2024-07-17
اصحاب رسول کو جنت کی بشارتیں
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبر امام المرسلین سیدنا و مولانا محمد عربی ﷺ کے ان اصحاب کو اپنی رضا اور جنت کی دائمی نعمتوں کی بشارت دی ہے، جنہوں نے نہ صرف رسول اکرم ﷺ کی دعوتِ توحید پر لبیک کہا بلکہ اپنے جان اور مال سے دینِ توحید کی سربلندی کے لیے جدوجہد کی۔

از قلم ساجد محمود انصاری

اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبر امام المرسلین سیدنا و مولانا محمد عربی ﷺ کے ان اصحاب کو اپنی رضا اور جنت کی دائمی نعمتوں کی بشارت دی ہے، جنہوں نے نہ صرف رسول اکرم ﷺ کی دعوتِ توحید پر لبیک کہا بلکہ اپنے جان اور مال سے دینِ توحید کی سربلندی کے لیے جدوجہد کی۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ

التوبۃ: آیت 100

مہاجرین اور انصار میں سے پہلے پہل ایمان میں سبقت کرنے والے صحابہ اور وہ  بھی کہ جنہوں نےاچھے طریقے سےان کی اتباع کی ، اللہ تعالیٰ ان  سب سے راضی ہوگیا  اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے باغات تیار کیے ہوئے ہیں جن میں سے نہریں بہتی ہیں، وہ ہمیشہ ان جنتوں میں رہیں گے، درحقیقت یہ عظیم کامیابی ہے۔

یہ آیتِ کریمہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جنتی ہونے کے بارے میں نصِ قطعی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے مہاجرین و انصار کے تعین کو لوگوں کی عقول پر نہیں چھوڑا بلکہ قرآن حکیم میں ہی وضاحت فرمادی کہ مہاجرین و انصار کون ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا وَيَنصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِن قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِّمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ۚ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ

الحشر: آیت 8-9

یہ( زکوٰۃ ) ان فقرا ئے مہاجرین کے لیے ہے جنہیں ان کے گھروں اور اموال سے بے دخل کیا گیا، جبکہ ان کا مقصد محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور خوشنودی کا حصول ہے،اور وہ اللہ اور اس کے رسول کی نصرت کرتے ہیں، یہی لوگ سچے ہیں۔ اور وہ  (انصار) بھی کہ جنہوں نے ان (مہاجرین) سے پہلے مدینہ منورہ کو آباد کیا اور ایمان لائے  اور اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے اظہارِ محبت کیااور جو ان مہاجرین کو عطا کیا گیا ہے اس بارے اپنے دلوں میں کوئی حاجت نہیں رکھتے، بلکہ اپنی جانوں پر انہیں ترجیح دیتے ہیں،چاہے وہ خود اس کے حاجتمند ہوں۔اور جس نے اپنے نفس کو طمع سے بچالیا وہی کامیاب ہے۔

ملاحظہ فرمائیں اللہ تعالیٰ نے مہاجرین و انصار کے بارے میں کتنا بلیغ بیان نازل فرمایا ہے اور کیسے ان کی تحسین فرمائی ہے۔کیا کوئی مؤمنِ صادق  ان مبارک ہستیوں کے بارے میں اپنے دل میں کوئی بدگمانی پال سکتا ہے؟اپنے جان و مال سے اللہ کے دین کی نصرت کرنے والے ان خوش نصیب  صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں کوئی تصور بھی کرسکتا ہے جن ہستیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے جنتی ہونے کا فیصلہ سنا دیا ہے، وہ کسی بھی دنیاوی لالچ یا کسی خوف کے زیرِ اثر دینِ حق سے منہ موڑ  کر منافقت کی راہ پر چل سکتے ہیں؟ اللہ کا ابدی پیغام جن ہستیوں کو جنتی ہونے کی بشارت دے چکا ہے کیا وہ ہستیاں اپنے نبی ﷺ کے دین سے پھر سکتی ہیں؟ ہرگز نہیں، یقیناً ان سوالوں کا جواب نفی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن ہستیوں کو اپنی رضا اور جنت کی بشارت دی ہے، ان کی کفر یا نفاق پر موت واقع نہیں ہوسکتی۔ اگر ان سے کوئی خطا یا لغزش ہوئی بھی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں مرنے سے پہلے توبہ کی توفیق عطا فرمادی۔

 یہ خوش نصیب لوگ بنی نوعِ انسان  ہی سے تعلق رکھتے تھے اور بشری تقاضوں کے پیشِ نظر ان سےبھی بھول چوک، لغزش یا خطا کاصدور ممکن تھا۔ یہ معصﷺم عن الخطا ہرگز نہیں تھے۔اگر کسی صحابی سے  سے کسی معاملہ میں لغزش ہوجاتی تھی تو وہ فوراً توبہ کرتے تھے اور اپنے رب کو راضی کرلیتے تھے۔اللہ تعالیٰ بھی ان کی توبہ قبول کرکے ان کی خطاؤں سے درگزر فرمادیتے تھے۔قرآن حکیم سے اس کی ایک سے زائد مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ نے ہجرتِ نبوی ﷺ کے وقت مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا فرض کردیا تھا، مگر بعض کمزور مرد، خواتین اور بچے ہجرت نہ کرسکے تھے۔بظاہر یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نافرمانی تھی، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی کمزوری، لاچاری  اور بے بسی کو عذر مان کر ان کی اس لغزش سے درگزر فرمادیا۔

 اِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنْتُمْ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوا فِيهَا فَأُولَئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَسَاءَتْ مَصِيرًا  إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا فَأُولَئِكَ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَعْفُوَ عَنْهُمْ وَكَانَ اللَّهُ عَفُوًّا غَفُورًا

النسأ: آیت 97-98

بے شک جب فرشتے ان لوگوں کی روح قبض کرتے ہیں جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے ، تو وہ (فرستے) ان سے کہتے ہیں کہ تم دنیا میں کس حال میں تھے؟ وہ (ظالم لوگ) کہتے ہیں کہ ہم زمین میں کمزور تھے، تب وہ (فرشتے) ان سے کہتے ہیں کیااللہ کی زمین وسیع نہیں ہے؟ تم نے ہجرت کیوں نہ کی؟  ان سب کا ٹھکانہ جہنم ہے اور یہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔ہاں سوائے ان کمزور مردوں ، عورتوں اور بچوں کے جن کے پاس نہ تو ہجرت کے اسباب ہی تھے اور نہ ہی وہ راستے سے واقف تھے۔ پس اللہ تعالیٰ انہیں معاف کردے گا  کیوں کہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔

غزوہ ٔبدر کے موقعہ پر جب کفار ِ مکہ نے  مدینہ منورہ پر لشکرکشی کی تو نبی ﷺ نے مدینہ منورہ کی حدود سے باہر بدر نامی وادی میں کفار کو روکنے کا فیصلہ کیا۔آپ ﷺ کو اطلاع مل چکی تھی کہ کفار تقریباً ایک ہزار کا لشکر لے کر حملہ آور ہیں۔ مسلمانوں کی تعداد ابھی بہت کم تھی، مگر اس کے باوجود نبی ﷺ نے نفیرِ عام نہیں کی تھی۔کچھ لوگ تو عذرِ شرعی کی بنا پر جنگ میں نہ جاسکتے تھے ، جیسے نابینا اور اپاہج ۔ البتہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو نبی ﷺ نے اپنی بیٹی  اور سیدنا عثمان ؓ کی بیوی سیدہ رقیہ علیہا السلام کی تیمارداری کے لیے ان کو مدینہ میں ٹھہرنے کا حکم ارشاد فرمایا تھا۔ لیکن بعض انصار محض کاہلی کی وجہ سے غزوہ بدر میں شریک نہ ہوسکے۔نفیرِ عام نہ ہونے کے باوجود مسلمانوں کی قلتِ تعداد اور بیعتِ عقبہ میں نصرتِ رسول ﷺ کے وعدہ کے سبب ان پیچھے رہ جانے والے مسلمانوں  کے اس طرزِ عمل پر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں  ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا:

لَّا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ۚ فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى الْقَاعِدِينَ دَرَجَةً ۚ وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ أَجْرًا عَظِيمًا دَرَجَاتٍ مِّنْهُ وَمَغْفِرَةً وَرَحْمَةً ۚ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا

النسأ: 95-96

اللہ کے راستے میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرنے والوں کی برابری بلا عذر گھر بیٹھ رہنے والے نہیں کرسکتے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے مال اور جان سے جہاد کرنے والوں کوان  بیٹھ رہنے والوں پر فضیلت دی ہے، ان دونوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا  حسین وعدہ ہے، اللہ تعالیٰ نے جہاد کرنے والوں کو اجر عظیم کی صورت میں بیٹھ رہنے والوں پر فضیلت، اعلیٰ درجات، مغفرت اور رحمت  عطا فرمائی ہے۔ہاں اللہ تعالیٰ بخشنے والا  ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

اگرچہ اس آیتِ مبارکہ میں بظاہر غزوۂ بدر سے پیچھے رہ جانے والے  بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تنبیہہ کی گئی ہے، مگر  ساتھ ہی دشمنانِ صحابہ رضی اللہ عنہم کا منہ بھی بند فرمادیا ہے ، یہ اعلان کرکے کہ وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَىٰ (یعنی غزوہ بدر میں شامل ہونے والوں اور پیچھے رہ جانے والے) دونوں گروہِ صحابہ کے لیے اللہ کا حسین وعدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ حسین وعدہ جنت کے سوا کیا ہے؟ اس آیتِ کریمہ کی رو سے  نہ صرف مہاجرین و انصار سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنتی ہیں،  بلکہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی کردار کشی کرنے والوں کے منہ بھی کالے ہوجاتے ہیں۔واللہ المستعان

یہی انداز سورۃ الحدید میں ملتا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

لَا یَسْتَوِیْ مِنْکُمْ مَنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ اُولٰئِکَ اَعْظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْم بَعْدُ وَقَاتَلُوْا وَکُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْر

(سورۃ الحدید:10)

تم میں سے کوئی ان صحابہ کی برابری نہیں کرسکتا جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے اللہ کی راہ میں مال خرچ کیا اور جہاد کیا، وہ صحابہ ان لوگوں سے مرتبہ میں بڑے ہیں جنہوں نے فتح مکہ کے بعد اللہ کی راہ میں مال خرچ کیا اور جہاد کیا۔ اگرچہ اللہ کا ان دونوں گروہوں سے حسین وعدہ ہے۔اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔

معلوم ہوا کہ وَکُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی کی بشارت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے ہر گروہ کے لیے ہے خواہ وہ سابقون الاولون میں سے ہوں یا فتح مکہ کے بعد ایمان لانے والے ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام صحابہ کرام سے جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔

مذکورہ بالا آیات سے یہ بات واضح ہے کہ کسی شخص کے بارے میں یہ تحقیق تو کی جاسکتی ہے کہ آیا وہ صحابی ہے یا نہیں، مگر جس شخص کے بارے میں صحابی ٔرسول ہونا ثابت ہوجائے اس کے جنتی ہونے میں شک کرنا ایمان سے محروم ہونے کے مترادف ہے، کیونکہ قرآن حکیم کی رو سے تمام صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم یقیناً جنتی ہیں۔لہٰذا فتح مکہ کے بعد ایمان لانے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان میں شک کرنا کفر تک لے جاتا ہے۔

مذکورہ بالا آیات مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے بعض صحابکہ کرام رضی اللہ عنہم کی کوتاہیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان سے جنت کا وعدہ فرمایا ہے، اس میں ہمارے لیے یہ سبق پوشیدہ ہے کہ ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی لغزشوں کو تلاش کرنے اور ان کی تشہیر کرنے میں وقت ضائع کرکے اپنا ایمان ضائع مت کریں، بلکہ ان لغزشوں سے چسم پوشی اختیار کریں، اس امید کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ہماری سیاہ کاریوں سے چشم پوشی اختیار کرے گا۔ان شا اللہ

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading