2024-07-17

 

غسلِ جمعہ کی شرعی حیثیت

از قلم ساجد محمود انصاری

نمازِ جمعہ میں حاضر ہونے سے پہلے غسلِ جمعہ  اور مسواک سنتِ مؤکدہ ہے۔نیز صاف ستھرا  عمدہ

 لباس زیبِ تن کرنا اور خوشبو لگانا  مردوں کے لیے مستحب ہے۔مستحب یہ ہے کہ غسل کے بعد سر اورداڑھی کے  بالوں میں تیل لگایا جائے اور کنگھی کی جائے۔

جس نے غسلِ جنابت کیا اس کے لیے وہی غسل غسلِ جمعہ کا بدل بن جاتا ہے۔البتہ اگر غسل کے بعد وضو ٹوٹ جائے تو پھر نمازِ جمعہ کے لیے وضو کرنا فرض ہے۔[1]

سیدنا عبداللہ بن عباس علیہما السلام سے پوچھا گیا کہ کیا یوم جمعہ کا غسل واجب ہے؟ انہوں نے جواباً فرمایا کہ نہیں ، بلکہ جو چاہے غسل کرلے۔میں تمہیں غسلِ جمعہ کی ابتدا ہونے کا سبب بتاتا ہوں۔ شروع میں اکثر لوگ غریب تھے اور اون کا بنا لباس پہنا کرتے تھے اور اپنی پشت پر کھجوریں لاد کر ادھر سے ادھر لایا کرتے تھے۔اس وقت مسجد نبوی بہت تنگ تھی اور اس کی چھت بھی نیچی تھی۔لوگوں کو اون کے لباس میں پسینہ آتا جس سے پسینے کی  بدبو پھیلتی تھی۔نبی ﷺ کا منبر زیادہ اونچا نہ تھا اس کے تین درجات تھے۔لوگوں کو ایک دوسرے کے پسینے کی بدبو سے اذیت پہنچتی تھی، نبی ﷺ نے منبر پر بھی یہ بدبو محسوس کی تو فرمایا  کہ اے لوگو جب تم جمعہ کے لیے آؤ تو (آنے سے پہلے) غسل کرلیا کرو  اوراگر تمہیں میسر ہو تو بہترین خوشبو لگاؤ۔[2]

سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ  میں نے کہ رسول اکرم ﷺ کو جمعہ کے روز منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ کتنا ہی اچھا ہو کہ اگر تم  یوم جمعہ کے لیے اپنی محنت مزدوری والے کپڑوں کے علاوہ دو کپڑے مزید خرید لو۔[3]

سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو منبر پر خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے دیکھا جبکہ آپ نے سیاہ رنگ کا عمامہ باندھا ہوا تھا۔[4]

سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے جمعہ کے روز خوب اچھی طرح غسل کیا  پھر اپنا بہترین لباس پہنا پھر (بالوں میں ) تیل لگایا اور خوشبو لگائی جو اللہ نے اس کے مقدر میں  لکھی ہے،پھر (مسجد میں) دو آدمیوں کے بیچ سے نہ پھلانگا تو اللہ تعالیٰ اس کے اگلے  اور اس جمعہ کے  مابین ہونے والے گناہ معاف کردیتا ہے۔[5]

سیدنا ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ہر بالغ مرد کو جمعہ کے روز غسل  اور مسواک کرنا چاہیے۔نیز جو اس کے مقدر میں ہو اس میں سے خوشبو لگائے خواہ اپنی اہلیہ کی خوشبو ہی کیوں نہ لگائے۔[6]

سیدنا سلمان الفارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ کوئی بندہ ایسا نہیں کہ جب وہ خوب اچھی طرح غسل کرکے نماز جمعہ کے لیے آئے پھر امام  کے نماز سے فارغ  ہونے تک خاموش رہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے اگلے  اور اس جمعہ کے  مابین ہونے والے گناہ معاف کردیتا ہے، سوائے بڑے بڑے گناہوں کے۔[7]

سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ  میں نے رسول اکرم ﷺ کو  فرماتے ہوئے سنا  کہ  جس نے جمعہ کے روز غسل کیا پھر اگر اسے میسر ہو تو خوشبو لگائی اور اپنا سب سے خوبصورت لباس زیبِ تن کیا پھر مسجد میں آگیا  اور کچھ نوافل ادا کیے اور کسی کو اذیت نہ پہنچائی اور امام  کے آنے سے نماز سے فارغ ہونے تک خاموش رہا  تو یہ اس کے لیے اگلے جمعے تک کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا۔[8]

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ہر سات دن بعد جمعہ کے روز غسل کرنا ہر مسلم کے لیے ضروری ہے۔[9]

سیدنا  عبداللہ بن عمر  رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا  عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ  خطبہ جمعہ ارشاد فرمارہے تھے کہ اس دوران ایک صحابی رسول  (سیدنا عثمان بن عفان ؓ) مسجد میں آئے۔ سیدنا  عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان سے کہنے لگے  کہ جمعہ کے لیے آنے کا یہ کونسا وقت ہے؟وہ صحابی کہنے لگے کہ اے امیرامؤمنین میں بازار سے لوٹا تو میں نے اذان کی آواز سنی  ، تب میں صرف وضو کرکے مسجد میں آگیا۔ سیدنا  عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہنےلگے کہ کیا صرف وضو ہی کیا ہے ؟ حالانکہ آپ جانتے  ہیں کہ رسول اکرم ﷺ غسلِ جمعہ کا حکم فرماتے تھے۔[10]

سیدنا  عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو واپس جا کر غسل  کرنے کا حکم نہیں دیا جس  میں دلیل ہے کہ نبی ﷺ کا غسلِ جمعہ کا حکم وجوب کے لیے نہیں بلکہ تاکید کے لیے تھا۔ جیسا کہ امام علی علیہ السلام اور سیدنا عبداللہ بن عباس علیہم السلام  نے صراحتاً فرمایا ہے۔

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے جمعہ کے روز صرف وضو کیا تو اچھا کیا مگر غسل کرنا افضل ہے۔[11]

سیدنا عبداللہ بن عباس علیہما السلام سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ کسی جمعہ کو غسل فرماتے اور کسی جمعہ کو غسل  ترک کردیتے تھے۔[12]

سیدنا علی علیہ السلام نے فرمایا کہ یومِ جمعہ کا غسل مستحب ہے واجب نہیں ہے۔[13]

 



[1] ابن قدامہ، المغنی والشرح الکبیر:2/199-201

[2] مسند احمد: رقم 2419، سنن ابوداؤد: رقم 353، صحیح ابن خزیمہ: رقم 1755

[3] سنن ابن ماجہ: رقم 1148

[4] سنن ابن ماجہ: رقم 1158

[5] مسند احمد: رقم 21902

[6] مسند احمد: رقم 11270

[7] مسند احمد: رقم 24119، رواہ البخاری معناہ برقم 883

[8] مسند احمد: رقم 23968

[9] مسند احمد: رقم 14316

[10] مسند احمد: رقم 199 

[11] مسند احمد: رقم 20436، رواہ ابوداؤد والترمذی والنسائی

[12] رواہ الطبرانی فی الکبیر، مجمع الزوائد: رقم 3070

[13] رواہ الطبرانی فی الاوسط ، مجمع الزوائد: رقم 3073

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading