2024-07-17

خبرِ وَاحِد کی حُجِّیَت

 خبرِ وَاحِد کی حُجِّیَت

از قلم ساجد محمود انصاری

ایسی صحیح حدیث جس کے ہر طبقہ میں صرف ایک یا دو  راوی ہوں اسے خبر واحد کہتے ہیں، جس کی جمع اخبارِ احّاد ہے۔احادیث کا ایک بہت بڑا مجموعہ اخبارِ احاد پر مشتمل ہے۔ لہٰذا سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا خبرِ واحد حجتِ شرعی بن سکتی ہے؟ اہلِ سنت کا اجماع ہے کہ خبرِ واحد حجتِ شرعی ہے۔

قرآن و سنت میں خبرِ واحد کی حجیت پر متعدد دلائل موجود ہیں جن میں سے چند دلائل ہدیۂ قارئین ہیں۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا

الحجرات: 6

ترجمہ:اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق کوئی اہم خبر لے کر آئے تو اس کی خوب تحقیق کرلیا کرو۔

اس آیتِ مبارکہ میں فاسق کی خبر پربغیر تحقیق یقین کرنے سے منع کیا گیا ہے، اسی کا تقاضہ ہے کہ اگر خبر دینے والا (راوی) عادل و صادق ہو تو اس کی خبر قبول کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔پس اس آیتِ مبارکہ سے  اصطلاحی خبرِ واحد کو قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کا جواز ثابت ہوتا ہے۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود ، سیدنا زید بن ثابت الانصاری اور سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہم نے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان روایت کیا ہے

نَضَّرَ اللّٰہُ اِمْرَئً سَمِعَ مِنَّا حَدِیْثًا فَحَفِظَہُ حَتَّی یُبَلِّغَہُ غَیْرَہُ

مسند احمد: رقم 4157، 16859، 21923

ترجمہ: اللہ تعالیٰ اس شخص کو پھلتا پھولتا رکھے جو ہماری حدیث سنے، اسے یاد رکھے اوراسے دوسروں تک پہنچا دے۔

اس حدیث سےواضح ہوجاتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ہر فردِ واحد کے ذمہ یہ کام لگایا کہ وہ رسول اکرم ﷺ کی حدیث یاد کرکے دوسروں تک پہنچائے۔ دوسروں تک پہنچانے کا مقصد تبلیغ برائے تبلیغ نہیں ہے بلکہ اس تبلیغ کا مقصد عمل بالحدیث ہے۔ اگر خبرِ واحد حجت نہ ہوتی تو فردِ واحد کی تبلیغ سے تعلیمِ حدیث کا مقصد پورا نہ ہوتا۔پس اس حدیث سے لازم آتا ہے کہ خبرِ واحد حجتِ شرعی تسلیم کی جائے ورنہ معاذاللہ نبی ﷺ کی طرف ایک لایعنی بات کی نسبت ماننا پڑے گی جو کہ محال ہے۔

اُمِّ عمروبن سُلیم کہتی ہیں: ہم منیٰ میں تھے کہ جب  سیدنا علی بن ابی طالب علیہ السلام نے یہ بآوازِ بلند کہنا شروع کر دیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے  کہ یہ کھانے پینے کے دن ہیں، لہذا کوئی آدمی ان دنوں کا روزہ نہ رکھے۔ وہ اونٹ پر سوار تھے، لوگوں کو اپنے پیچھے لگا رکھا تھا اور بآواز بلند یہ اعلان کرتے جا رہے تھے۔

مسند احمد: رقم 567

روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے منیٰ میں یہ اعلان کرنے کے لیے ایک سے زائد صحابہ کی ڈیوٹی لگائی تھی تاکہ منیٰ کہ ہر کونے تک آپ ﷺ کا یہ پیغام پہنچ جائے اور کوئی بھی شخص اس سے بے خبر نہ رہے۔اگر خبرِ واحد حجتِ شرعی نہ ہوتی تو نبی ﷺ مختلف افراد کو مختلف گوشوں کی طرف بھیجنے کی بجائے ایک جماعت ارسال فرماتے جس کے ذمہ ہر فرد تک آپکا پیغام پہنچانا ہوتا، مگر نبی ﷺ نے ایسا کرنے کی بجائے چند ایک صحابہ ؓ  کو الگ الگ سمتوں میں بھیجنے پر اکتفا فرمایا تاکہ کم وقت میں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پیغام پہنچایا جاسکے۔

سیّدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں کہ قباء میں کچھ لوگ نمازِ فجر ادا کررہے تھے، ان کے پاس ایک آنے والے نے آکر کہا: رات رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر قرآن نازل ہوا ہے ، جس کے مطابق آپ کو کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے تم بھی اس کی طرف منہ کرلو۔ ان لوگوں کے چہرے شام (یعنی بیت المقدس) کی طرف تھے، وہ (یہ اعلان سن کر) کعبہ کی طرف پھر گئے۔

مسند احمد: رقم 5934، صحیح البخاری: رقم 403، صحیح مسلم: رقم 526،جامع الترمذی: رقم 341

ظاہر ہے رسول اکرم ﷺ نے تحویلِ قبلہ کا اعلان کرنے کے لیے کسی ایسے شخص کو ہی قبا بھیجا ہوگا جسے اہلِ قبا خوب جانتے پہچانتے تھے، یہی سبب ہے کہ انہوں نے نماز کے دوران ہی اس شخص کو پہچان کر اس کی خبر کے مطابق بیت المقدس سے رخ بیت اللہ کی طرف پھیر لیا۔ اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اعتقاد یہ ہوتا کہ خبرِ واحد حجت نہیں تو وہ کم از کم نماز مکمل کرلیتے اور بعد میں تحقیق اور اطمینان کرکے تحویلِ قبلہ کے حکم پر عمل کرتے، مگر انہوں نے تو کمال نیاز مندی اور اطاعت شعاری کا مظاہرہ کیا اور نبی ﷺ کا پیغام ملتے ہی نماز کے دوران ہی قبلہ تبدیل کرلیا۔

سیدنا انس ‌ بن مالک رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو عبیدہ بن جراح، سیدنا ابی بن کعب، سیدنا سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہم  اور صحابہ کرام کی ایک جماعت کوسیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں شراب پلا رہا تھا، تقریباً شراب اپنا اثر ان میں دکھا چکی تھی کہ ایک مسلمان آیا اور اس نے کہا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ شراب حرام ہو چکی ہے؟ انہوں نے جواباً یہ نہیں کہا کہ اچھا ہم دیکھتے ہیں یا کسی اور سے پوچھتے ہیں، بلکہ انہوں نے فوراً حکم دیا: اے انس! جو برتن میں باقی ہے، اسے انڈیل دو، اللہ کی قسم! اس کے بعد انہوں نے شراب کودیکھا تک نہیں، اس دور میں وہ عام طور پر شراب خشک کھجور اور کچی کھجور سے بناتے تھے۔

مسند احمد: رقم    ، صحیح البخاری :رقم 5582، صحیح مسلم: رقم 1980

یہ واقعہ شراب کی حرمت کا  اعلان ہونے سے پہلے کا ہے، جبکہ  بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حرمت کا حکم نازل ہونے سے پہلےشراب پی لیا کرتے تھے۔ لیکن جب ایک مسلمان نے ان کو اطلاع دی کی شراب حرام کردی گئی ہے تو انہوں نے اسی وقت شراب انڈیل دی، اس تحقیق میں نہیں پڑے کہ کہیں یہ شخص جھوٹ تو نہیں بول رہا۔ظاہر ہے کہ یہ ایسا شخص ہوگا جس کی صداقت پر ان کو اعتماد رہا ہوگا۔

 رسول اکرم ﷺ نے مختلف علاقوں میں اپنے والی مقرر فرمائے جو ان میں قرآن و سنت کے احکام جاری فرماتے تھے۔ ظاہر ہے کہ یہ سب والیان یا امرا فرداً فرداً اخبار احاد ہی متعلقہ علاقے تک پہنچاتے تھے، جن پر عمل کرنا اہلِ علاقہ پر لازم تھا۔اگر نبی ﷺ کے نزدیک خبرِ واحد حجت نہ ہوتی تو آپ ﷺ ہر علاقہ کی طرف ایک ایک والی بھیجنے کی بجائے لازماً ایک جماعت بھیجتے، مگر نبی ﷺ نے ایسا نہیں کیا جس کا مطلب صاف ہے کہ نبی ﷺ کے نزدیک خبرِ واحد حجت ہے۔

ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ اخبار احاد حجتِ شرعی ہیں، ان پر عمل کرنا عین شریعت کا تقاضہ ہے۔ ہم اپنے دوسرے مضمون ’’ حاکمیتِ قرآن ‘‘ میں  تفصیل سے بتا چکے ہیں کہ اخبارِ احاد حجتِ شرعی ہونے کے باوجود بہر کیف سنتِ مشہورہ مستفاضہ کے پائے کی روایات نہیں ہیں۔کیوں کہ سنتِ مستفاضہ  حجتِ قطعی ہے جبکہ خبرِ واحد حجتِ ظنی ہے۔ ظن سے یہاں مراد غالب گمان ہے۔ اگر حجتِ ظنی اور حجتِ قطعی میں تعارض ہو  اور جمع و تطبیق کی بھی کوئی سبیل نظر نہ آتی ہو تو حجتِ قطعی کو ترجیح حاصل ہوتی ہے۔   

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading