2024-07-17

بِسْمَ اللّٰہِ الرَّحمٰن الرّحِیْم

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَحْدَہ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلاَمُ عَلٰی مَنْ لَّا نَبِیِّ بَعْدَہ ، امَّا بَعْد

قرآنِ حکیم اہلِ اسلام کی وہ کتابِ مقدس ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی امام المرسلین محمد عربی  ﷺ پر

 تقریبا چودہ سو سال پہلے نازل فرمائی۔

قرآن حکیم جس دین کی دعوت پیش کرتا ہے وہ اسلام ہے۔ رسول اکرم 

ﷺ کی دعوت و  تبلیغ اور تمام مساعی جمیلہ کا محور  قرآن حکیم ہی تھا ۔ آپ  ﷺنے اپنی دعوت کے تمام تر دلائل اسی قرآن سے اخذ کیے اور اسی قرآن کو آپ نے مؤمنین کی تعلیم و تربیت اور تزکیہ نفس کے لیے بطور نصاب استعمال کیا۔ اس لیے 

قرآن حکیم کو بجا طور پر  ’’منہاج المصطفےٰ ﷺ‘‘  کا نام دیا جاسکتا ہے، یہی وہ منہاج ہے جسے مضبوطی سے پکڑے رہنے کا حکم خود قرآن نے دیا ہے۔ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ قرآن نے اسلام کا جو تصور عطا کیا ہے اسے ابتدا ہی میں خوب جان لیا  جائے  تاکہ چودہ صدیوں کی طویل مدت میں جو غبار اسلام کے روشن چہرے پر پڑچکا ہے اسے دھوڈالا جائے اور اسلام کا اصل چہرہ نکھر کر سامنے آجائے۔

انبیا علیہم السلام کا مشترکہ دین

            اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو زمین پر اپنا خلیفہ بنا کر مبعوث فرمایا تو انہیں زندگی گزارنے کے معیاری اصول وقواعد بھی سکھائے، جو انہوں نے اپنی اولاد کو تعلیم فرمائے۔ زندگی گزارنے کے اس معیاری طریق کار کو اسلام کا عنوان ملا۔ اسلام کا لغوی مطلب ہے سرِ تسلیم خم کردینا، اطاعت قبول کر لینا اور مخالفت و مزاحمت ترک کردینا۔ چونکہ دین اسلام کی ابتدا اللہ تعالیٰ کی غیر مشروط اطاعت قبول کرنے کے عہد سے ہوتی ہے، اس لئے اس دین کا نام اسلام رکھا گیا۔ قرآن حکیم میں صراحت ہے کہ اللہ وحدہ’ لا شریک نے تمام انبیاء علیہم السلام کو ایک ہی دین عطا فرمایا اوروہ ہے دین اسلام۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہ نُوْحاًَ وَّالَّذِیْ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہ اِبْرَاہِیْمَ وَ مُوْ سٰی وَ عِیْسٰی اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا

تَتَفَرَّ قُوْا فِیْہ [1]

اس نے تمہارے لئے وہی دین مقر رکیا ہے جس کا نوح کو حکم دیا تھا اور اسی دین کو ہم نے تمہاری طرف وحی کیا ہے اور اسی کا حکم ہم نے ابراہیم ،موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا تھا کہ دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ مت ڈالنا

امام ابوالفرج عبدالرحمٰن ابن الجوزی الحنبلیؒ  (م ٥٩٧ ھ)

 رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں

فیکون المعنی:شرع لکم و لمن قبلکم اقامة الدین و ترک الفُرقة۔ [2]

پس معنیٰ یہ ہے کہ تمہارے لئے اور تم سے پہلے لوگوں کے لئے اللہ نے یہ قانون بنا دیا ہے کہ دین کوقائم رکھیں اور اس میں پھوٹ ڈالنے سے اجتناب کریں۔

امام ابو عبداللہ محمد بن احمد القرطبی المالکیؒ (م ٦٧١ ھ) فرماتے ہیں

ای: اجعلوہ قائماً، یرید دائماً، مستمراً، محفوظاً، مستقراً  من غیر خلاف فیہ ولا اضطراب[3]

یعنی اسے قائم رکھو، مراد یہ ہے کہ اس دین کو اختلاف و اضطراب کے بغیر ہمیشہ مستقل بنیادوں پر محفوظ اور باقی رکھو۔

 اللہ کے نزدیک مقبول دین صرف اسلا م ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے

اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللّٰہِ الْاِسْلَامَ وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوالْکِتٰبَ اِلَّا مِنْ م بَعْدِ مَاجَآ ئَ ھُمُ الْعِلْمُ بَغْیاًم بَیْنَھُمْ [4]

             اللہ کے نزدیک مقبول دین اسلام ہی ہے ،اہل کتاب نے علمِ وحی آنے کے باوجو د محض آپس کے بغض کی وجہ سے مختلف دین بنا ڈالے

پس دنیاو آخرت میں فلاح و نجا ت کا واحد راستہ دین اسلام ہے، اس کے سواکوئی دوسرانظامِ حیات فلاح و نجات کا ضامن نہیں ہو سکتا

        [5]وَمَنْ یَتَّبِعْ غَیْرَ الْاسْلاَ مَ دِیْناً فَلَنْ یُّقْبَلُ مِنْہُ  

             “اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہوگا وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔

د ینِ فطرت

            دینِ اسلام ہی دینِ فطرت ہے ۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے

فَاَقِم وَجہَکَ لِلدِّینِ حَنِیفًا  فِطْرَتَ اللّٰہِ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیھَا لَا تَبدِیلَ لِخَلقِ اللّٰہِ ذٰلِکَ الدِّینُ القَیِّمُ وَلٰکِنَّ اَکثَرَالنَّاسِ لَا یعلَمُونَ [6]

            اپنارخ دینِ حنیف کی طرف کیے رکھیں،یہی اللہ کی بنائی ہوئی فطرت ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے،اللہ کی بنائی ہوئی فطرت بدلتی نہیں،یہی پختہ دین ہے، لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو فطرتِ سلیمہ پر پیدا فرمایا ہے۔فطرتِ سلیمہ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کوایسی عقل سلیم عطا فرمائی ہے جو اس کی رہنمائی توحید کی طرف کرتی نیز اسے نیکی اور بدی کو پہچاننے کی صلاحیت بخشتی ہے۔

امام ابوالفرج عبدالرحمٰن ابن الجوزی الحنبلی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں

الفطرة :الخلقة التی خلق اللّٰہ علیہا البشر و کذالک قولہ علیہ السلام ((کل مولود یولد علی الفطرة)) ای علی الایمان باللّٰہ[7]

الفطرة: یعنی وہ خِلقت جس پر اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔اسی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے( ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے) یعنی اللہ پر ایمان کے ساتھ۔

            ایک خالق کا تصور ہر انسان کے ذہن پر نقش ہے، ایک خالق کا تصور ہر انسان کے قلب میں ودیعت کیا گیا ہے، حتیٰ کہ بت پرست قومیں بھی ایک ایسے خالق کی قائل ہیں جس نے سارا جہان پیدا کیا ہے۔وہ ملحدین جو بظاہر ڈنکے کی چوٹ پر خدا کا انکار کرتے ہیں، جب کسی ایسی مصیبت میں پھنستے ہیں جس سے نکلنے کے کوئی اسباب دکھائی نہیں دیتے تو ان کا قلب بھی ایک خالق کی طلب محسوس کرتا ہے۔

نیزانسان میں فطری طور پر نیکی کا رجحان اور بدی سے نفرت پائی جاتی ہے، تاہم انسان کا ماحول اسے نیک یا بد بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔انسان کو دنیا میں جن شخصیات سے سب سے پہلے واسطہ پڑتا ہے وہ اس کے والدین ہیں ۔ یہی سبب ہے کہ والدین کی جانب سے انسان کو جو شعوری و غیر شعوری تعلیم و تربیت ملتی ہے، اسی کے موافق اس کے ابتدائی نظریات وعقائد اور اخلاق و کردار تشکیل پاتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے

کل مولود یولد علی الفطرة، فابواہ یہودانہ او ینصرانہ او یمجسانہ [8]

ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی بناتے ہیں ، یا نصرانی بناتے ہیں یا مجوسی بناتے ہیں۔

ضرورتِ ہدایت

            واضح رہے کہ ہر بچے کے فطرت پر پیدا ہونے کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ اسلام کے جملہ عقائدواحکام کا شعور  لے کر پیدا ہوتا ہو، بلکہ فطرت سے مراد ایک خدا کا تصور ہے جو تمام انبیاء علیہم السلام کی مشترکہ میراث ہے، جسے مذکورہ بالا آیت میں دین حنیف سے تعبیر کیا گیا ہے۔وہ عقلِ سلیم جو انسان کوذاتِ باری تعالیٰ کی ابتدائی معرفت عطا کرسکتی ہے، اس قابل نہیں کہ وہ زندگی کے ہر مسئلہ میں مکمل اور اغلاط سے پاک رہنمائی مہیا کرسکے۔انسان کو اپنی پیدائش سے لے کر موت تک نہایت متنوع حالات کا سامنا کرنا پڑتاہے، عمر میں اضافہ کے ساتھ اسے نئے اور پیچیدہ سے پیچیدہ تر مسائل سے واسطہ پڑتا ہے، شیرخوارگی میں اس کے مسائل سب سے کم ہوتے ہیں، لڑکپن میں ان

مسائل میں اضافہ ہوتا ہے اور جوانی میں یہ مسائل اپنے عروج کو پہنچ جاتے ہیں۔ عمر کے ہر درجہ میں مسائل کے حل کے لیے اسے رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر انسان کو ان گھمبیر مسائل کے حل کے لیے محض سعی و خطاکے اُصول کے رحم وکرم پر چھوڑدیا جائے تو انسان کے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ ان میں ہوشربا اضافہ ہوجاتا ہے۔ انسان کی زندگی بہت مختصر ہے، وہ سعی و خطا

کے عمل کے ذریعے اپنے سبھی مسائل حل نہیں کرسکتا اس لیے اسے رہنمائی کی ضرو رت پڑتی ہے۔ اسی رہنمائی کے لیے بچے کو مدرسہ میں بھیجا جاتا ہے تاکہ وہ زندگی گزارنے کے اصول اور مہارتیں سیکھ سکے، لیکن کیا مدرسہ انسان کو سب کچھ سکھا دیتا ہے؟ یقینا مدرسہ بچے کی ذہنی عمر کے کم ہونے کے باعث اسے زندگی کے سبھی اصول نہیں سکھا سکتا۔ خصوصاً انسان کو اپنی عملی زندگی میں جن مسائل کا سامنا کرنا ہوتا ہے، مدرسہ بچے میں ان مسائل کا سامنا کرنے کی ہمت تو پیدا کرسکتا ہے ، مگر عملاً اس کے مسائل حل نہیں کرسکتا۔ یہی حال ثانوی و اعلیٰ درجہ کے مدارس کا ہے۔

             انسان کیاہے؟ انسان کہاں سے آیا ہے؟ اس دنیا میں اس کے فرائض منصبی کیا ہیں؟ اس کا انجام کیا ہوگا؟ کیا موت سے معاملہ ختم ہوجائے گا یا اس کے بعد بھی کوئی دنیا ہے، جس کے لیے ہمیں تیاری کرنا ہے؟ موت کے بعد کی زندگی میں کن حالات سے دوچار ہونا ہوگا؟ کیا اُخروی زندگی دنیا کا عکس ہوگی یا اس سے کوئی مختلف شے؟ کیا انسان کے مرنے کے بعد پیچھے رہ جانے والی دنیا ہمیشہ قائم رہے گی یا اس کو بھی فنا ہے؟ اگر دنیا فنا ہوگئی تو پھر کیا ہوگا؟ کیا کوئی نئی دنیا بسائی جائے گی؟ کیا اس نئی دنیا میں ہمارا بھی کوئی مقام ہوگا؟ نئی دنیا میں ہمارے مقام کا تعین کس بنیاد پر ہوگا؟ کیا وہاں مال و دولت، دنیاوی جاہ و حشمت اور آل و اولاد کام دے گی یا ہمارے اعمال ہمارے مقام کا فیصلہ کریں؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جو ہر زی فہم کے ذہن میں ابھرتے ہیں، مگر مجرد عقل کے بل بوتے پر انسان ان سب سوالات کا قابلِ اطمینان جواب حاصل نہیں کر پاتا۔ایسے میں اسے آسمانی ہدایت کی ضرورت پڑتی ہے۔اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار کے لگ بھگ انبیاء مبعوث فرمائے۔ انبیاء علیہم السلام کی بعثت سے جہاں انسانوں کی ضرورتِ ہدایت پوری ہو گئی ،

وہیں اللہ کی طرف سے ان پر حجت بھی قائم ہوگئی۔ اب ان کے پاس ہدایتِ الٰہی سے منہ موڑنے کا کوئی عذر باقی نہیں رہا۔

            نورِ فطرت کی مثال سورج طلوع ہونے سے قبل آسمان پر پھیلنے والے اجالے کی سی ہے،جبکہ وحی یعنی آسمانی ہدایت خود آفتاب

ہے۔اجالائے صبح ، آفتاب کی دلالت کرتاہے ،جبکہ خود آفتاب اس اجالے سے مستغنی ہے، چنانچہ طلوعِ آفتاب کے بعد اجالائے صبح، نورِآفتاب میں اس طرح مدغم ہوجاتا ہے کہ ان دونوں میں تمیز ممکن نہیں رہتی، کیونکہ اجالائے صبح ،آفتاب ہی کی منتشرکرنوں کا نام ہے،اجالائے صبح  نورِ کامل نہیں بلکہ حصولِ کمال کے لئے آفتاب کا محتاج ہے،  پس آفتاب(نورِوحی)  اجالائے صبح(نورِ فطرت) پر حاکم ہے،نہ کہ اس کے برعکس۔ قرآن کا فیصلہ ہے کہ انسانوں کی اکثریت اس حقیقت کو فراموش کر بیٹھی ہے اور وہ اپنی انفرادی حیوانی شہوات کو فطرتِ انسانی باور کرکے اسے نورِ وحی پر حاکم بنا دیتی ہے۔ آج کی مغربی تہذیب  وَلٰکِنَّ اَکثَرَالنَّاسِ لَا یعلَمُون

کی زندہ تعبیر ہے۔

دینِ کامل

            خاتم المرسلین علیہ الصلوٰة والسلام سے قبل انسان قومیت کے دائروں میں قید تھا،تمدن نے اتنی ترقی نہ کی تھی کہ وہ ایک یکساں عالمگیر تہذیب کو جنم دے سکتا، ہر قوم اپنے مخصوص ماحول کے زیرِ اثر ایک خاص تہذیب کی حامل تھی، ہر قوم کو انکے مزاج اور تہذیب کی مناسبت سے قوانین عطا کیے جاتے رہے،زمان ومکان اور قوم کی تبدیلی سے لا محالہ شریعت کے بعض احکام میں تبدیلی کردی جاتی تھی ، تاہم ختم الرسل علیہ الصلوٰة والسلام چونکہ محدود زمان ومکان کیلئے نہیں بلکہ کُل نوع انسانی کی طر ف قیامت تک کیلئے نبی و رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں لہٰذا ضرور ی تھا کہ اب اقوام کو ان کے محدود اور تنگ دائروں سے آزاد کرکے ایک عالمگیرتہذیب پیدا کی جائے جس کا اصل الاصول وحدتِ انسانیت ہو۔اس تہذیب کو جو قوانین عطا کیے گئے وہ اس قدر متحرک اور جاندار تھے کہ اس تہذہب نے دنیا کے سب سے شاندار اور طاقتور تمدن کو جنم دیا، جس نے انسانیت کو بالفعل امت واحدہ بنا دیا۔اس تہذیب کی بنیاد وطن،نسب،رنگت اور زبان نہیں بلکہ انبیا ء کی مشترکہ میراث یعنی عقیدہء توحید اور تصور خیروشر ہے۔ عالمگیرتہذیب کی تشکیل کے لئے ایسا کامل دین انسانیت کو عطا کیا گیاہے جو زمان و مکا ن کے تغیر سے متاثر ہو نے والا نہیں اور جس میں نو ع انسانی کے مجموعی احوال و مزاج کی رعایت برتی گئی ہے ۔ ارشاد فرمایا

        [9]اَ لْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاسْلَامَ دِیْنَا

            آج ہم نے تمہارے واسطے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام تمام کردیا اور تمہارے لئے اسلام کو بطور دین پسند کیا

 اللّٰہ تعالیٰ کا نازل کردہ دین

            الحمد للّٰہ !آج ہمارے پاس وہی کامل دین اسلام   منّ و عَن موجو دہے جو اللہ تعالےٰ نے اپنے آخری نبی محمد رسول اللّٰہ علیہ الصلوٰة والسلام  پر اتمامِ نعمت کیلئے ناز ل فرمایا ۔  دین اسلام ، محمد عربی علیہ الصلوٰة والسلام کی اپنی ایجا دو اختراع یا اہلِ کتاب سے نقل کیے گئے کسی نجی مذہب کا نام نہیں بلکہ ہر اعتبار سے کامل دین نبی علیہ الصلوٰة والسلام  پر اللہ کی طر ف سے وحی کیا گیاہے۔  اللہ تعالی نے دین

 اسلام کے نزو ل کا تذکرہ ان الفا ظ میں فرمایا

        [10]وَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَةَ

            “اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر الکتاب اور الحکمة  نازل فرمائی

            گو یا دین کامل الکتاب والحکمة کے مجموعہ کا نام ہے۔

الکتاب

 مذکورہ بالا آیت میں الکتاب سے مراد القرآن ہے جیسا کہ خود قرآن میں صراحت کر دی گئی ہے

        [11]تَنْزِیْل مّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کِتٰب فُصِّلَتْ اٰ یٰتُہ’قُرْاٰ ناَ عَرَبِیّاَ لِقَوْمِ یَّعْلَمُوْنَ

            “یہ رحمٰن و رحیم کی جانب سے نازل کی گئی کتاب ہے، جس کی آیا ت واضح المعانی ہیں۔یعنی قرآن عربی ان لوگوں کیلئے جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔

نیز فرمایا

        [12]ذٰ لِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْہِ

            ” اس (قرآن) کے کتابِ الٰہی ہونے میں کچھ شک نہیں۔

            قرآن حکیم تمام علم و حکمت کا جامع ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جس کا علم کل کائنات کو محیط ہے۔

        [13]وَ اِ نَّکَ لَتُلَقَّی الْقُرْاٰنَ مِنْ لَدُنَّ حَکِیْمٍ عَلِیْمٍ

            ” اور (اے نبی) یہ قرآن آپ کی طرف حکمت والے اور جاننے والے (رب) کی جانب سے اتارا جاتا ہے” 

             قرآن حکیم اللہ تعالیٰ کا ابدی و لازوال معجزہ ہے ، جس کی کوئی مثال کائنات میں موجود نہیں۔ یہ نہایت ہی پُر اثر اور دلنشین کتاب ہے، اس کی تاثیر سے پہاڑوں کے سینے بھی شق ہو جاتے ہیں، ارشادِ ربانی ہے

        [14]لَوْ اَنْزَلْنَا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَأَیْتَہُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِنْ خَشْیَةِ اللّٰہِ

            ” اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کر دیتے تو آپ دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف  سے دب جاتا اور پھٹ جاتا

الحِکمة

            رہا یہ سوال کہ الحکمة  سے کیا مراد ہے؟ خود مذکورہ آیت میں غور کرنے سے واضح ہو جاتاہے کہ یہ الکتاب (القرآن ) کی مانند اللہ کی جانب سے محمد عربی علیہ الصلوٰة والسلام پر کی گئی وحی کا اک دوسرا رخ ہے۔ اس حقیقت کی تائید قرآن کی بہت سی دیگر آیات سے بھی ہوتی ہے مثال کے طور پر یہ آیت ملاحظہ کیجئے:

        وَاذْ کُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَمَآ اَنْزَلَ عَلَیْکُمْ مِنَ الْکِتٰبِ وَالْحِکْمَةِ [15]  

            اور اللہ نے تمہیں جو نعمت عطا کی ہے اسے یاد رکھو اور اسے بھی جو اس نے الکتاب اور الحکمة کی شکل میں تم پر نازل کیا ہے۔

            یا درہے کہ الکتٰب والحکمة کے مابین واؤ عطفی ہے ، تفسیر ی نہیں ، کیو نکہ قرآن نے جہاں بھی ان دونوں کا ذکرکیا ہے، اسی انداز میں کیاہے کہ یہ دونوں لازم و ملزوم ہونے کے باوجود اپنی نوعیت کے اعتبار سے دو متغائر حقیقتوں کے نام ہیں۔ گو یا یہ دونوں ایک

دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں ،الحکمة کی مستقل جدا حیثیت کی تائید اس امر واقعہ  سے بھی ہوتی ہے کہ اہل بیت رسو ل علیہ الصلوٰة والسلام  کو آیات اللّٰہ (القرآن) کے ساتھ ساتھ  الحکمة   کو یا د کرنے اور اسے حافظے کا حصہ بنائے رکھنے کا حکم ان الفاظ میں وارد ہوا

وَاذْکُرْنِ مَا یُتْلیٰ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ اٰ یٰتِ اللّٰہِ وَاْلحِکْمَةَ [16]

            “اور(اے اہل بیت) تمہارے گھروں میں جو اللہ کی آیات اور   الحکمة  پڑھی جاتی ہے،اسے یا د رکھو۔

تعلیم الکتاب والحکمة 

 قرآن متعد دمقامات پر صراحت کرتاہے کہ نبی کریم علیہ الصلوٰة والسلام  القرآن کے ساتھ الحکمة  کی باقاعدہ تعلیم فرماتے تھے

        لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیِنَ اِذْبَعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلاً مِّنْ اَنْفُسِھِمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہ وَیُزَکِیّْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمْ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَةَ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِینْ [17]

            یقینااللہ تعالےٰ نے مؤمنین پر احسان فرمایا ہے کہ اس نے انہی کی جنس میں سے اک رسول ان کی طرف بھیجا ہے جو انہیں اس کی آیات پڑھ کے سناتا ہے اور ان کا تزکیہ نفس کرتاہے اورانہیں الکتاب اور الحکمة کی تعلیم دیتاہے حالانکہ اس سے قبل وہ کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔

            تعلیم الکتاب والحکمة کے اس فریضہ ء رسالت کا تذکرہ البقرة  ٢  :  ١٢٩، ١٥١  ، الجمعة  ٢٦  :٢ میں بھی وارد ہوا ہے۔

            امام الرّاسخین فی العلم ، ترجمان القرآن ،حِبرالا مّہ سیدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما الحکمة کی تفسیر المعرفة بالقرآن [18]        

  ( قرآن کے معانی سے واقفیت ) کے عنوان سے کرتے ہیں ۔    

            پس الحکمة سے مراد قرآنی کلمات کے معانی و مطالب ہیں ۔یہ اللہ تعالیٰ کا خصوصی کرم و احسان ہے کہ اس نے صرف کتاب عطا کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ رسول اللہ علیہ الصلوٰة والسلام  پر اس کے معانی و مطالب بھی نا زل فرمائے۔ علمائے امت قرآنی کلما ت کو وحی جلی اور الحکمة   کو وحی خفی سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔

            یاد رہے کہ قرآن حکیم کوئی عام نصابی کتا ب نہیں بلکہ ایسی بے مثال و لازوال کتاب ہے جس نے کل نوع انسانی کی ہر زمان و مکان میں راہنمائی کرنا ہے،اگر ایسی ابدی کتاب کے معانی کا تعین ہر فر د کے اپنے ذاتی فہم پر چھوڑ دیا جاتا تو لا محالہ یہ انسانیت پر ظلم ہو تا کیوں کہ ہر فرد کی ذہنی استطاعت اور تفکر و تدبر کی اہلیت دوسرے سے قطعی مختلف ہے ، پھر ہر زمان و مکان کے احوا ل میں ایسے اختلاف ہو تے ہیں جو اس زمان و مکان میں موجود انسان کے فہم کو لازماً متاثر کرتے ہیں، مثال کے طو رپر آج کے انسان اور آج سے ایک ہزا ر سال قبل کے ا

نسان کے سوچنے کا انداز سو فیصد یکساں نہیں ہو سکتا، اگر رسول کے ذریعے قرآن کے معانی کا تعین نہ کیا جاتا تو ہر زمانے اور ہر مقام کے

افرادقرآن کی بہت سی آیا ت کا مطلب بالکل جدا ہی نہیں بلکہ متضا د اخذ کرتے ۔ارشاد باری تعالیٰ

وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ [19]

            ” ہم نے آپکی طرف الذّکر (قرآن )  نازل کیا ہے تاکہ آپ اس کو کھول کر بیان کردیںجوان کے لئے نازل کیا گیاہے۔

اُسوۂ رسول علیہ الصلوٰة والسلام   ۔۔۔۔۔ قرآن کی تفسیر

            قرآن کے الفاظ وکلمات کے ساتھ انکے معانی کی تبیین و تشریح ر سول عربی علیہ الصلوٰة والسلام  نے اپنے قول و فعل سے بار بار فرمائی بلکہ خود قرآن کے اک اک حکم کا کامل نمونہ پیش کیا ا س لئے قرآن نے آپکے اس کامل نمونہ کی اتباع کاحکم فرمایا ہے

        [20]لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَة حَسَنَة لِمَنْ کَانَ یَرْجُوْ اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیرْاَ 

            “یقینا تمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ موجود ہے( یعنی)اس شخص کیلئے جسے اللہ ( سے ملنے) اور روز قیامت کی امید ہو اور اللہ کو خوب یاد رکھنے والا ہو

ہدایت پانے کیلئے اسوۂِ رسول علیہ الصلوٰة والسلام کی کامل اتباع شرطِ لازم ہے کوئی شخص اتباعِ رسول سے انحراف کرکے ہدایت نہیں پا سکتا،

ارشاد ربانی ہے

        [21]فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَکَلِمٰتِہ وَاتَّبِعُوْہُ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ

پس ایمان لاؤ اللہ اور اسکے رسول نبی اُمی پر جو اللہ تعالےٰ اور اس کے تمام کلمات پر ایمان رکھتے ہیں اور انکی پیر وی کرو تاکہ تم ہدایت پاسکو

            اسوۂِ رسول علیہ الصلوٰة والسلام اور آپکی اتباع کرنے والے مؤمنین کے پسندیدہ مسلک و مذہب کی مخالفت کرنے والے بد بختوں کو جہنم میں جھونکے جانے کی وعید سنائی گئی ہے۔

وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہ’ الْھُدٰی وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ المُؤ مِنِیْنَ نُوَلِّہ مَا تَوَلّی وَ نُصْلِہ جَھَنَّمَ و سَآئَ تْ مَصِیْرا[22]َ

اور جو شخص ہداہت واضح ہو جانے کے باوجود رسول کا خلا ف کرے اور مؤمنین کی راہ چھوڑ کر چلے ہم اسے ادھر ہی متوجہ کردیں گے جدھر اس نے خود رخ پھیر ا اور ہم اسے جہنم میں جھونک دیں گے جو بہت برا ٹھکانہ ہے “۔

            اللہ تعالی نے رسول کی اطا عت کو اپنی اطاعت قرار دیا ہے کیونکہ رسول اکرم علیہ الصلوٰة والسلام ہماری طرف اللہ کے آخر ی نمائندے ہیں ، انہوں نے جو بھی حکم ارشاد فرمایا وہ اپنے رب کریم کی جانب سے ارشاد فرمایا، اپنے جی سے گھڑ کے کبھی کوئی حکم نہ دیا ۔ارشاد ربانی ہے:

        [23]مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ وَمَنْ تَوَلّٰی فَمَآ اَرْسَلْٰنکَ عَلَیْہِمْ حَفِیْظًا

            “جوشخص رسول کی اطاعت کرتاہے وہ فی الحقیقت اللہ کی اطاعت کرتاہے اور جو نافرمانی کرے تو (اے نبی )آپ ان پر دار وغہ بنا کر

نہیں بھیجے گئے

                         وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی

اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْیُ’  یُّوْحٰی [24]

        (النجم  ٥٣:٣۔٤)

اور آ پ اپنے جی سے کچھ نہیں کہتے آپ کا فرمان تو محض وحی ہے جو آپ پر ناز ل کی جاتی ہے

اُسوۂِ رسول علیہ الصلوٰة والسلام   ۔۔۔۔۔۔ صراطِ مستقیم

            جو شخص صراطِ مستقیم کی طلب رکھتاہو اس پراسوہ رسول علیہ الصلوٰة والسلام کی اتباع فرض ہے کیو نکہ آپ ہی وہ آخری ہستی ہیں جو صراط مستقیم کی طر ف ہدایت کیلئے منجانب اللہ مامو ر ہوئے

        [25]وَ انَّکَ لَتَھْدِیْ  اِلٰی صِرَاطٍ  مُسْتَقِیْمٍ

            “اور یقینا آپ صراطِ مستقیم کی طرف رہنمائی فرماتے ہیں

            یہ رہنمائی صرف بتادینے کی حد تک نہیں کہ وہ ہے صراط مستقیم اس پر چلنا چاہو تو چلو بلکہ رسول اکرم علیہ الصلوٰة والسلام خود صراطِ مستقیم پر چلنے والے ہادی اعظم ہیں 

                        اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ

عَلیٰ صِراطٍ مُّسْتَقِیْمٍ[26] 

            ” یقینًا آپ رسولوں میں سے ہیں، صراطِ مستقیم پر گامزن ہیں

            چنانچہ آپ ایسے ہادیٔ مخلص ہیں جو صراطِ مستقیم پر چل کر دکھاتے ہیں کہ یہ ہے صراطِ مستقیم جسے اس رستے پہ چلنا ہے وہ پیچھے پیچھے چلاآئے۔جو بد بخت رسول اکرم علیہ الصلوٰة والسلام کی جانب سے صراطِ مستقیم کی ہدایت سے اعراض وانحراف کرے گا تباہی کی اتھا ہ گہرائی میں گرنا اس کا مقدر ہے جہاں سے فرار ناممکن ہے۔

اطاعتِ رسول علیہ الصلوٰة والسلام 

            ایمان بالرسول کا مطلب اطاعتِ رسو ل کے سوا کچھ نہیں ،فکر وعمل دونوں میدانوں میں اطاعتِ رسول کا نام ہی ایمان بالرسول ہے، آپ رسول ہونے کی حیثیت سے مُطاع ہیں لہٰذا آپ کا ہر حکم واجب الاتباع ہے

                        [27]وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلّاَ لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ

            “اور ہم نے رسول اسی لئے بھیجا کہ اللہ کے حکم سے اسکی اطاعت کی جائے۔

احکامِ رسول علیہ الصلوٰة والسلام محض حاکمِ وقت ،قاضی القضاة ،امیر ا لعسا کر، معلمِ اعظم ،ہادیٔ بحرو بر کی حیثیت سے نہیں کیونکہ دنیا کا کوئی

حاکم وقت ،قاضی القضا ة ،امیر ا العسا کر یا معلم ایسانہیں جس کا حکم ماننے سے انکار  ” ایمان” سے خارج کردے، ہاں رسول کا حکم ماننے سے انکار خواہ وہ حکم مذکورہ مناصب میں سے کسی خاص منصب سے متعلق ہو، ایمان واسلام سے خارج کر دیتاہے، ارشاد باری تعالی ہے

فَلاَ وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا [28]  

            تمہارے رب کی قسم یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں آپکو منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ آپ کردیں اس پر دل میں تنگی محسوس نہ کریں بلکہ اسے خوشی سے قبول کرلیں ، تب تک مؤمن نہیں ہو سکتے۔

پس حکمِ رسول علیہ الصلوٰة والسلام  کی مخالفت سخت عذاب میں ڈالے جانے کا موجب ہے

                        [29]فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہ اَنْ تُصِیْبَھُمْ فِتْنَة اَوْ یُصِیْبَھُمْ عَذَاب اَلِیْم

            تو جولوگ اس رسول کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرنا چاہیے (ایسا نہ ہو کہ) ان پر کوئی آفت پڑ جائے یا ان پر کوئی دردناک عذاب نازل ہو۔

            مذکورہ بالا آیا ت سے واضح ہو جاتاہے کہ محمد عربی علیہ الصلوٰة والسلام کی تعلیم الکتاب والحکمة  اللہ کے پسندیدہ دین اسلام کی واضح ترین اور صحیح ترین تشریح وتعبیر ہے، فہمِ دین کا کوئی منہج و طریق جو اس سے منحرف ہو ہرگز قابل قبول نہیں۔.فی الحقیقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عطا کردہ تعلیم الکتاب والحکمة  ہی اصل دین ہے، جس سے انکا رو انحراف کی منزلِ آخر کفر کے سوا کچھ اور نہیں۔یہی

وہ صراط مستقیم ہے جس کی منزل فلاح و نجات ہے۔

حد یثِ رسول علیہ الصلوٰة والسلام

            حدیث کا لغوی مطلب قول، گفتگو یا قصہ ہے۔اللہ تعالےٰ نے اپنے جلیل القدرانبیاء و رسل علیہم الصلوٰة والسلام کے اسوہ کے بیان کیلئے لفظ “حدیث”پسند فرمایا ،مثال کے طور پر اسوۂ ابراھیمعلیہ الصلوٰة والسلام کے متعلق بیان کرتے ہوئے فرمایا:

                        [30]ھَلْ اَتٰکَ حَدِیثُ ضَیْفِ اِبْرَاھِیمَ الْمُکْرَمِیْنَ

            ” کیا تمہارے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کا بیان پہنچا ہے؟

سیدنا موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے احوالِ  زندگی کے بارے میں فرمایا

                        [31] ھَلْ اَتٰکَ حَدِ یْثُ مُوْسیٰ

            “کیا آپکے پاس موسیٰ( کے حالات) کا بیان پہنچا ہے؟

خاتم النبین محمد رسول اللہ علیہ الصلوٰة والسلام  نے اسی قرآنی اصطلاح “حدیث ” کو اپنے اقوال وافعال کے بیان کیلئے منتخب کیا ۔ آپ  علیہ الصلوٰة

والسلام نے فرمایا 

نَضَّرَ اللّٰہُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِیْثًا  فَحَفِظَہُ حَتَّی یُبَلِّغُہُ [32]

”  اللہ تعالیٰ اس شخص کو ترو تازہ رکھے جو ہماری  حد یث سنے ، اسے یاد رکھے اور اسے (دوسروں تک) پہنچائے  ”

چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسوۂ رسول علیہ الصلوٰة والسلام  بیان کرتے وقت جو الفاظ روایت کیے ہیں انہیں الحدیث کہتے ہیں ۔اسی لیے قول صحابی کو بھی حدیث شمارکیا جاتا ہے۔

 

سُنّتِ رسول علیہ الصلوٰة والسلام 

            نبی اکرم علیہ الصلوٰة والسلام  نے اپنے اسوہ  حسنہ کے لئے ایک دوسری اصطلاح   اَ لسُّنّة  استعمال کی ہے جس کا لغوی مطلب ہے عادت،  طریقہ یا سیرت۔ قرآن میں یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی طرف اضافت کے ساتھ استعمال ہوا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے

سَنَّة اللّٰہِ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنّةِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا [33]

اللہ کی عادت پہلے بھی ایسے ہی رہی ہے، آپ اللہ کی عادت میں تبدیلی نہیں پائیں گے۔

نبی اکرم علیہ الصلوٰة والسلام  کا فرمان ہے

یؤم القوم اَقرؤھم لکتاب اللہ فان کانوا  فی القرأة سواء فاعلمہم بالسنة [34]

کسی گروہ کا (نماز میں ) امام وہ بنے جو االلہ کی کتاب (قرآن) کا سب سے بڑا قاری (عالم) ہو۔ اگر وہ قرأت (علم قرآن) میں برابر ہوں تو ان میں سے جو شخص سنت کا سب سے بڑا عالم ہو، وہ امام بنے۔

 اَ لسُّنّة کی شرعی و اصلاحی تعریف یوں بیان کی جاتی ہے

قول النبی غیرالوحی ولو بکتابة و فعلہ ولو باشارة و اقرارہ [35]

وحیٔ قرآنی کے سوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول، خواہ لکھ ا ہوا ہی ہو اور آپ کا فعل خواہ اشارے کی صورت ہو، اور آپ کا ( اپنے سامنے کیے جانے والے ) کسی کام کو برقرار رکھنا سنت کہلاتا ہے۔

سنت رسول کی اس تعریف سے واضح ہے کہ وہ سنت جسے ہم دین کے ایک بنیادی مأخذ کے طور پر تسلیم کرتے ہیں، اس کا اطلاق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر قول و فعل پر ہوتا ہے، خواہ آپ سے یہ قول و فعل زندگی میں صرف ایک بارہی صادر ہوا ہو۔ جس طرح قرآن میں بعض احکام مباحات کے درجہ میں اور بعض مستحبات کے درجہ میں اور کچھ دوسرے فرض کے درجہ میں بیان کیے گئے ہیں، اسی طرح اس چیز کا فیصلہ فقہا کرتے ہیں کہ کونسی سنت صرف مباح کے درجہ میں ہے اور کونسی سنت فرض یا مستحب کے درجہ میں اور کونسی سنت منسوخ ہوچکی ہے ۔

امام احمد بن حنبلؒ  فرماتے ہیں

ان السنّة تفسر الکتاب و تبینہ [36]

یقیناً سنت رسول الکتاب (قرآن) کی تفسیر اور تشریح کرتی ہے۔

چناں چہ اَلسُّنّة النّبویة  علیہ الصلوٰة والسلام قرآن کی شارح ہے ،اسکی ناسخ نہیں، ایک قرآنی آیت کی ناسخ کوئی دوسری قرآنی آیت ہی

ہوسکتی ہے، قرآن سے باہر کی کوئی شئے اسکی ناسخ نہیں ہوسکتی۔ جن سنتوں کو قرآن کی ناسخ سمجھ لیا گیا ہے، وہ  فی الواقع اسکی شارح ہیں ناسخ نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ  اَلسُّنّة النّبویة علیہ الصلوٰة والسلام میں ایسی کوئی شئے نہیں جس کی اصل واساس قرآن میں نہ ہو۔امام ابوالحکم بن برجان فرماتے ہیں:

کل حدیث ففی القرآن الاشارة الیہ تعریضاً او تصریحاً، وما قال من شیء فھو فی القرآن او فیہ اصلہ قرب او بعد،

فھمہ من فھمہ و عمہ عنہ من عمہ [37]

ہر حدیث کے بارے میں قرآن میں اشارات پائے جاتے ہیں، کبھی یہ اشارہ مبہم ہوتا ہے اور کبھی بالکل واضح صورت میں۔آپ    نے جو بھی فرمایا وہ یو تو بعینہ قرآن میں موھود ہوتا ہے ،ورنہ اس کی قریبی یا بعیدی اصل تو لازماً قرآن میں موجود ہوتی ہے۔ اب جس نے یہ پالیا سو پالیا اوجور اس سے اندھا رہا سو اندھا رہا۔

            ظاہری اعتبار سے  اَلسُّنّة کا  اطلاق محمدعربی علیہ الصلوٰة والسلام  کے اقوال و افعال پر ہوتا ہے،تاہم یہ اپنی جگہ حقیقت ہے کہ جمیع انبیاء علیہم السلام کی اجماعی سنت اس سنتِ محمدیہ علیہ الصلوٰة والسلام کا جزو ہے، بالخصوص سنتِ ابراہیمی علیہ الصلوٰة والسلام سنتِ محمدیہ علیہ الصلوٰة والسلام کا وصفِ لازم ہے، لہٰذا ہمیں دیگر انبیاء علیہم السلام کی سنت کی تلاش کے لئے کتبِ سابقہ کی طرف مراجعت کی قطعًا ضرورت نہیں،سنتِ محمدیہ علیہ الصلوٰة والسلام اس مقصد کے لئے کفایت کرتی ہے۔

سنّت اور جبلّت

رسول اکر م صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض افعال ایسے بھی تھے جو آپ نے بشر ہونے کی حیثیت سے محض فطرت و جبلت کے ماتحت سر انجام دیے۔ جیسے کھانا پینا، آنا جانا، سونا جاگنا، اٹھنا بیٹھنا، موسم کی مناسبت سے لباس پہننا، گھوڑے، گدھے ، خچر یا اونٹ کی سواری کرنا ، جنگ میں تلوار، نیزہ ،تیر، زرہ یا خود کا استعمال کرنا،بالوں کے بغیرچمڑے کا جوتا پہننا وغیرہ۔ان افعال کے بارے میں جمہور امت کا مؤقف یہی ہے کہ یہ کام عموماً مباحات میں شمار ہوتے ہیں۔ یعنی ان کاموں کے کرنے سے ثواب ہوتا ہے نہ ترک کرنے پر گناہ ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ کام عادات میں سے ہیں عبادات میں سے نہیں ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ان میں سے جن کاموں کے بارے میں نبی  علیہ الصلوٰة والسلام نے اپنے قول کے ذریعے تاکید فرمائی ہے،وہ باعث اجرو ثواب ہیں۔ مثلاً جب بعض صحابہ نے ہمیشہ روزہ رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایسا کرنے سے منع فرمایا اور انہیں جتلایا کہ ان کے نفس (جان) کا بھی ان پر حق ہے۔ یعنی کھانا پینا اس حد تک مت چھوڑیں کہ نفس کے لیے مضر ت کا باعث ہوجائے۔ اسی طرح ستر ڈھانپنے کا حکم فرمایا، حتیٰ کہ خلوت میں بھی۔ صلوٰة العید کے لیے ایک راستے سے جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا۔ تہجد کے لیے رات

کے پچھلے پہر بیدار ہونا وغیرہ وہ عادات ہیں جن کی تاکید کی گئی ہے، لہٰذا جبلی افعال کے لیے ضروری نہیں کہ وہ ہمیشہ محض مباحات ہی شمار ہونگے اور وہ

کبھی مستحبات کے دائرے میں آ ہی نہیں سکتے۔

عصر حاضر کے بعض لبرل قسم کے افراد نے جبلت و فطرت کا بہانہ بنا کر بہت سی سنتوں کو ترک کردیا ہے۔ یہ وہ افعال ہیں جن کی رسول اکرم صلی اللہ

علیہ وسلم نے باقاعدہ طور پر تاکید فرمائی ہے مثلاً آپ نے واضح الفاظ میں داڑھی بڑھانے کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔اس صریح حکم کے باعث فقہائے امت

نے داڑھی مونڈنے کو حرام اور بڑھانے کو سنت قرار دیا ہے۔ جبکہ لبرل حضرات داڑھی مونڈھتے ہی نہیں بلکہ داڑھی کا  مذاق بھی اڑاتے ہیں اور اسے فرسودہ و غار کے زمانے کی یادگار قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح سنتِ مسواک اور سنت عمامہ کوبھی تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔حال آں کہ احادیث میں ان کے فضائل وارد ہوئے ہیں۔ پس اس معاملے میں نہایت ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جبلی عادات سے نفرت

بھی ایمان کے خاتمے کا سبب بن جاتی ہے۔ جب ہماری پسند ناپسند کے پیچھے عموماً کوئی خاص مقصد چھپا ہوتا ہے، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ا ولین و آخرین کا  علم رکھنے والے اللہ کے محبوب ترین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پسند نا پسند محض عبث ہو ۔(معاذاللہ) یہی سبب ہے کہ صحابہ کرام  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اک اک ادا پر جان نچھاور کرتے تھے، اسی لیے ا نہیں  اولئک مؤمنون حقا  کا سرٹفکیٹ حاصل ہوا۔

محکمات و متشابہات

            قرآن کی آیات اپنے مراد ومعانی کے اعتبارسے دو قسم پر ہیں ،اوّل وہ آیات جن کے معنی و مفہوم میں قطعیت پائی جاتی ہے یعنی ایک آیت سے صرف ایک ہی مطلب اخذ کیا جاسکتا ہے کوئی دوسرا متفاوت ومتضاد معنی کسی سلیم القلب کیلئے اخذ کرنا ممکن نہیں ،دوسری وہ آیات ہیں جن میں کلمات کی ترکیب ایسی ہے کہ ان میں ایک سے زائد معانی کا احتمال بہر کیف موجود ہو تاہے، پہلی قسم کی آیات کو مُحْکَمَا ت اور دوسری قسم کو مُتَشَابِہَات کہا جاتاہے۔ [38]

جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے

                        ھُوَالَّذِیْ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ مِنْہُ اٰیٰت مُّحْکَمَات ھُنَّ اُمُّ الْکِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشَابِھَات ط  فَاَمَّاالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ زَیْغ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا َتشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَآ ئَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَآئَ تَاْوِیْلِہ ج  وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَہ’ اِ لَّا اللّٰہُ وَالرَّاسِخُوْنَ فِیْ الْعِلْمِ   یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِہ کُلّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا یَذَّکَّرُاِلَّآ اُولُو الْاَلْبَاب [39] 

            وہی رب ہے جس نے آپ پر یہ کتاب نازل کی ، جس کی بعض آیات محکم ہیں اور یہ اصل احکام ہیں ، جبکہ دوسری قسم کی آیا ت متشابہات ہیں ۔ پس جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ متشابہات کی آڑ میں فتنوں کے متلاشی ہوتے ہیں حالانکہ ( بظاہروہ) اس متشابہہ آیت کی تاویل (مراد) ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں۔ اس( متشابہہ آیت) کی حقیقی مراد اللہ تعالی کے سوا کوئی نہیں جانتا جبکہ راسخون فی العلم کا قول یہ ہے کہ ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں، ساری کتاب ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتری ہے، اور نصیحت تو عقلمند ہی قبول کرتے ہیں ۔

متشابہات میں سے اکثر کا تعلق ایمان بالغیب سے ہے،ان متشابہات کی حقیقی مراد تو اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں تاہم راسخون فی العلم امکانی حد تک ان کی ایسی تاویل کر سکتے ہیں جو اثبات اور تنزیہہ میں توازن براقرار رکھ سکے۔

            اللہ تعالےٰ کا ہز ار ہا شکر ہے کہ اس نے مُحْکَمَا ت و مُتَشَابِہَات ہر دو قسم کی آیات کا معانی و مفہوم الحکمة کی صورت میں اپنے نبی کو تعلیم فرما دیا ۔ تعلیم الکتاب والحکمة کا یہ عظیم الشان عمل تین طرح سے واقع ہوا ،ایک زبانی پڑھتے اور حافظے میں محفوظ کرتے ہوئے دوسرا  اس پر عمل کرتے ہوئے اور تیسرا کتابت بالقلم کے ذریعے محفوظ کرتے ہوئے کیونکہ قرآن کی پہلی وحی میں ہی حکم واردہو چکا تھا       

اِقْرَأَ وَ رَبُّکَ ا لْاَکْرَمُ

 الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ 

عَلَّمَ الِانسَانَ مَالَمْ یَعلَمْ [40]

            “پڑھیے اپنے سب سے زیادہ کریم رب کے نام سے جس نے قلم کے ذریعے علم سکھا یا اور انسان کو وہ علم عطا کیا جس سے وہ  نا واقف تھا 

            پہلی وحی کا یہ اعلان صاف بتلارہا ہے کہ وحی الہٰی محض زبانی سنا دینے کیلئے نازل نہیں ہوئی بلکہ قلم و کتاب کے ذریعے سکھا دینے کیلئے

نازل ہوئی ہے چنانچہ رسول اللہ علیہ الصلوٰة والسلام  نے اللہ کے حکم کے مطابق وحی الہٰی  الکتاب والحکمةکی تعلیم تینوں طرح فرمائی  یعنی زبانی ذہن نشین کراکے، کتابی شکل میں لکھوا کے اور عمل کے ذریعے نمونہ پیش کرکے ، پس کامل دینِ اسلام کی تعلیم و تحفظ کا آغاز عین وحی کے 

آغاز سے ہوگیا تھا۔

صحا بہ کرام رضی اللَّٰہ عنھم کا امتیاز      اہلِ بیتِ رسول اور

            جولوگ نبی اکرم صلی اللہ علی وسلم کی دعوتِ توحید پر لبیک کہہ کر مؤمن و مسلم بنتے جاتے وہ براہ راست آپ سے الکتاب والحکمة کی تعلیم بھی پانے لگتے ۔ آپ انہیں تعلیم بھی دیتے اور ان کے افکا رو اعما ل کا تزکیہ بھی کرتے جاتے ۔حتیٰ کہ ہزاروں انسانوں نے آپ سے براہ راست کسب ِفیض کیا ۔آج ہم ان خوش نصیب ہستیوں کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔سینکڑوں صحابہ کرام  نے آپ پر نزو ل وحی کی حقیقت کا براہ رست سر کی آ نکھوں سے مشاہدہ کیا اور اس نور مبین سے اپنے قلب و دماغ کو منور کیا ،تاہم اپنے معاشی مشاغل کے باعث سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  ہمہ وقت آپکی خدمت میں حا ضر نہیں رہ سکتے تھے، البتہ جس نے جتنا زیادہ قر ب پایااسی قدر اس سراج منیر کا نور مبین اپنے سینے میں بھر لیا ۔جس نے آپکے فیوض جتنے زیادہ سمیٹے مرتبہ میں بھی اسی قدر بلند ہو گیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اپنے قربِ رسول علیہ الصلوٰة والسلام کی نسبت سے دو طبقات میں (سہولت کی غرض سے)بانٹا جا سکتاہے ،یعنی عوام اور خواص ۔ عوام ( عام صحابہ ) میں

سے بہت سے تو وہ ہیں جنہوں نے زندگی میں چندبارہی سراج منیر ۖکا دیدار کیا ، جبکہ زیادہ تروہ ہیںجو اکثر مواقع پر آپ سے ملاقات کرتے تھے بالخصوص اوقاتِ صلوٰة ( نمازوں کے وقت ) میں ۔ انہیں اگر کوئی مسئلہ درپیش ہوتاوہ آپ سے براہ راست دریافت بھی کرلیتے تھے  تاہم یہ ہمہ وقتی شاگرد بہرحال نہ تھے۔

            خواص صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم وہ خوش نصیب ترین انسان ہیں جن کا زیادہ وقت نبی کریم علیہ الصلوٰة والسلام کی معیّت میں

گزرتا تھا ۔ان کو ہم کُل وقتی شاگردکہہ سکتے ہیں ، یہ اپنی لازمی مصروفیات کو ترک کرکے نبی کریم علیہ الصلوٰة والسلام کی خدمت میں حاضر رہتے اور تعلیم الکتاب والحکمة  حاصل کرتے ۔یہ وہ سعید روحیں ہیں جنہوں نے مکمل قرآن اور اسکے معانی براہ راست آپ علیہ الصلوٰة والسلام سے سیکھے ۔ یہ وہ ہستیاں ہیں جنہیں قرآن نے رَاسِخُون فِی العِلم کے لقب سے یا د کیاہے۔

            نبی اکرم علیہ الصلوٰة والسلام  نے اپنے قول و عمل کے ذریعے قرآن حکیم کی جو تشریح و تفسیر سکھائی رَاسِخُون فِی العِلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسکے کامل عالم تھے ، یہی لوگ کامل فقہائے دین تھے ، عوام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جب کوئی مسئلہ درپیش ہو تا اور وہ فوری طور

پرنبی علیہ الصلوٰة والسلام کی خدمت میں حاضر نہ ہوسکتے تووہ انہی  رَاسِخُون فِی العِلم صحابہ کرام  کی طر ف رجوع فرماتے تھے کیونکہ خو د نبی کریم علیہ الصلوٰة والسلام  نے انہیں اسکی اجازت دے رکھی تھی ۔یہ وہ رجال علم تھے جن کے فتاویٰ پر عام صحابہ کرام  اور تابعین عمل کرنا اپنے لئے سعادت سمجھتے تھے۔ راسخون فی العلم صحابہ کرام ؓ کی تعداد کا قطعی تعین تو مشکل ہے تاہم جو بات یقین سے کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ انکی تعداد کم ازکم ایک صد سے متجاوز تھی۔ مگر ان سب کا مقام و مرتبہ اور قدرو فضیلت یکساں نہیں ۔ ان میں سے متعدد راسخون فی العلم ایسے بھی تھے جو فہم دین میں کامل دسترس رکھنے کے ساتھ ساتھ دین کے کسی خاص شعبہ میں خصوصی مہارت رکھتے تھے۔

علومِ قرآن کے وارث :اہلِ بیتِ رسول علیہھم الصلوات والسلام

        سورہ احزاب کی وہ آیات جن میں ازواج مطہرات سے خطاب کیا گیا ھے, ان میں ایک ہی رکوع میں بائیس ضمیریں جمع مؤنث کی وارد ھوئی ھیں اور اسی رکوع کے آخر پر یکدم درج ذیل آیت جمع مذکر کی ضمیروں کے ساتھ نمودار ھوتی ھے 
إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا [41]
اے اھل بیت ! اللہ چاہتا ہے کہ وہ آپ سے (گناھوں کی) نجاست دور کردے اور آپ کو (گناھوں سے) خوب پاک صاف کردے
ان جمع مذکر ضمیروں کا یکایک غیر معمولی ظھور ظاھر کرتا ھے کہ اگرچہ سیاق و سباق میں خطاب ازواج مطھرات سے ھو رھا ھے مگر اب کچھ اور خاص لوگ اس خطاب کے مخاطب بن گئے ھیں 
اس آیت کے بارے میں عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ھیں کہ یہ آیت ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ علیھا السلام کے حجرے میں نازل ھوئی. تب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ, سیدنا حسن اور سیدنا حسین علیھم السلام کو بلایا اور ایک چادر میں ڈھانپ لیا جبکہ علی علیہ السلام آپ کی پشت پر کھڑے ھوگئے اور آپ نے انکو بھی چادر میں ڈھانپ لیا. پھر آپ نے یوں دعا کی,: اے اللہ یہ سب میرے اھل بیت ھیں پس ان سے گناھوں کی نجاست دور کردے اور انھیں گناھوں سے خوب پاک صاف کردے.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنھا یہ دیکھ کر کہنے لگیں, کہ اللہ کے نبی! مجھے بھی ان میں شامل کر لیجیے تو آپ نے فرمایا
آپ پہلے ہی اپنے اعلی ٰمقام پر ھیں, جو میرے خیال میں زیادہ بہتر ھے۔[42].

معلوم ھوا کہ اھل کساء کو اھل بیت میں خاص امتیازی مقام حاصل ہے نیز ان کی گناہوں سے حفاظت کا اللہ نے  خود ذمہ لے لیا ہے لہٰذا اہلِ بیت رسول علیہم الصلوات والسلام معصوم عن الخطا تو نہیں مگر محفوظ عن الخطا ضرور ہیں۔ یہی سبب ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے اہلِ بیت کی اطاعت کا باقاعدہ حکم ارشاد فرمایا ہے۔

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنھما سے مروی ھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غدیر خم کے مقام پر صحابہ کرام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا
’’ أَنَا تَارِکٌ فِیکُمْ ثَقَلَینِ: أَوَّلُھُمَا کِتَابُ اللّٰہِ فِیہِ الْھَدْيُ وَالنُّورُ فَخُذُوا بِکِتَابِ اللّٰہِ وَاسْتَمْسِکُوا بِہِ فَحَثَّ عَلٰی کِتَابِ اللّٰہِ وَرَغَّبَ فِیْہِ۔ ثُمَّ قَالَ: وَأَھْلُ بَیْتِي اُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِي أَھْلِ بَیْتِي اُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِي أَھْلِ بَیْتِي اُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِي أَھْلِ بَیْتِي.
میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جارہا ہوں: ان میں سے پہلی بھاری چیز اللہ کی کتاب ہے۔ اس میں ہدایت اور نور ہے پس تم کتاب اللہ کو پکڑ لو اور اس کے ساتھ مضبوطی اختیار کرو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ پر عمل کے حوالے سے لوگوں کو ابھارا اور ترغیب دلائی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور (دوسری بھاری چیز) میرے اہل بیت ہیں۔ میں اپنے اہل بیت کے بارے میں تمھیں اللہ  کی یاد دلاتا ہوں، میں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں تمھیں اللہ  کی یاد دلاتا ہوں، میں اپنے اہل بیت کے بارے میں تمھیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں، یعنی اللہ سے ڈراتا ہوں۔[43]

زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی ایک دوسری روایت میں الفاظ یوں ھیں
أيُّها الناس، إنِّي تاركٌ فيكم أمرينِ لن تضلُّوا إن اتَّبعتموهما، وهما: كتابُ الله، وأهلُ بيتي عِترتي [44]
اے لوگو! میں تمھارے بیچ دو چیزیں چھوڑے جا رھا ھوں , تم جب تک ان کی پیروی کرتے رھو گے ھرگز کمراہ نہ ھوگے, یعنی اللہ کی کتاب اور میرے اھل بیت۔
سیدناُ جابرِ بن عبد الله رضي الله عنہما سے یہ الفاظ مروی ھیں
يا أيُّها الناس، إني تركتُ فيكم ما إنْ أخذتُم به لن تضلُّوا: كتاب الله، وعِترتي أهْلَ بَيتي [45]
اے لوگو! میں تمھارے بیچ دو ایسی چیزیں چھوڑے جا رھا ھوں , اگر تم ان سے چمٹے رھو گے تو ھرگز کمراہ نہ ھوگے, یعنی اللہ کی کتاب اور میرے اھل بیت۔
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے یہ الفاظ مروی ہیں
إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ خَلِيفَتَيْنِ: كِتَابُ اللهِ ، حَبْلٌ مَمْدُودٌ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، أَوْ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي[46]
میں تمھارے بیچ دو جانشین چھوڑے جارھا ھوں, یعنی کتاب اللہ جو آسمان سے لٹکی ھوئی اللہ کی رسی ھے اور میرے اھل بیت

ان احادیث سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اہلِ بیتِ رسول علیہم الصلوات والسلام  ان علومِ قرآن کے اصل وارث ہیں جو رسول اکرم ﷺ نے امت کو عطا فرمائے ہیں۔ لہٰذا اہلِ بیت علیہم الصلوات والسلام کے قول و فعل کو دوسرے صحابہ کرام ؓ کے فتاویٰ پر ترجیح حاصل ہے۔

واللہ اعلم بالصواب



[1]الشوری: ١٣               

[2]زادالمسیر فی علم التفسیر:7/277

[3]الجامع لاحکام القرآن :18/453 

 

[4]  آل عمران  ٣ :١٩

[5]              آل عمران  ٣ : ٨٥

[6]              الروم  ٣٠:٣٠

 

[7]تفسیر زادالمسیر: جلد ٦، صفحہ  ٣٠٠

 

[8]صحیح مسلم: رقم ۲۶۵۸

 

[9]              المائدة  ٥ :٣

[10]                             النساء  ٤ :١٣

 

[11]            حٰم السجدة  ٤١:٢،٣

[12]            البقرة ٢:٢

[13]            النمل ٢٧:٦

 

[14]            الحشر: ٢١

 

[15]  البقرة: :٢٣١

 

[16]            الاحزاب  :٣٤

 

[17]            آل عمران   : ١٦٤

 

[18] امام محمد بن جریر الطبری ، جامع البیان ٣:٨٩

[19]            النحل : ٤٤

 

[20]     الاحزاب :٣٣  :  ٢١

[21]            الاعراف ٧: ١٥٨

 

[22]النساء ٤  :  ١١٥

[23]    النساء ٤  :  ٨٠

 

[24] النجم: ۳۔۴

[25]            الشوریٰ ٤٢:٥٢

[26]            یٰسین۳۔۴

 

[27]النساء  ٤:٦٤

 

[28]النساء ٤  :  ٦٥

[29]            النور ٢٤  :  ٢٣

 

[30]الذاریات  ٥١:٢٤

[31]            طٰہٰ   ٢٠:٩

[32]مسند احمد: رقم   ٤١٥٧

 

[33]الفتح:٢٣

[34]صحیح المسلم: ح ٦٧٣

[35]شرح الکوکب المنیر، ج ٢، ص ١٦٠

 

[36]بدرالدین الزرکشی الشافعی ، البحرالمحیط، ج ٤، ص ١٦٧

 

[37]بدرالدین الزرکشی الشافعی ، البحرالمحیط، ج ٤، ص ١٦٦

 

[38]  شرح الکوکب المنیر : ج ١، ص ١٨٥

 

[39]            آل عمران  ٣  :  ٧

 

[40]العلق:۳۔۵

 

[41] الاحزاب :۳۳

[42] جامع الترمذی:رقم ۳۷۸۷

 

[43] صحیح مسلم: 2408

[44] مستدرک الحاکم 4577:

[45] جامع الترمذی ۳۷۸۶

[46] مسند امام احمد ۲۱۹۱۱

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading