان عربی کی آواز میں احادیث میں مذکور خطبہ حجۃ الوداع  کی ریکارڈنگ کرکے یہ دعویٰ کردے کہ یہ حضرت محمد ﷺ کی آواز ہے تو اس کی تصدیق کیسے کی جائے گی؟ دجال اور اس کے پیروکاروں کو یہ دجالی ہتھکنڈے استعمال کرنے سے کون روک سکے گا؟

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading