2024-07-17

 

 نماز با جماعت کی شرعی حیثیت

نماز با جماعت فرض کفایہ ہے،امام مالکؒ، امام شافعی ؒ اور امام ابو حنیفہ  ؒ کا یہی مؤقف ہے۔ تاہم یہ

 صحتِ نماز کے لیے شرط نہیں ہے۔[1]

 ارشادِ باری تعالیٰ ہے

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ [2]

نیز فرمایا

وَاِذَا کُنْتَ فِیْھِمْ فَاَقَمْتَ لَھُمُ الصَّلٰوۃَ، فَلْتَقُمْ طَآءِفَۃٌ مِّنْھُمْ مَّعَکَ [3]

اور جب آپ  ان میں موجود ہوں تو ان کے لیے صلوٰۃ قائم کیجیے، پس ان کا ایک فریق آپکے ساتھ کھڑا ہوجائے۔

ان آیات سے نماز باجماعت کی فرضیت ظاہر ہوتی ہے تاہم سنتِ متواترہ سے ثابت ہے کہ یہ فرضیت  مقید ہے ناں کہ مطلق۔یعنی اگر مسجد کے قرب و جوار  میں بسنے والے مرد مسجد میں جماعت کا اہتمام کرلیں تو دوردراز  کے لوگوں سے جماعت میں حاضر ہونے کا فرض ساقط ہوجاتا ہے۔واللہ اعلم بالصواب

سیدنا ابوالدردا  رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اگر کسی گاؤں میں تین لوگ بھی موجود ہوں  اور وہ اس میں اذان کہتے ہیں نہ نماز باجماعت کا اہتمام کرتے ہیں تو ان پر شیطان مسلط کردیا جاتا ہے۔تم پر جماعت میں حاضر ہونا لازم ہے کیونکہ اکیلی بھیڑ کو بھیڑیا کھاجاتا ہے۔[4]

سیدنا معاذ بن انس الجہنی  رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ناشکری اور نفاق یہ ہے کہ آدمی مؤذن کی آواز سنے کہ وہ اسے نماز اور فلاح کی طرف بلا رہا  ہےاور وہ پھر بھی اس پر لبیک نہ کہے۔[5]

سیدنا عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں ایک نابینا شخص ہوں جس کا گھر مسجد سے قدرے فاصلے پر ہے اور میرا قائد( راستے کی رہنمائی کرنے والا) ہمیشہ میرے ساتھ نہیں ہوتا،تو کیا آپ میرے لیے گھر پر نماز ادا کرنے کی رخصت پاتے ہیں؟نبی ﷺ نے پوچھا کہ کیا تم اذان کی آواز سنتے ہو؟میں نے کہا جی ہاں۔ تب نبی ﷺ نے فرمایا کہ پھر میں تمہارے لیے رخصت نہیں پاتا۔[6]

سیدنا عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ مسجد کےہمسائے تھے اور گھر پر  اذان کی آواز سنتے تھے۔ مگر  نبی ﷺ نے  ان کے نابینا ہونے کے باوجودانہیں گھر پر نماز ادا کرنے کی رخصت نہیں دی۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسجد کے ہمسایوں پر مسجد میں حاضر ہوکر باجماعت نماز ادا کرنا فرض ہے۔

درج ذیل حدیث ہمارے اس بیان کی تائید کرتی ہے

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ مسجد کے ارد گرد رہنے والے مردوں کونماز  عشا میں حاضر نہ ہونے  سے  باز آجانا چاہیے، ورنہ میں ان کے گھروں کو آگ لگا دوں گا۔[7]

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اگر گھروں میں عورتیں اور بچے نہ ہوتے تو میں نماز  عشا کے لیے اقامت کہنے کا حکم دیتا اورنوجوانوں کی جماعت سے کہتا کہ جو مرد گھروں پر ہیں انہیں آگ لگادو۔[8]

معلوم ہوا کہ جماعت میں حاضر نہ ہونے کی وجہ سے گھروں کو آگ لگانے کی یہ وعید صرف ان گھروں کے لیے تھی جو مسجد کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے واقع تھے۔کیونکہ اگر یہ لوگ بھی جماعت میں حاضر نہ  ہوتے تو پھر جماعت  کا اہتمام کیسے ممکن ہوتا؟ اس لیے  نبی ﷺ نے انہیں  اتنی شدّت کے ساتھ جماعت میں حاضر ہونے کی  تاکید  فرمائی ہے۔

رہے وہ لوگ جو مسجد سے دور رہتے ہیں ان کے لیے بھی مستحب یہی ہے کہ وہ مسجد میں باجماعت نماز ادا کریں۔اور اگر مسجد میں حاضر نہیں ہوسکتے تو گھر پر ہی باجماعت نماز ادا کریں۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ باجماعت نماز ادا کرنا اکیلے نماز پڑھنے سے پچیس گنا افضل ہے۔[9]

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی ایسا ہی مروی ہے۔[10]

سیدہ عائشہ علیہا السلام سے بھی ایسا ہی مروی ہے۔[11]

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ آدمی کا ایک آدمی کی بجائے دو آدمیوں کےساتھ نماز ادا کرنا زیادہ موجبِ ثواب ہے اور اس سے بھی زیادہ لوگ ہوں تو یہ اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے۔[12]

سیدنا یزید بن اسود العامری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اگر  تم اپنے گھروں پر فرض نماز پڑھ چکو اورپھر  مسجد میں آؤ اوراور وہاں جماعت پالو تو ان کے ساتھ بھی نماز پڑھ لو، ہاں یہ تمہارے لیے نفل ہوجائے گی۔[13]

خواتین کی جماعت میں حاضری

خواتین کا مسجد کی بجائے گھر پر نماز ادا کرنا افضل ہے، تاہم انہیں مسجد میں  جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کی رخصت ہے اور اگر فتنے کا اندیشہ ہو تو ممنوع ہے۔

ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ علیہا السلام سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ خواتین کی بہترین مسجد ان کے گھر کا اندرونی حصہ ہے۔[14]

سیدنا عبداللہ بن سوید الانصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ کی والدہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر کہنے لگیں کہ میں آپکے پیچھے نماز ادا کرنا پسند کرتی ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں جانتا ہوں کہ آپ میرے پیچھے نماز ادا کرنا پسند کرتی ہیں مگر آپ کی اپنے گھر کے اندرونی حصے میں نماز گھر کی دیوڑھی میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔آپ کے گھر کی دیوڑھی میں نماز آپ کے ڈیرے میں نماز سے بہتر ہے، آپ کے ڈیرے میں نماز اپنی قوم کی مسجد میں نماز سے بہتر ہے، اپنی قوم کی مسجد میں نماز میری مسجد میں نماز سے بہتر ہے۔[15]

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اپنی خواتین کو مسجد جانے سے منع مت کرو اگرچہ ان کے گھر ان کے لیے بہتر ہیں۔[16]

ام المؤمنین سیدہ عائشہ علیہا السلام سےمروی ہے کہ اگر نبی ﷺ خواتین کے وہ لچھن دیکھ لیتے جو ہم دیکھتے ہیں تو یقیناً انہیں مسجد میں آنے سے منع فرمادیتے۔[17]

لہٰذا گر خواتین مسجد میں نماز پڑھنا چاہیں تو ان کے لیے پردے کا اہتمام ہونا چاہیے۔



[1] محمد بن علی الشوکانی، نیل الاوطار:3/142

[2] البقرۃ: 43

[3] النسا: 102

[4] مسند احمد: رقم 22053

[5] مسند احمد: رقم 15712

[6] مسند احمد: رقم 15571

[7] مسند احمد: رقم 7903

[8] مسند احمد: رقم 8782

[9] مسند احمد: رقم 2623

[10] مسند احمد: رقم 7185

[11] مسند احمد: رقم 24725

[12] مسند احمد: رقم 21587،سنن ابو داؤد: رقم 554

[13] جامع الترمذی: رقم 219

[14] مسند احمد: رقم 27077

[15] مسند احمد: رقم 27630

[16] مسند احمد: رقم 5468،

[17] مسند احمد: رقم 25109، صحیح البخاری: رقم 869، صحیح مسلم: رقم 445، سنن ابوداؤد: رقم 569

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading