2024-07-17
مناقب امام علی

مناقب امام علی

بلا شبہہ دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم کی تعلیم و تربیت بھی رسول اکرم ﷺ نے فرمائی مگر امام علی علیہ السلام نے جس طرح آپ ﷺ کی ہمہ وقتی تربیت کا فیض پایہ اس میں کوئی دوسرا  صحابی آپ کا شریک نہیں۔چناں چہ امام علی علیہ السلام  نےعلومِ نبوت کے جو اسرارو حقائق  منکشف فرمائے ان میں کوئی آپ کا ثانی نہیں۔

امام علی علیہ السلام کے اسی علمی تفوق و امتیاز کا ذکر رسول اکرم ﷺ کے درج ذیل فرمان میں کیا گیا ہے:

سیدنا علی علیہ السلام سےمروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا

اَنَا دَارُالْحِکمَۃِ و عَلِیٌّ بَابُھَا [3]
میں حکمت کا گھر ہوں اور علی (علیہ السلام) اس کا دروازہ ہیں۔

سیدنا عبداللہ بن عباس علیہما السلام کی روایت میں الفاظ یوں ہیں:

أَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ وَعَلِيٌّ بَابُهَا فَمَنْ أَرَادَ الْعِلْمَ فَلْيَأْتِهِ مِنْ بَابِهِ [4]

میں علم کا شہر ہوں اور علی (علیہ السلام) اس کا دروازہ ہیں، پس جو شخص علم حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اس دروازے سے علم کی دنیا میں داخل ہو۔

امام حاکم نیشاپوری ؒ نے یہ حدیث نقل کرنے کے بعد فرمایا :

هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ

اس حدیث کی سند صحیح ہے، البتہ امام بخاری ؒ اور امام مسلم ؒ نے اسے نقل نہیں کیا۔جبکہ حافظ ابن حجر العسقلانیؒ اور حافظ ابوسعید علائی ؒ نے اسے حسن قرار دیا ہے۔[5]  لہٰذا اس حدیث کے موضوع  یا منکر ہونے کا دعویٰ  درست نہیں ہے۔ واللہ اعلم

امام عبدالرحمٰن ابن الجوزی الحنبلی ؒامام علی علیہ السلام کے بارے میں فرماتے ہیں

وَكَانَ كبراء الصَّحَابَة يرجعُونَ إِلَيْهِ فِي رَأْيه وَعلمه، حَتَّى كَانَ عمر يتَعَوَّذ من معضلة لَيْسَ لَهَا أَبُو حسن

اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین امام علی علیہ السلام کی فقہی رائے اور علم کی طرف مراجعت فرمایا کرتے تھے،  حتیٰ کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کسی بھی ایسے مسئلے سے پناہ مانگا کرتے تھے ، جسے حل کرنے کے لیے امام علی علیہ السلام موجود نہ ہوں۔[6]
اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ امام علی علیہ السلام صرف اہلِ بیت رسول علیہم الصلوات والسلام کے لیے ہی نہیں بلکہ اکابرصحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے نزدیک مرجعِ شریعت کا درجہ رکھتے تھے۔

رسول اکرم ﷺ نےحجۃ الوداع سے واپسی پر معمول کے مطابق مکہ  مکرمہ اور مدینہ منورہ  کے درمیان رابغ کے قریب واقع پانی کے ایک چشمے (گھاٹ) کے پاس  پڑاؤ ڈالا، یہ چشمہ غَدیرِ خُم کے نام سے معروف تھا۔ مکہ مکرمہ  اور مدینہ منورہ  کے درمیان سفر کرنے والے اکثر قافلے سستانے اور اپنے جانوروں کو پانی پلانے کے لیے اس چشمے کے پاس قیام کیا کرتے تھے۔

رسول اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع  سے پہلے ایک مہم سیدنا علی بن ابی طالب علیہ السلام کی قیادت میں یمن روانہ فرمائی تھی، جس میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی اور بہت سا  مالِ غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا جن میں بہت سے اونٹ بھی شامل تھے۔ امام علی علیہ السلام نبی ﷺ کی ہدایت پر یہ مالِ غنیمت لے کر مکہ مکرمہ پہنچے اور انہوں نے اور آپکے ساتھ مہم پر جانے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی نبی ﷺ کے ساتھ حج ادا کیا۔ اس دوران یمنی مہم میں شامل سیدنا بریدۃ الاسلمی رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے سیدنا علی بن ابی طالب علیہ السلام کی شکایت کی۔جس پر نبی ﷺ غضبناک ہوئے اور سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کو سخت ڈانٹ پلا دی۔  اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے:

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ بُرَیْدَۃَ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ عَلِیٍّ الْیَمَنَ فَرَأَیْتُ مِنْہُ جَفْوَۃً، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرْتُ عَلِیًّا فَتَنَقَّصْتُہُ، فَرَأَیْتُ وَجْہَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَغَیَّرُ، فَقَالَ: ((یَا بُرَیْدَۃُ! أَلَسْتُ أَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِینَ مِنْ أَنْفُسِہِمْ۔)) قُلْتُ: بَلٰی یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ، مَنْ کُنْتُ وَلِیَّہٗ فَعَلِیٌّ وَلِیُّہٗ۔))[7]

اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین

سیدنا بریدۃ  الاسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیّدُنا علی علیہ السلام کے ساتھ یمن کے غزوہ میں شرکت کی جس میں مجھے آپ سے کچھ شکوہ ہوا۔ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سیدنا علی علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے ان کی تنقیص کی۔ اسی لمحے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک (کا رنگ) متغیر ہوتے ہوئے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بریدہ! کیا میں مومنوں پر  ان کی جانوں سے  زیادہ اختیار نہیں رکھتا؟ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیوں نہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ.

جس کا میں مولا  (آقا) ہوں اس کا علی مولا (آقا) ہے۔

امام ذہبی ؒ نے فرمایا کہ مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ حدیث متواتر ہے۔[8]

 امام ذہبی  ؒنے ہی اس حدیث کے 120 کے قریب طرق ایک رسالہ میں جمع کردئیے ہیں، جس میں بارہ سے زائد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مرویات شامل ہیں۔ ان سے پہلے امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے خصائصِ علی علیہ السلام کے عنوان سے ایک مستقل رسالہ لکھا جس میں امام علی علیہ السلام کے اکثر فضائل و مناقب جمع کردئیے ہیں۔اس رسالہ میں بھی حدیثِ غدیرِ خُم کے متعدد طرق شامل ہیں۔

سیدنا بریدۃ الاسلمی رضی اللہ عنہ کے شکوہ کی تفصیل مسند احمد کی درج ذیل روایت میں مذکور ہے:

فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ حَدَّثَنِی أَبِی بُرَیْدَۃُ قَالَ أَبْغَضْتُ عَلِیًّا بُغْضًا لَمْ یُبْغِضْہُ أَحَدٌ قَطُّ قَالَ وَأَحْبَبْتُ رَجُلًا مِنْ قُرَیْشٍ لَمْ أُحِبَّہُ إِلَّا عَلٰی بُغْضِہِ عَلِیًّا قَالَ فَبُعِثَ ذٰلِکَ الرَّجُلُ عَلٰی خَیْلٍ فَصَحِبْتُہُ مَا أَصْحَبُہُ إِلَّا عَلٰی بُغْضِہِ عَلِیًّا قَالَ فَأَصَبْنَا سَبْیًا، قَالَ فَکَتَبَ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابْعَثْ إِلَیْنَا مَنْ یُخَمِّسُہُ قَالَ فَبَعَثَ إِلَیْنَا عَلِیًّا وَفِی السَّبْیِ وَصِیفَۃٌ ہِیَ أَفْضَلُ مِنَ السَّبْیِ فَخَمَّسَ وَقَسَمَ فَخَرَجَ رَأْسُہُ مُغَطًّی فَقُلْنَا: یَا أَبَا الْحَسَنِ! مَا ہٰذَا؟ قَالَ: أَلَمْ تَرَوْا إِلَی الْوَصِیفَۃِ الَّتِی کَانَتْ فِی السَّبْیِ؟ فَإِنِّی قَسَمْتُ وَخَمَّسْتُ فَصَارَتْ فِی الْخُمُسِ ثُمَّ صَارَتْ فِی أَہْلِ بَیْتِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ صَارَتْ فِی آلِ عَلِیٍّ وَوَقَعْتُ بِہَا، قَالَ فَکَتَبَ الرَّجُلُ إِلٰی نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ ابْعَثْنِی فَبَعَثَنِی مُصَدِّقًا قَالَ فَجَعَلْتُ أَقْرَأُ الْکِتَابَ وَأَقُولُ صَدَقَ قَالَ فَأَمْسَکَ یَدِی وَالْکِتَابَ وَقَالَ أَتُبْغِضُ عَلِیًّا قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَلَا تُبْغِضْہُ وَإِنْ کُنْتَ تُحِبُّہُ فَازْدَدْ لَہُ حُبًّا فَوَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَنَصِیبُ آلِ عَلِیٍّ فِی الْخُمُسِ أَفْضَلُ مِنْ وَصِیفَۃٍ قَالَ فَمَا کَانَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ بَعْدَ قَوْلِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ عَلِیٍّ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ فَوَالَّذِی لَا إِلٰہَ غَیْرُہُ مَا بَیْنِی وَبَیْنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی ہٰذَا الْحَدِیثِ غَیْرُأَبِی بُرَیْدَۃَ۔ [9]

سیدنا عبد اللہ بن بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے میرے باپ سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: مجھے سیدنا علی ‌ علیہ السلام سے سخت بغض تھا، اتنا کسی بھی دوسرے سے نہیں تھا حتیٰ کہ مجھے قریش کے ایک آدمی سے بہت زیادہ محبت صرف اس لیے تھی کہ وہ سیدنا علی ‌ علیہ السلام سے بغض رکھتا تھا، اس آدمی کو امیر کا لشکر بنا کر بھیجا گیا،میں صرف اس لیے اس کا ہمرکاب ہوا کہ اسے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بغض تھا، ہم نے لونڈیاں حاصل کیں، امیر لشکر نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پیغام بھیجا کہ ہمارے پاس وہ آدمی بھیج دیں، جو مال غنیمت کے پانچ حصے کرے اور اسے تقسیم کرے، آپ نے ہمارے پاس سیدنا علی ‌ علیہ السلام کو بھیج دیا، انہوں نے مال تقسیم کیا، قیدی عورتوں میں ایک ایسی لونڈی تھی، جو کہ سب قیدیوں میں سے بہتر تھی، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مال غنیمت کے پانچ حصے کئے اور پھر اسے تقسیم کر دیا۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب  (اپنے خیمے سے)باہر آئے تو ان کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے اور سر ڈھانپا ہوا تھا۔ ہم نے کہا: اے ابو الحسن! یہ کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے کہا: کیا تم نے دیکھا نہیں کہ قیدیوں میں یہ لونڈی میرے حصہ میں آئی ہے، میں نے مال غنیمت پانچ حصے کرکے تقسیم کر دیا ہے، یہ پانچویں حصہ میں آئی ہے جو کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل بیت کے لیے ہے اور پھر اہل بیت میں سے ایک حصہ آل علی کا ہے اور یہ لونڈی اس میں سے میرے حصہ میں آئی ہے اور میں نے اس سے جماع کیا ہے، اس آدمی نے جو سیدنا علی ‌ علیہ السلام سے بغض رکھتا تھا، اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جانب خط لکھا، سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے اس سے کہا: یہ خط مجھے دے کر بھیجو، اس نے مجھے ہی بھیج دیا تاکہ اس خط کی تصدیق و تائید کروں، سیدنا بریدہ کہتے ہیں: میں نے وہ خط نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر پڑھنا شروع کر دیا اور میں نے کہا: اس میں جو بھی درج ہے وہ صحیح ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے ہاتھ سے خط پکڑ لیا اور میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: کیا تم علی سے بغض رکھتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: علی سے بغض نہ رکھو اور اگر تم اس سے محبت رکھتے ہو تو اس میں اور اضافہ کرو،اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی جان ہے؟ خمس میں آل علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا حصہ تو اس افضل لونڈی سے بھی زیادہ بنتا ہے۔ سیدنا بریدہ  رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کے بعد لوگوں میں سے ان  (علی علیہ السلام) سے بڑھ کر مجھے کوئی اور محبوب نہیں تھا۔

مسند احمد کی دوسری روایت سے واضح ہے کہ نبی ﷺ نے یمن کی طرف دو لشکر بھیجے تھے، جن میں سے ایک کے سالار امام علی علیہ السلام ور دوسرے کے سردار سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے اور حکم یہ تھا کہ اگر لشکر الگ الگ لڑیں تو مذکورہ سالار ہی ان کے سالار رہیں گے اور اگر قافلے یکجا ہوجائیں تو اس کے سالار امام علی علیہ السلام ہوں گے۔ امام علی علیہ السلام  ہی کو نبی ﷺ نے مال غنیمت کی تقسیم پر مامور کررکھا تھا۔

عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یمن کی طرف دو دستے روانہ فرمائے تھے ،ایک دستے پر سیدنا علی بن ابی طالب علیہ السلام  کو اور دوسرے پر سیدنا خالد بن ولید 

 ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو امیر مقرر کیا گیا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:اگر تم یکجا  ہوجاؤتو سب لوگوں پر نگران علیؑ ہوں گے اور اگر تم الگ الگ رہو تو تم میں سے ہر ایک اپنے اپنے لشکر پر امیر ہو گا۔ سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ہمارا اہل یمن کے قبیلہ بنو زید سے آمنا سامنا ہوا اور ان سے لڑائی ہوئی، مسلمان مشرکوں پر غالب رہے، ہم نے جنگ  میں لوگوں کو قتل کیا اور بچوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا۔ سیدنا علی ‌ علیہ السلام  نے لونڈیوں میں سے ایک کو اپنے لیے چُن لیا۔ سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ اس صورت حال پر سیدنا خالد بن ولیدرضی ‌اللہ ‌عنہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خط لکھ کر مطلع کیا، میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر وہ خط آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حوالے کیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے خط پڑھا گیا تو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے پر غصے کے آثار دیکھے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ پناہ کے طالب کی جگہ ہے یعنی میں آپ سے گستاخی کی معافی چاہتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایک شخص کی زیرِ امارت بھیجا اور پابند کیا ہے کہ میں اس کی اطاعت کروں، میں نے تو وہی کام کیا جس کے لیے مجھے بھیجا گیا،یعنی میں نے تو کوئی غلطی نہیں کی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم علی پر کسی قسم کی انگشت نمائی نہ کرو، وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں اور میرے بعد وہی تمہارا  ولی ہو گا، وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں اور میرے بعد وہی تمہارا ولی ہو گا۔

 حدیثِ بریدہ ؓ  کا شاہد درج ذیل حدیث ہے:

عفان وعبد الرزاق قالا، ثنا جعفر بن سليمان، عن يزيد الرشك، عن مطرف بن عبد الله ، عن عمران بن حصين قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم جيشا واستعمل عليهم عليا، فمضى في السرية فأصاب جارية فأنكروا عليه! قال: فأخبروا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ما تريدون من علي، إن عليا مني وأنا منه وهو ولي كل مؤمن بعدي.[10]

امام ترمذیؒ نے اس حدیث کو حسن کہا ہے اور امام حاکمؒ  نےکہا ہے کہ یہ امام مسلم کی شرط پر (صحیح) ہے اور امام ذہبیؒ نے ان سے موافقت کی ہے۔

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک سریہ سے واپسی پر بعض لوگوں نے سیدنا علی علیہ السلام کے کسی عمل پر اعتراض کیا تو  رسول اکرم ﷺ کا چہرہ غصے سے تمتما اٹھا اور آپ ﷺنے فرمایا: تم لوگ مجھ سے علی کی بابت کیا چاہتے ہو؟ بے شک علی میراہے اور میں علی کا ہوں اور وہ میرے بعد سب مؤمنوں کا ولی ہوگا۔

 غرض سیدنا بریدۃ الاسلمی رضی اللہ عنہ کے شکوہ سے نبی  ﷺکو پتہ چلا کہ  منافقین ہی نہیں بلکہ صحیح العقیدہ صحابہ کرام   رضی اللہ عنہم میں سےبعض لوگ امام علی  علیہ السلام سے حسد کی وجہ سے ان سے بغض رکھتے ہیں، نبی ﷺ کو ان صحابہ کے اس طرزِ عمل سے سخت صدمہ پہنچا۔چنانچہ آپ ﷺنے  ہمیشہ کے لیے اس حسد اور بغض کی جڑ کاٹنے کا فیصلہ فرمایا۔ آپ ﷺ نے غدیرِ خُم کے مقام پر ایک بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا جس میں امت میں اہلِ بیت علیہم الصلوات والسلام کے مقام و مرتبہ کی نشاندہی فرمائی اور واضح  فرمادیا کہ جس طرح نبی اکرم ﷺ  تمام مؤمنوں پر ان کی جان سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں، آپ ﷺ کے اہلِ بیت بھی اسی طرح مؤمنوں پر ان کی جان سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں۔یاد رہے کہ اگرچہ ہمارے نزدیک تمام مؤمنین بنی ہاشم علیہم السلام نبی ﷺ کے اہلِ بیت میں شامل ہیں، تاہم خطبہ غدیرِ خُم میں  آپ کی مراد اہلِ کسا  یعنی سیدہ فاطمہ، امام علی، امام حسن اور امام حسین علیہم السلام ہیں، اگرچہ ضمناً باقی مؤمنین بنی ہاشم اور ازواجِ مطہرات (امہات المؤمنین) علیہم السلام بھی مراد لی جاسکتی  ہیں۔

خطبہ غدیرِ خُم متقارب المعانی الفاظ کے ساتھ مختلف روایات میں وارد ہوا ہے۔ جن میں سے درج ذیل حدیث کے الفاظ زیادہ جامع ہیں:

قال: ثنا  أبو عوانة عن الأعمش، ثنا حبيب بن أبي ثابت، عن أبي الطفيل، عن زيد بن أرقم قال: لما رجع رسول الله صلى الله عليه وسلم من حجة الوداع، ونزل غدير خم، أمر بدوحات فقممن، ثم قال: كأني دعيت فأجبت، إني قد تركت فيكم الثقلين احدھما اکبر من الآخر: كتاب الله وعترتي أهل بيتی، فانظروا كيف تخلفوني فيهما، فإنهما لن يفترقا حتى يردا علي الحوض. ثم قال: إن الله مولاي وأنا ولي كل مؤمن، ثم أخذ بيد علي فقال: من كنت ولیہ فهذا وليه، اللهم وال من والاه، وعاد من عاداه [11]

قال الذہبی: هذا إسناد قوي

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اکرم ﷺ حجۃ الوداع سے لوٹے تو آپ نے غدیرِ خُم کے مقام پر پڑاؤ ڈالا، آپ ﷺ نے ایک بڑے درخت پر مچان بنانے کا حکم دیا جو پورا ہوگیا تو آپ  ﷺ نے فرمایا مجھے لگتا ہے کہ عنقریب  میرا رب مجھے بلالے گا اور میں اس کے پاس لوٹ جاؤں گا۔ میں تمہارے بیچ دو عظیم چیزیں چھوڑے جارہا ہوں، جن میں سے ایک دوسری سے زیادہ عظیم ہے،  یعنی اللہ کی کتاب قرآن اور میری اولاد یعنی  میرے اہلِ بیت۔دیکھو کہ تم میرے بعد ان دونوں کے ساتھ کیا معاملہ کرتے ہو؟ یہ دونوں (قرآن اور عترتِ رسولﷺ) ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ میرے پاس حوضِ کوثر پر پہنچ جائیں۔ اللہ میرا مولا ہے اور میں ہر مؤمن کا ولی ہوں۔ پھر آپ ﷺ نے امام علی علیہ السلام کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: جس کا میں ولی (آقا) ہوں  تو یہ (علیؑ) بھی اس کا ولی (آقا) ہے۔ اے اللہ جو اس (علیؑ) سے محبت کرے تو بھی اس سے محبت رکھ اور جواس ( علیؑ) سے دشمنی رکھے تو بھی اس سے دشمنی رکھ۔

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غدیر خم کے مقام پر صحابہ کرام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا
 أَنَا تَارِکٌ فِیکُمْ ثَقَلَینِ: أَوَّلُھُمَا کِتَابُ اللّٰہِ فِیہِ الْھَدْيُ وَالنُّورُ فَخُذُوا بِکِتَابِ اللّٰہِ وَاسْتَمْسِکُوا بِہِ فَحَثَّ عَلٰی کِتَابِ اللّٰہِ وَرَغَّبَ فِیْہِ۔ ثُمَّ قَالَ: وَأَھْلُ بَیْتِي اُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِي أَھْلِ بَیْتِي اُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِي أَھْلِ بَیْتِي اُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِي أَھْلِ بَیْتِي [12].
میں تم میں دو عظیم چیزیں چھوڑے جارہا ہوں: ان میں سے پہلی  چیز اللہ کی کتاب ہے۔ اس میں ہدایت اور نور ہے پس تم کتاب اللہ کو پکڑ لو اور اس کے ساتھ مضبوطی اختیار کرو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ پر عمل کے حوالے سے لوگوں کو ابھارا اور ترغیب دلائی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور (دوسری عظیم چیز) میرے اہل بیت ہیں۔ میں اپنے اہل بیت کے بارے میں تمھیں اللہ  کی یاد دلاتا ہوں، میں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں تمھیں اللہ  کی یاد دلاتا ہوں، میں اپنے اہل بیت کے بارے میں تمھیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں، یعنی اللہ سے ڈراتا ہوں۔

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی ایک دوسری روایت میں الفاظ یوں ہیں:
أيُّها الناس، إنِّي تاركٌ فيكم أمرينِ لن تضلُّوا إن اتَّبعتموهما، وهما: كتابُ الله، وأهلُ بيتي عِترتي [13]
اے لوگو! میں تمھارے بیچ دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں , تم جب تک ان کی پیروی کرتے رہو گے ہرگز گمراہ نہ ہوگے, یعنی اللہ کی کتاب اور میرے اہل بیت۔
سیدُناجابرِ بن عبد الله رضی الله عنہما سے یہ الفاظ مروی ہیں:
يا أيُّها الناس، إني تركتُ فيكم ما إنْ أخذتُم به لن تضلُّوا: كتاب الله، وعِترتي أهْلَ بَيتي [14]
اے لوگو! میں تمھارے بیچ دو ایسی چیزیں چھوڑے جارہا ہوں , اگر تم ان سے چمٹے رہو گے تو ہرگز کمراہ نہ ہوگے, یعنی اللہ کی کتاب اور میرے اہل بیت۔
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے یہ الفاظ مروی ہیں:
إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ خَلِيفَتَيْنِ: كِتَابُ اللهِ ، حَبْلٌ مَمْدُودٌ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، أَوْ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي[15]
میں تمھارے بیچ دو جانشین چھوڑے جارہا ہوں, یعنی کتاب اللہ جو آسمان سے لٹکی ہوئی اللہ کی رسی ہے اور میرے اہل بیت۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أَخَبَرَنِي حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي حَجَّتِهِ الَّتِي حَجَّ فَنَزَلَ فِي الطَّرِيقِ فَأَمَرَ الصَّلاَةَ جَامِعَةً فَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ ‏”‏ أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ‏”‏ ‏.‏ قَالُوا بَلَى ‏.‏ قَالَ ‏”‏ أَلَسْتُ أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ ‏”‏ ‏.‏ قَالُوا بَلَى ‏.‏ قَالَ ‏”‏ فَهَذَا وَلِيُّ مَنْ أَنَا مَوْلاَهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالاَهُ اللَّهُمَّ عَادِ مَنْ عَادَاهُ ‏”‏ [16]

قال الذہبی: اسنادہ حسن.‏

سیدنا برا بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اکرم ﷺ کے ہمراہ حجۃ الوداع سے واپس آرہے تھے تو  آپ ﷺنے راستے میں ایک جگہ پڑاؤ ڈالا اور نماز کے لیے تیاری کا حکم فرمایا۔پھر سیدنا علی علیہ السلام کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا  کہ کیا مؤمنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا؟ صحابہ نے عرض کیا کہ بالکل ایسا ہی ہے۔تب نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس کا میں مولا ہوں علی ؑ بھی اس کا ولی  ہے،  اے اللہ! جو علی سے محبت کھے تو بھی اس سے محبت رکھ اور جو علیؑ سے عداوت رکھے تو بھی اس سے عداوت رکھ۔

خطبہ غدیرِ خُم کے الفاظ نہایت قابلِ غور ہیں۔ نبی ﷺ نے قرآن اور اہلِ بیت ِ رسول علیہم الصلوات والسلام کو یکجا بیان فرما کر اہلِ بیت کی عظمت کو چار چاند لگادئیے ہیں۔پھر یہ بھی واضح فرمادیا کہ نبی ﷺ کی وفات کے بعد راہِ ہدایت پر قائم رہنے کے لیے ان دونوں سے تمسک ضروری ہے۔ قرآن پر عمل فرض ہے تو اہلِ بیت کی اتباع واجب ہے۔کسی کے ذہن میں  یہ خیال پیدا ہوسکتا تھا کہ اہلِ بیت تو انسان ہیں، ان سے گناہ بھی سرزد ہوسکتے ہیں تو پھر اہلِ بیت کی یہ غیرمشروط اتباع کیوں کر ممکن ہے؟ نبی ﷺ نے اس شبہے کو یہ کہہ کر رد فرمادیا کہ قرآن اور اہلِ بیت قیامت تک ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے، یعنی اہلِ بیت علیہم السلام ہمیشہ قرآن کے بتائے ہوئے صراطِ مستقیم پر گامزن رہیں گے، لہٰذا ان کے گمراہ ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ اہلِ بیت گمراہ کیسے ہوسکتے ہیں کہ جب آیتِ تطہیر ان کی شان میں نازل ہوئی ہے جو انہیں گناہوں سے پاک قرار دیتی ہے۔پس جو بھی گمراہی سے بچنا چاہتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ قرآن و سنت کے ساتھ ساتھ اہلِ بیت اطہار علیہم السلام کے دامن سے وابستہ رہے۔ خصوصاً امام علی علیہ السلام کے فرمودات و اجتہادکو اپنے لیے مشعلِ راہ بنائیں، یہی قرآن وسنت کا  بتایا ہوا محفوظ راستہ ہے۔

 یہ امر بھی قابلِ  غور ہے کہ نبی ﷺ نے قرآنی آیت (النبی اولی بالمؤمنین من انفسھم) کے تناظر میں یہ بھی دریافت فرمایا کہ کیا میں مؤمنوں پر ان کی جان سے زیادہ حق نہیں رکھتا؟ اس کے بعد فرمایا  کہ جس کا میں مولیٰ (آقا) ہوں اس کا علی ؑبھی مولا (آقا) ہے۔پس  اس سے اس حدیثِ مبارکہ میں مولا کا معنی خود نبی ﷺ نے متعین فرما دیا ہے کہ جس طرح نبیﷺ امت سے اولیٰ و اعلیٰ ہیں اسی طرح امام علی علیہ السلام بھی امت میں اولیٰ و اعلیٰ ہیں۔بے شک اس ولایت میں محبت بھی لازمی شرط ہے تاہم کسی سردار کی محبت اطاعت کے بغیر ناقابلِ فہم ہے؟ جس طرح نبی ﷺ کی محبت کا دعویٰ ان کی اطاعت کے بغیر عبث ہے اسی طرح امام علی علیہ السلام کی محبت کا دعویٰ بحیثیت مولاو آقا اطاعت کے بغیر بے معنی ہے۔

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ، وَمَنْ أَطَاعَ عَلِيًّا فَقَدْ

أَطَاعَنِي، وَمَنْ عَصَى عَلِيًّا فَقَدْ عَصَانِي [17]

جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی، جس نے علی ؑ کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے علی ؑ کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔

امام حاکم نے فرمایا : هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ

یعنی اس حدیث کی سند صحیح ہے، تاہم امام بخاری و امام مسلم نے اسے نقل نہیں کیا۔ امام ذہبیؒ نے بھی اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔

ایسا کیوں نہ ہو کہ جبکہ نبی ﷺ کے فرمان کی رُو سے امام علی علیہ السلام کا ہر قول و فعل عین قرآن کے مطابق ہے۔

ام المؤمنین سیدہ ام سلمیٰ علیہا السلام سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

 عَليٌّ مَعَ الْقُرْآنِ وَالْقُرْآنُ مَعَ عَلِيٍّ لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ [18]

علیؑ قرآن کے ساتھ ہے اور قرآن علی ؑکے ساتھ ہے، یہاں تک کہ وہ میرے پاس حوضِ کوثر پر آملیں۔

امام حاکم ؒنے اسے صحیح الاسناد قرار دیا اور امام ذھبیؒ نے ان سے موفقت کی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اس حدیث کا یہ مفہوم کہ امام علی علیہ السلام ساری امت سے اولیٰ و اعلیٰ ہیں، صحا بہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہاں معروف نہیں تھا۔ عرض ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مختلف طبقات تھے جن کا فہم ایک دوسرے سے متفاوت تھا۔لہٰذا سب صحابہ کا فہم فرداً فرداً  ہمارے لیے حجت نہیں۔ ہاں صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم کی وہ جماعت  جو شیعانِ علی کے نام سے معروف تھی وہ امام علی علیہ السلام کی اولیت و افضلیت کی قائل تھی۔جیسا کہ صحابہ کے حالات جمع کرنے والے محققین نے بیان فرمایا ہے۔ علامہ ابن عبدالبر  نے الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب میں اس جماعت کی نشاندہی کی ہے۔علامہ ابن عبدالبر امام علی علیہ السلام کے ترجمہ (رقم الترجمہ 1871) میں لکھتے ہیں:

و روی عن سلمان و ابی ذروالمقدادو خباب و جابر و ابی سعید الخدری و زید بن الارقم : ان علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اول من اسلم  و فضلہ ھؤلا علی غیرہ [19]

سیدنا سلمان الفارسی، سیدنا ابوذر الغفاری، سیدنا مقداد بن اسود، سیدنا خباب بن ارت، سیدنا جابر بن عبداللہ، سیدنا ابوسعید الخدری اور سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہم سب بیان کرتے تھے کہ سب سے پہلے سیدنا علی علیہ السلام نے اسلام قبول کیا اور یہ مذکورہ صحابہ سیدنا علی علیہ السلام کو باقی سب صحابہ سے افضل مانتے تھے۔

سب سے آخر میں فوت ہونے والے صحابی سیدنا ابو  طفیل عامر  بن واثلہ الکنانی رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کی زندگی کے آٹھ سال پائے اور ان کو حالتِ ایمان میں دیکھنے کا شرف حاصل کیا، جبکہ نبی ﷺ کی وفات کے بعد وہ امام علی علیہ السلام کے دامن سے وابستہ ہوگئے اور ان کی شہادت تک ان کے ہمرکاب رہے۔ علامہ ابن عبدالبر ان کے بارے میں لکھتے ہیں:

و کان متشیعا فی علی رضی اللہ عنہ و یفضلہ [20]

  وہ شیعان علیؑ میں سے تھے اور ان کی تفضیل کے قائل تھے۔

اب ذرا سیدنا امام حسن المجتبیٰ علیہ السلام کا خطبہ ملاحظہ فرمائیں:

حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ابْنِ أَخِي طَاهِرٍ الْعَقِيقِيُّ الْحَسَنِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنِي عَمِّي عَلِيُّ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ: خَطَبَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ النَّاسَ حِينَ قُتِلَ عَلِيٌّ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «لَقَدْ قُبِضَ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ لَا يَسْبِقُهُ الْأَوَّلُونَ بِعَمَلٍ وَلَا يُدْرِكُهُ الْآخِرُونَ، وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِيهِ رَايَتَهُ فَيُقَاتِلُ وَجِبْرِيلُ عَنْ يَمِينِهِ وَمِيكَائِيلُ عَنْ يَسَارِهِ، فَمَا يَرْجِعُ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ [21]

امام علی بن حسین المعروف زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ امام علی علیہ السلام کی شہادت کے موقعہ پر امام حسن بن علی علیہ السلام نے خطبہ دیتے ہوئے  اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: آج رات اس شخص کی وفات ہوئی ہے کہ جس سے عملِ صالح میں نہ تو سابقون الاولون  سبقت لے سکے اور نہ ہی ان کے بعد ایمان لانے والے ان کی گرد کو پہنچ سکے۔رسول اکرم ﷺ انہیں  عَلَم عطا فرماتے اور وہ  اس حال میں (کفار کے ساتھ) جنگ کرتے تھے کہ جبریل علیہ السلام ان کے دائیں جانب ہوتے اور میکائیل علیہ السلام بائیں جانب ہوتے تھے اور وہ فاتح کی حیثیت سے واپس آتے تھے۔

اس حدیث کا شاہد سنن الکبریٰ للنسائی (رقم 8552) میں ہے۔

سابقون سے بھی سبقت جو لے گئے

حیدر ہے ان کا نام  اور مرتضیٰ مقام

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر حدیثِ غدیرِ خُم کا مقصد اطاعتِ علی ؑہے تو امام علی علیہ السلام نے اپنی خلافت کے زمانہ میں اسے دلیل کے طور پر پیش کیوں نہیں کیا؟ اس وقت تو اس دلیل کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ یا تو معترض کم علم ہے یا جانتے بوجھتے حقائق سے نظریں چرانا چاہتا ہے۔ متعدد طرق سے ثابت ہے کہ امام علی علیہ السلام نے اپنی خلافت کے زمانہ میں لوگوں کو اپنی خلافت کی دلیل کے طور پر خطبہ غدیرِ خُم بارہا یاد دلایا بلکہ اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی گواہیاں بھی پیش کیں۔

عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: اسْتَشْہَدَ عَلِیٌّ النَّاسَ، فَقَالَ: أَنْشُدُ اللّٰہَ رَجُلًا سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((اللَّہُمَّ مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ، اللَّہُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاہُ وَعَادِ مَنْ عَادَاہُ۔)) قَالَ: فَقَامَ سِتَّۃَ عَشَرَ رَجُلًا فَشَہِدُوْا۔ [22]

سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے لوگوں سے گواہی طلب کی اور کہا: میں اس آدمی کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، جس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ! میں جس کا مولا (آقا)  ہوں، علیؑ بھی اس کا مولا (آقا)  ہے، اے اللہ! جو علی سے محبت کھے تو بھی اس سے محبت رکھ اور جو علیؑ سے عداوت رکھے تو بھی اس سے عداوت رکھ۔ یہ سن کر سولہ آدمی کھڑے ہوئے اور انھوں نے یہ شہادت دی (کہ واقعی انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ حدیث سنی ہے)۔

 اس حدیث کے بہت سے شواہد ہیں:

سیدنا ابو الطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابو طالب علیہ السلام نے لوگوں کو درختوں کے جھنڈ میں جمع فرمایا۔ اور ان سے فرمایا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دلاتا ہوں کہ بتاؤ  رسول اللہ ﷺ نے غدیرِ خُم کے پاس خطبہ میں کیا فرمایا؟ تب لوگوں نے کھڑے ہوکر کہا کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ! کیا میں مومنوں پر  ان کی جانوں سے  زیادہ اختیار نہیں رکھتا؟ پھر آپ ﷺ نے سیدنا علی علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا:جس کا میں مولا (آقا) ہوں علی بھی اس کا مولا (آقا) ہے،  اے اللہ جو علی ؑ سے محبت  رکھے اس سے تُو بھی  محبت رکھ اور جو علی سےعداوت رکھے اس سے تُو بھی عداوت رکھ۔[23]

 عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا، فِي الرَّحَبَةِ يَنْشُدُ النَّاسَ: أَنْشُدُ اللهَ مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ: ” مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ ” لَمَّا قَامَ فَشَهِدَ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَقَامَ اثْنَا عَشَرَ بَدْرِيًّا، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَحَدِهِمْ، فَقَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّا سَمِعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ: ” أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُسْلِمِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، وَأَزْوَاجِي أُمَّهَاتُهُمْ؟ ” فَقُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: ” فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ [24]

اسنادہ حسن عندالذھبی

عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ  ؒسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رحبہ میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں حاضر تھا، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر کہہ رہے تھے: میں اس آدمی کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں، جس نے غدیر خم والے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میں جس کا مولا  (آقا)  ہوں، علیؑ بھی اس کا مولا (آقا)  ہے۔ وہ اٹھ کر گواہی دے، یہ بات سن کر بارہ بدری صحابہ کھڑے ہوئیـ، وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے ہے، گویا میں ان میں سے ہر ایک کو دیکھ رہا ہوں، ان سب نے کہا ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہم نے غدیر خم کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: کیا میں مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا؟ اور کیا میری ازواج ان کی مائیں نہیں ہیں؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! بالکل بات ایسے ہی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں جس کا مولا  (آقا)  ہوں، علیؑ بھی اس کا مولا (آقا)  ہے ، اے اللہ! تو اس آدمی سے محبت  رکھ، جو علی ؑسے محبت  رکھتا ہے اور جو اس سے عداوت رکھے، تو بھی اس سے عداوت رکھ۔

عَنْ سَعِیدِ بْنِ وَہْبٍ، وَعَنْ زَیْدِ بْنِ یُثَیْعٍ قَالَا: نَشَدَ عَلِیٌّ النَّاسَ فِی الرَّحَبَۃِ مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، یَقُولُ یَوْمَ غَدِیرِ خُمٍّ إِلَّا قَامَ، قَالَ: فَقَامَ مِنْ قِبَلِ سَعِیدٍ سِتَّۃٌ، وَمِنْ قِبَلِ زَیْدٍ سِتَّۃٌ، فَشَہِدُوْا أَنَّہُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَوْمَ غَدِیرِ خُمٍّ: ((أَلَیْسَ اللّٰہُ أَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِینَ؟)) قَالُوْا: بَلٰی، قَالَ: ((اللّٰہُمَّ مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ، اللَّہُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاہُ وَعَادِ مَنْ عَادَاہُ۔)) [25]

اسنادہ صحیح

سعید بن وہب ؒ اور زید بن یثیع ؒ نے بیان فرمایا کہ امام علی علیہ السلام نے رحبہ میں لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر کہا کہ میں اس آدمی کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں، جس نے غدیر خم والے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کچھ فرماتے ہوئے سنا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ

ثنا عبد الرزاق، نا إسرائيل، عن أبي إسحاق، ثنا سعيد بن وهب وعبد خير أنهما سمعا عليا يقول: أنشد الله من سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من كنت مولاه فإن عليا مولاه؟ فقام عدة فشهدوا أنهم سمعوا رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ذلك. قال الرمادي: حدثناه عبد الرزاق مرة أخرى وزاد فيه: اللهم وال من والاه، وعاد من عاداه. فقلنا لعبد الرزاق: ذكر عمرا ذا مر فيه؟ قال: لا.[26]

 إسناده قوي عندالذھبی

سعید بن وہب ؒ اور عبدِ خیرؒنے بیان فرمایا کہ انہوں  امام علی علیہ السلام کو فرماتے سنا  کہ میں اس آدمی کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں، جس نے (غدیر خم والے دن) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کچھ فرماتے ہوئے سنا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ

عَنْ زَاذَانَ أَبِی عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِیًّا فِی الرَّحْبَۃِ، وَہُوَ یَنْشُدُ النَّاسَ مَنْ شَہِدَ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ غَدِیرِ خُمٍّ؟ وَہُوَ یَقُولُ مَا قَالَ فَقَامَ ثَلَاثَۃَ عَشَرَ رَجُلًا، فَشَہِدُوا أَنَّہُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ یَقُولُ: ((مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ۔))[27]

صحیح لغیر

زاذن ؒ نے بیان فرمایا کہ امام علی علیہ السلام نے رحبہ میں لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر کہا کہ میں اس آدمی کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں، جس نے غدیر خم والے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کچھ فرماتے ہوئے سنا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعِ بْنِ الْجَرَّاحِ بْنِ مَلِيحٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو غَيْلانَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَصِيرَةَ، عَنْ أَبِي صَادِقٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَال دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:

 «إِنَّ فِيكَ مِنْ عِيسَى مَثَلًا أَبْغَضَتْهُ يَهُودُ حَتَّى بَهَتُوا أُمَّهُ، وَأَحَبَّتْهُ النَّصَارَى حَتَّى أَنْزَلُوهُ بِالْمَنْزِلِ الَّذِي لَيْسَ بِهِ»

أَلَا وَإِنَّهُ يَهْلِكُ فِيَّ اثْنَانِ مُحِبٌّ مُفْرِطٌ يُقَرِّظُنِي بِمَا لَيْسَ فِيَّ وَمُبْغِض

 مُفْتَرٍ يَحْمِلُهُ شَنَآنِي عَلَى أَنْ يَبْهَتَنِي أَلَا وَإِنِّي لَسْتُ بِنَبِيٍّ وَلَا يُوحَى إِلَيَّ وَلَكِنِّي أَعْمَلُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا اسْتَطَعْتُ فَمَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَحَقٌّ عَلَيْكُمْ طَاعَتِي فِيمَا أَحْبَبْتُمْ وَكَرِهْتُمْ [28]

سیدنا و مولانا علی بن ابی طالب علیہ السلام فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اکرم ﷺ نے اپنے پاس بلایا اور مجھ سے فرمایا کہ تمہاری مثال سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی سی ہے، جن سے یہودی بغض رکھتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے ان کی والدہ پر بہتان باندھنے سے بھی گریز نہ کیا، جبکہ عیسائی ان سے محبت رکھتے ہیں مگر انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو ان کے مقام سے بڑھا دیا۔ (امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں) خبردار میرے بارے میں دو گروہ گمراہ ہوں گے، ایک وہ جو میری محبت میں مبالغہ کرے گا اور مجھے بڑھا کے وہاں تک پہنچا دے گا جس کے میں لائق نہیں، جبکہ دوسرا گروہ وہ جو مجھ سے شدید بغض میں مبتلا ہوگا اور مجھ پر طرح طرح کے بہتان باندھے گا۔ خبردار! میں کوئی نبی نہیں ہوں اور نہ ہی مجھ پر وحیٔ نبوت نازل ہوتی ہے، ہاں میں اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کے مطابق مقدور بھر عمل کرتا ہوں۔ میں تمہیں اللہ کی اطاعت کے بارے میں جو حکم دیتا ہوں اس کو بجالانا تم پر واجب ہے، خواہ وہ حکم تمہیں اچھا لگے یا برا۔

ہمارے نزدیک حدیث من کنت مولاہ فعلی مولاہ سے  امام علی علیہ السلام کی سیاسی ولایت مراد نہیں بلکہ اس سے روحانی و فقہی ولایت مراد ہے جو تاقیامِ قیامت جاری رہے گی۔خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی سیاسی ولایت اسی ترتیب پر ہے جس ترتیب پر تمام تاریخی روایات سے ثابت ہے، یعنی خلیفۂ اول سیدنا ابوبکر، خلیفہ ٔ ثانی سیدنا عمر بن خطاب ، خلیفۂ ثالث سیدنا عثمان غنی اور خلیفۂ رابع سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔

وہ روایات جن میں اس ترتیب پر نبی ﷺ یا کسی صحابی رضی اللہ عنہ کا خواب منقول ہے، ان سے ان خلفا کی سیاسی خلافت کی ترتیب ہی مراد ہے، اس سے ترتیبِ فضیلت مراد نہیں، جیسا کہ اکثر لوگ سمجھتے ہیں۔ نیز خوابوں والی یہ ایک دو روایات اخبارِ احاد ہیں جنہیں حدیثِ غدیرِ خُم کی متواتر حدیث کے مقابلے میں پیش نہیں کیا جاسکتا۔

اسی طرح حدیثِ غدیرِ خُم سے  مخصوص نظریۂ امامت  فی آلِ علی علیہم السلام بھی ثابت نہیں ہوتا۔ اگر کوئی اس حدیث سے یہ نظریہ کشید  کرتا ہے تو یہ اس کا ذاتی فعل ہے ہمارا اس  سے کوئی تعلق نہیں۔

اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ حدیثِ غدیرِ خُم کسی خبرِ واحد کی صورت میں نہیں بلکہ حدیثِ متواتر کی صورت میں نقل ہوئی ہے جس کے صحاح و حسان طرق کثرت سے وارد ہوئے ہیں، جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ خطبہ غدیرِ خُم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہاں خوب معروف ومشہور تھا۔ہاں اس کے الفاظ اسی طرح مختلف صحابہ سے منقول ہیں جس طرح خطبہ حجۃ الوداع کے الفاظ یکجا ملنے کی بجائے مختلف روایات میں نقل ہوئے ہیں۔ اب اس کثرتِ طرق کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے حدیثِ غدیرِ خُم کے مختلف الفاظ کو اضطراب پر محمول کرنا تعصب کے سوا کچھ نہیں۔

السیرۃ الحلبیہ کے مصنف  علامہ ابوالفرج نورالدین علی بن ابراہیم الحلبی الشافعی ؒ (متوفیٰ 1044ھ) حدیثِ غدیرِ خُم نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

و ھذا حدیث صحیح  ورد باسانید صحاح و حسان، ولا التفات لمن قدح فی صحتہ کابی داؤد و ابی حاتم الرزازی، و قول بعضھم ان زیادۃ اللھم وال من والاہ الی آخرہ موضوعا مردود، فقد ورد ذالک من طرق صحح الذھبی کثیرا منھا [29]

یہ حدیث صحیح ہے جو کہ صحیح اور حسن درجہ کی اسانید کے ساتھ وارد ہوئی ہے،ان لوگوں کا قول قابلِ التفات نہیں جنہوں نے اس حدیث کی صحت پر اعتراض کیا ہے جیسے ابوداؤد اور ابو حاتم الرازی، اور اسی طرح  یہ قول بھی مردود ہے کہ اس حدیث کا جزو اللھم وال من والاہ و عاد من عاداہ  موضوع ہے۔حالانکہ یہ جزو ایسے طرق کے ساتھ مروی ہے  کہ جن میں سے اکثر کو امام ذہبی نے صحیح قرار دیا ہے۔

اوپر مذکور اکثر احادیث علامہ ذہبی ؒ کے رسالہ طرق حدیث من کنت مولاہ فعلی مولاہ  میں شامل ہیں ، ذیل میں اسی رسالہ سے چند مزید طرق دئیے جارہے ہیں، اختصار کی غرض سے صرف عربی عبارت دی جارہی ہے۔

غندر، ثنا شعبة، عن أبي إسحاق، سمعت سعيد بن وهب يقول نشد علي الناس، فقام خمسة أو ستة من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فشهدوا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من كنت مولاه فعلي مولاه.

هذا الحديث على شرط مسلم، فإن سعيدا ثقة

 العقدي حدثني كثير بن زيد، عن محمد بن عمر بن علي عن علي

أن النبي صلى الله عليه وسلم حضر الشجرة بخم، فخرج آخذا بيد علي، فقال: من كنت مولاه فإن عليا مولاه – أو قال: فإن هذا مولاه – إني قد تركت فيكم ما إن أخذتم به لن تضلوا: كتاب الله وأهل بيتي. ألستم تشهدون أن الله ورسوله أولى بكم من أنفسكم؟ وأن الله ورسوله أولياؤكم؟ قالوا: بلى قال: فمن كنت مولاه

سکت عنہ ذھبی

ثنا الفريابي، ثنا فطر، عن أبي الطفيل، عن علي مرفوعا: من كنت مولاه فعلي مولاه، اللهم وال من والاه، وعاد من عاداه.

 إسناده قوي

ثنا أبو معاوية الضرير، عن موسى بن مسلم الشيباني، عن بد الرحمن بن سابط، عن سعد بن أبي وقاص قال: أقدم معاوية في بعض حجاته فأتى سعد، فذكروا عليا، فقال سعد سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ثلاث خصال، لأن تكون لي واحدة منهن أحب إلي من الدنيا وما فيها! : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من كنت مولاه فعلي مولاه، الحديث

سکت عنہ ذھبی

غندر، ثنا شعبة، عن ميمون أبي عبد الله، وعوف الأعرابي، عن ميمون، عن زيد بن أرقم قال: قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فحمد الله وأثنى عليه، ثم قال: ألستم تعلمون أني أولى بكم بكل مؤمن ومؤمنة من نفسه؟ فأي من كنت مولاه فهذا مولاه، وأخذ بيد علي. زاد شعبة، عن ميمون قال: فحدثني بعض القوم، عن زيد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: اللهم وال من والاه وعاد من عاداه.

هذا حديث حسن عندالذھبی

ثنا أبو نعيم، ثنا كامل أبو العلاء، عن حبيب بن أبي ثابت، عن يحيى ابن جعدة، عن زيد بن أرقم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لعلي يوم غدير خم: من كنت مولاه فعلي مولاه.

هذا إسناد حسن قوي عندالذھبی

ثنا يحيى بن عثمان بن صالح، ثنا اصبغ بن الفرج، ثنا علي بن عابس، عن داود بن يزيد، عن أبيه قال: قدم علينا معاوية، فنزل النخيلة، فدخل أبو هريرة المسجد بالكوفة، فكان يقص على الناس ويذكرهم! فقام إليه شاب فقال: يا أبا هريرة نشدتك بالله أنت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لعلي: من كنت مولاه فعلي مولاه، اللهم وال من والاه وعاد من عاداه؟ قال: اللهم نعم.

ثنا الحافظ أبو العباس ابن عقدة، ثنا أحمد بن يحيى بن زكريا، ثنا علي ابن قادم، ثنا إسرائيل، عن عبد الله بن شريك، عن سهم بن حصين الأسدي. عن أبي سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يوم غدير خم: من كنت مولاه فعلي مولاه ; قالها ثلاث مرات.

 سهم مذكور في الثقات لابن حبان

أبو بكر بن أبي شيبة وسويد بن سعيد وهارون بن إسحاق وغيرهم قالوا: ثنا المطلب بن زياد، عن عبد الله بن محمد بن عقيل. عن جابر قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بالجحفة بغدير خم إذ خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخذ بيد علي فرفعها فقال: من كنت مولاه فعلي مولاه، اللهم وال من والاه وعاد من عاداه. قلت: أنشدك بالله أكان ثم أبا بكر وعمر؟ قال: اللهم لا!

 هذا حديث حسن

أنبأنا ابن قدامة وفاطمة بنت عساكر وجماعة قالوا: أنا عمر بن محمد،

أنا هبة الله، أنا ابن غيلان، أنا أبو بكر الشافعي، ثنا محمد بن سليمان، ثناعبيد الله بن موسى، ثنا أبو إسرائيل، عن الحكم، عن أبي سليمان المؤذن. عن زيد بن أرقم أن عليا نشد الناس: من سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من كنت مولاه فعلي مولاه، اللهم وال من والاه، وعاد من عاداه؟  ب فقام ستة عشر رجلا فشهدوا بذلك


[1] فضائل الصحابہ، امام احمد بن حنبل، مستدرک للحاکم: رقم 4572 سکت عنہ الذھبی فی التلخیص

[2] سنن الکبریٰ للنسائی: رقم 8636

[3] جامع الترمذی: رقم3723

[4] المعجم الکبیر للطبرانی: رقم 11061، مستدرک للحاکم: رقم 4637

[5] انا مدینۃ العلم حدیث کی تحقیق | جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن (banuri.edu.pk)

[6] امام ابن الجوزی الحنبلیؒ، کتاب کشف المشکل من حدفیث الصحیحین، جلد ۱، صفحہ ۱۷۶

[7] مسند احمد: رقم 23333، سسن الکبری للنسائی: رقم 8145

[8] الذہبی، سیر اعلام النبلا:8/335

[9] مسند احمد: رقم 23355

[10] السنن الکبریٰ للنسائی: رقم 8619

[11]   سنن الکبریٰ للنسائی: رقم 8609

 صحیح مسلم: رقم  2408[12]

[13] مستدرک للحاکم: رقم 4577

[14] جامع الترمذی : رقم 3786

[15] مسند امام احمد : رقم 21911

[16] سنن ابن ماجہ: رقم 116

[17] مستدرک للحاکم: رقم 4617

[18] مستدرک للحاکم: رقم 4628

[19] ابن عبدالبر، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، صفحہ 523، رقم الترجمہ 1871

[20] ابن عبدالبر، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب: صفحہ827 ، رقم الترجمہ 3032

[21] مستدرل الحاکم: رقم 4802

[22] مسند احمد: رقم 23531

[23] السنن الکبریٰ، للنسائی: رقم 8623

[24] مسند احمد: رقم 964

[25] مسند احمد: رقم 950

[26] مصنف عبدالرزاق

[27] مسند احمد: رقم 641

[28] مسند احمد: رقم 1377

[29] السیرۃ الحلبیۃ: 3/384، دارالکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading