2024-07-17

 

امام مہدی سلام اللہ علیہ کی پہچان

امام مہدی سلام اللہ علیہ کی پہچان

رسول اکرم ﷺ نے آخری زمانہ میں قیامت کے قریب ایک ہاشمی عادل بادشاہ کی حکومت کی پیشگوئی فرمائی ہے جو متعدد احادیث میں بیان ہوئی ہے۔جیسا کہ درج ذیل احادیث مبارکہ:

سیدنا علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خواہ قیامت میں ایک دن ہی کیوں نہ باقی  رہ جائے ، اللہ تعالیٰ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کو مبعوث فرمائیں گے جو زمین کو عدل و انصاف سے بھردے گا جیسے پہلے ظلم سے بھری ہوگی۔

مسند امام احمد، رقم 773

سیدہ ام سلمہ علیہا السلام سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: مہدی میرے اہلِ بیت سے سیدہ فاطمہ علیہا السلام  کی اولاد میں سے ہوں گے ۔

سنن ابوداؤد: رقم 4284

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب میری امت کے لوگوں میں اختلاف زوروں پر ہوگا اور زلزلے آرہے ہوں گے، میں تمہیں مہدی کی بشارت دیتا ہوں جو زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا، جیسے اس سے پہلے یہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہو گی، آسمان والے اور زمین والے سب ہی اس سے خوش ہوں گے، وہ لوگوں کے درمیان مساوات کے ساتھ مال و دولت تقسیم کرے گا اور اللہ تعالیٰ امت ِ محمد  ﷺ کے دلوں کو غنا سے بھر دے گا، اس کا عدل و انصاف ہر ایک کو پہنچے گا، وہ ایک منادی کرنے والے کو حکم دے گا، پھر وہ یہ اعلان کرے گا کہ کس کو مال کی ضرورت ہے۔ یہ اعلان سن کر صرف ایک آدمی اٹھے گا، مہدی اس سے کہے گا: جا اورخزانچی سے کہو کہ مہدی تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم مجھے مال و دولت دو، وہ خزانچی اس سے کہے گا کہ تم جس قدر لینا چاہتے ہو اٹھالو، جب وہ اپنی جھولی میں بہت سا مال لے کر اسے باندھے گا تو خودہی نادم ہو کر کہے گا: امت محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میں میں ہی زیادہ بے صبرا نکلا، جو چیز ان سب کو پہنچ گئی، کیا وہ مجھ سے ہی عاجز آ گئی ہے، سو وہ اس مال کو واپس کرے گا، لیکن مہدی اس سے قبول نہیں کرے گا اور اسے کہا جائے گا: ہم جو چیز دے دیں وہ واپس نہیں لیتے۔ سات یا آٹھ یا نو سال اسی طرح خوش حالی کا دور دورہ رہے گا، اس کے بعد زندہ رہنے میں کوئی خیر نہیں ہوگی۔

مسند احمد: رقم 11346

سیدہ ام سلمہ علیہ السلام سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ایک حکمران کی وفات کے وقت لوگوں میں اختلاف واقع ہوگا۔اہل مدینہ میں سے ایک شخص اقتدار کی ذمہ داری سے بچنے کے لیے مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ چلا جائے گا۔تاہم اہلِ مکہ اسے ڈھونڈ نکالیں گےجبکہ وہ شخص اس سے بچنے کی کوشش کرے گا پھر اہلِ مکہ مقام ابراہیم اور حجر اسود والے کونے کے درمیان اس شخص کے ہاتھ پر بیعت کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ شخص لوگوں میں مساوی مال تقسیم کرے گا اور نبی ﷺ کی سنت کے مطابق حکومت کے امور سرانجام دے گا اور زمین پر اسلام کا اصل نظام قائم کرے گا۔اس کی حکومت سات  سال قائم رہے گی پھر وہ وفات پاجائے گا اور لوگ اس کا نماز جنازہ ادا کریں گے۔

 

سنن ابوداؤد: رقم4286

امام مہدی سلام اللہ علیہ کے بارے میں رسول اکرم ﷺ کی پیش گوئی کو بنیاد بنا کر ماضی میں سینکڑوں لوگ ایسے گزرے ہیں جنہوں نے امام مہدی ہونے کا دعویٰ کیا۔ آج بھی یہ سلسلہ امت مسلمہ میں جاری ہے اور مختلف قماش کے لوگ امام مہدی ہونے کے مدعی ہیں۔ مگر جو بھی شخص رسول اکرم ﷺ کے فرامین پر غور کرے گا اس  کے لیے امام مہدی کو پہچاننا ذرا بھی مشکل نہ ہوگا۔ مذکورہ بالا احادیث سےامام مہدی کے بارے میں درج ذیل نکات واضح ہوکر سامنے آتے ہیں:

1۔ امام مہدی نبی ﷺ کے اہلِ بیت خاص یعنی امام علی علیہ السلام کی فاطمی  اولاد میں سے ہوں گے۔

2۔ امام مہدی مدینہ منورہ کے باشندوں میں سے ہوں گے۔کسی عجمی ملک سے ہجرت کرکے نہیں آئیں گے۔

3۔امام مہدی کی حکومت امت مسلمہ بالخصوص جزیرۃ العرب پر قائم ہوگی۔

4۔امام مہدی کی حکومت  کم ا زکم سات سال اور زیادہ سے زیادہ دس سال قائم رہے گی۔

5۔ امام مہدی کی حکومت سے پہلے کثرت سے زلزلے آئیں گے۔

6۔امام مہدی کی عادلانہ حکومت میں مال کی تقسیم لوگوں میں مساوات کی بنیاد پر کی جائے گی۔گویا امیروغریب کا فرق مٹ جائے گا۔

امام مہدی کے بارے میں کسی بھی صحیح حدیث میں مذکور نہیں کہ وہ مافوق الفطرت امور سر انجام دیں گے ، نہ ہی ان کی تصدیق کے لیے ان کے اشاروں پر معجزات کا ظہور ہوگا اور نہ ہی وہ اپنی حکومت کا خود اعلان کریں گے بلکہ علمائے امت انہیں پہچان کو خود ان سے حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے کی درخوست کریں گے جس پر وہ آسانی سے راضی نہیں ہوں گے۔

امام مہدی امام علی علیہ السلام کے علم و حکمت کا خزانہ اپنے قلب میں سمیٹے ہوئے ہوں گے اور قرآن و سنت کے مطابق اہلِ بیت علیہم السلام کے اصل  مسلک کے مطابق زندگی گزاریں گے اور اسی اصل پر امت کی قیادت کریں گے۔امام مہدی اپنی پیدائش سے موت تک سنت پر عامل رہیں گے، وہ زندگی کے کسی بھی دور میں فاسق و فاجر نہیں ہوں گے جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ پہلے وہ فسق و فجور کی زندگی بسر کررہے ہوں گے پھر اللہ ان کی توبہ قبول کرکے ان کی اصلاح کردے گا ۔ ایک  صحیح حدیث کی غلط تشریح پر مبنی یہ تصورقرآن حکیم کی آیتِ تطہیر کے منافی ہے۔لہٰذا کبھی کوئی فاسق و فاجر شخص امام مہدی نہیں بن سکتا۔جب آپ ان خطوط پر غور کریں گے تو مرزا غلام احمد قادیانی کذاب اور اسی قماش کے دوسرے لوگ جیسے  حالیہ زمانے میں محمد قاسم کذاب وغیرہ امام مہدی نہیں ہوسکتے۔

خراسان سے امام مہدی کی سیاہ جھنڈوں کے سائے تلے سرزمین عرب آمد والی روایت انتہائی ضعیف ہے، اس کے راوی ابوقلابہ کے بارے میں امام ابن حجر عسقلانیؒ نے تقریب التہذیب میں لکھا ہے کہ اس میں ناصبیت کے جراثیم پائے جاتے ہیں۔ اس ناصبی کا سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے سماع  بھی ثابت نہیں۔امام احمد بن حنبل ؒنے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے (کتاب العلل ، عبداللہ بن احمد، رقم 2443) مصنف ابن ابی شیبہ کی کالے جھنڈوں والی ایک روایت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف بھی منسوب ہے ، اس حدیث کو بھی امام احمد بن حنبل ؒنے ضعیف قرار دیا ہے۔(کتاب العلل ، عبداللہ بن احمد، رقم 5985) لہٰذا کالے جھنڈوں کے  ذریعے عوام کو بےوقوف  بنانے، ان کا ایمان سلب کرنےاور نوجوانوں کودھشت گرد بنانے کا سلسلہ اب بند ہوجانا چاہیے۔  

 

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading