2024-07-17
عقیدہ توحید کے تقاضے

ڈاؤن لوڈ پی ڈی ایف

عقیدہ توحید کے تقاضے

بسم اللّٰہ الرّحمٰن الرّحیم
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَحْدَہ’ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلامُ عَلٰی مَنْ لَّا نَبِیِّ بَعْدَ ہ’ اَمَّا بَعْد
ربِّ کائنات اللہ وحدہٗ لاشریک کا فرمان ہے
وَمَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِ نْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُ وْنِ
(الذاریٰت:٥٦)
اور میں نے جنات اور انسانوں کو محض اس لئے پید اکیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔
جب کوئی سائنسدان کوئی شئے ایجاد کرتا ہے تو اس کے پیشِ نظر اس ایجاد کا کوئی خاص مقصد ہوتا ہے ،خلّاق علیم ربّ العالمین نے حضرت انسان کو یو نہی کھیل کھیل میں نہیں بنادیا ،بلکہ اس کی تخلیق کا مقصدِ وحید خالصتاً اللہ تعالے ٰ کی عبادت ہے ۔

عبادت

عبادت کا لغوی مطلب کسی ہستی کی انتہائی محبت وعظمت کی وجہ سے اس کے سامنے انتہا درجہ کی ذلت وعاجزی کا مظاہرہ کرنا ہے،دوسرے لفظوں میں کہہ سکتے ہیں کہ عبادت انتہا درجہ کی محبت اور تعظیم کا اظہار ہے ۔چنانچہ مذکورہ بالا آیت میں حضرت انسان سے یہی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ دنیا میں آنکھ کھولنے سے لے کر مرتے دم آنکھیں بند ہونے تک زندگی کا ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی انتہا درجہ کی محبت اور انتہا درجہ کی تعظیم میں گزارے۔

            خالص عبادت

 یادرکھیں ،مذکورہ آیتِ مبارکہ میں صرف عبادت کا مطالبہ نہیں کیا گیا بلکہ ایسی عبادت کا مطالبہ کیا گیا ہے جس میں کسی دوسری شئے کا ذرا بھی ساجھا نہ ہو ۔اللہ تعالیٰ سے محبت ایسی ہو کہ اس سے زیادہ محبت کاتصور ہی انسانی ذہن میں نہ ہو ،اسی طرح اس کی تعظیم اس حد تک ہو کہ اس سے زیادہ تعظیم انسان کے بس میں ہی نہ ہو ۔اللہ کی محبت و تعظیم کے سامنے کُل کائنات کی محبت وتعظیم ہیچ ہے ،اللہ تعالیٰ خالقِ کائنات اور کائنات اس کی مخلوق ،اللہ مالکِ کُل اور کائنات اس کی عبدومملو ک ہے
لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَاْلاَرضِ ط اِنَّ اللّٰہَ ھُوَالْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ
 (لقمان : ٢٦)
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ،سب کا مالک اللہ ہے ،بے شک اللہ ہر شئے سے بے پروا ہے اور وہی لائق حمد ہے
پس اللہ کی محبت وتعظیم ہمیشہ مخلوق کی محبت وتعظیم پر فائق وغالب رہے ۔جب تک یہ کیفیت برقرار رہے گی انسان صراط مستقیم پر گامزن رہے گا، لیکن جب مخلوق کی محبت وتعظیم اللہ خالق کائنات کی محبت وتعظیم پر غالب ہو جاتی ہے تو انسان صراط ِمستقیم سے بھٹک جاتا ہے ۔ خالق کی بجائے مخلوق معبود بن جاتی ہے ،اللہ کے حقوق مخلوق کو دے دیئے جاتے ہیں ، اللہ کی توہین اور مخلوق کی تعظیم ہوتی ہے ۔یوں انسان کفروشرک کے زینے پہ چڑھ جاتا ہے ، کوئی تو اس زینے کے پہلے ہی درجہ پر رُک جاتا ہے اور کوئی بدبخت آخری درجے پہ پہنچ کر دم لیتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اپنے مؤمن ومخلص بندوں کی یہ امتیازی صفت بتلائی ہے:
وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَشَدُّ حُبًّا لِلّٰہِ۔
(البقرة:١٦٥
 اور اہل ایمان کو سب سے زیادہ اللہ سے محبت ہوتی ہے
جس ہستی کی محبت سب سے زیادہ ہو گی ،انسان اسی کی سب سے زیادہ تعظیم کرے گا،جہاں محبت نہ ہو وہاں تعظیم کا کوئی وجود نہیں ہوتا ،جس شخص کے دل میں ماں باپ کی محبت نہ ہو ،وہ انکی تعظیم بھی نہیں کرتا ،لہٰذا اللہ کی سب سے زیادہ تعظیم وہی شخص کر سکتا ہے ، جس کے دل میں اللہ کی محبت ساری مخلوق کی محبت سے شدید تر ہو۔

انبیا ء علیہم السلام کی پرستش

وہ مبارک ہستیاں جن کی محبت وتعظیم اللہ سے انکے تعلق کے سبب ہوتی ہے ، اگر انکی محبت وتعظیم بھی اللہ کی محبت و تعظیم پر غالب آجائے تو اس کا لازمی نتیجہ شرک کی شکل میں برآمد ہوتا ہے ۔اللہ کے ساتھ ساتھ انکی عبادت شروع ہو جاتی ہے ۔ جب انسانوں نے سیدنا عیسٰی علیہ السلام کی محبت وتعظیم کو اللہ کی محبت وتعظیم پر فوقیت دی تو موجودہ عیسائیت وجود میں آئی، جس میں سیدنا عیسٰی علیہ السلام ،انکی ماں عفیفہ مریم علیہا السلام اور روح القدس جناب جبرائیل علیہ السلام کے مجموعے پر خدا کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ان کے اس باطل عقیدہ کی تردید قرآن نے ان الفاظ میں کی ہے:
لَقَدْ کَفَرَالَّذِیْنَ قَالُوْا اِنَّ اللّٰہَ ثَالِثُ ثَلاَ ثَةٍ وَمَا مِنْ اِلٰہٍ اِلَّآاِلٰہ
وَّاحِدط
المائدة : ٧٣
 یقینا وہ لوگ کافر ہیں جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا تیسرا ہے ،حالانکہ اس معبود یکتا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے
سیدنا عزیر علیہ السلام اور سیدنا عیسٰی علیہ السلام کو علی الترتیب یہودیوں اور عیسائیوں نے اللہ کا بیٹا انکی محبت میں حددرجہ غلو کی بنا پر قرار دے رکھا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے انکے اس لغوعقیدہ کی تردید کرتے ہوئے فرمایا
وَقَالَتِ الْیَھُوْدُ عُزَیْرُنِ بْنُ اللّٰہِ وَقالَتِ النَّصٰرَی الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰہِ ط ذٰلِکَ قَوْلُھُمْ بِاَ فْوَاھِھِمْ ج یُضَاھِؤُنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ ط قَاتَلَھُمُ اللّٰہ ج اَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ
 (التوبة:٣٠)
یہود کہتے ہیں کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ عیسیٰ اللہ کے بیٹے ہیں ، یہ تو ان کے منہ کی باتیں ہی ہیں اور بس۔ یہ اپنے سے پہلے کافروں کی نقل کرتے ہوئے ایسا کہہ رہے ہیں ،اللہ ان کو ہلاک کرے ،یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں
عیسائیوں نے یہیں پر بس نہیں کی بلکہ خود سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو ہی خدا قرار دے دیا ،یہ باور کرتے ہوئے کہ اللہ تعالےٰ عیسیٰ علیہ السلام کی شکل میں زمین پر آگیا ہے اور خدا کا بیٹا خدا ہی ہو سکتا ہے:
لَقَدْکَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اِنَّ اللّٰہَ ھُوَالْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ ط
المائدة :١٧
یقینا ان لوگوں نے حق ماننے سے انکار کردیا  جنہوں نے کہا کہ عیسیٰ ابن مریم ہی اللہ ہیں
اندازہ کیجیے! جب مخلوق کی محبت وتعظیم خالق کی محبت وتعظیم پر غالب آتی ہے تو کیا کیا گل کھلاتی ہے ۔سورة التوبہ کی مذکورہ بالا آیت میں اللہ تعالےٰ نے اشارہ دیا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی محبت میں اس قدر غُلو یہود یوں اور عیسائیوں پر ہی موقوف نہیں ،بلکہ ان سے پہلے گزری ہوئی کافر قومیں بھی اس غُلو کا شکار رہی ہیں ۔یہی وہ خطرہ تھا جس کے پیشِ نظر نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے امت مسلمہ کواپنی دنیوی زندگی میں ہی خبردار کر دیا تھا کہ وہ انکی محبت وتعظیم کو اللہ کی محبت وتعظیم پر غالب نہ کر بیٹھے۔
امیر المؤمنین امام عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
لَا تَطْرُوْنِیْ کَمَا اَطْرَتِ النَّصَارٰی عَیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ فَاِنَّمَا اَنَا عَبْد فَقُوْلُوْا عَبْدُ اللّٰہِ وَرَسُوْلُہ۔
مجھے اس طرح میرے مقام سے مت بڑھانا جس طرح عیسائیوں نے عیسیٰ ابن مریم کو انکے مقام سے بڑھا دیا ،میں تو بس اللہ کا بندہ ہوں ،تم بھی مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہی کہتے رہنا۔

بت پرستی کا آغاز

بت پرستی کا آغاز بھی مخلوق یعنی غیر اللہ کی حد سے زیادہ محبت وتعظیم کی مرہون منت ہے ۔ سیدناآدم علیہ السلام کی اولاد میں پانچ نہایت نیک بزرگ گزرے ہیں ، جن کے نام وَدّ،سُوَاع،یَغُوْث،یَعُوْق اور نَسرہیں ۔یہ اپنی قوم کے اولیاء اللہ تھے،جب یہ وفات پاگئے تو لوگ ان کی قبروں پر کثرت سے آنے جانے لگے،یاد رہے کہ اس وقت تک یہ سیدنا آدم علیہ السلام کی مؤمن امت تھی ۔رفتہ رفتہ لوگوں نے ان قبروں کی مجاو رت شروع کر دی ۔مزید وقت گزرا تو لوگوں نے ان کے یاد گار ی مجسمے بنا لیے ،اس خیال کے تحت کہ ان اللہ والوں کو دیکھ کر اللہ کی عبادت کاشوق ہوگا ۔جب یہ نسل فنا کے گھاٹ اتر گئی تو ان کی اولاد نے ان  اولیاء کی محبت وتعظیم میں اتنا غُلوکیا کہ خود انہی سے دعائیں مانگنے لگے،یوں بت پرستی کا آغاز ہو گیا، وہ سب کچھ بتوں کے ساتھ ہونے لگا جو آج ہندو کرتے ہیں ۔کچھ لوگ وہ سب کچھ ان کی قبروں کے ساتھ کرنے لگے ،جو دوسرے لوگ بتوں کے ساتھ کرتے تھے۔یوں بت پرستی کے ساتھ ساتھ قبر پرستی نے جنم لیا ۔اللہ تعالے ٰ نے اس مشرک قوم کی اصلاح کیلئے سیدنا نوح علیہ السلام کو مبعوث فرمایا
قَالَ نُوْحَ رَبِّ اِنَّھُمْ عَصَوْنِیْ وَا تَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ یَزِدْہُ مَالُہُ وَوَلَدُہُ اِلَّا خَسَاراً   
وَمَکَرُوْا مَکْراً  کُبَّاراً
وَقَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِھَتَکُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدّاً وَّ لَا سُوَاعاً وَّ لَا یَغُوْثَ وَ یَعُوْقَ وَنَسْراً وَقَدْ اَضَلُّوْا کَثِیْراً ج
(نوح:٢١۔٢٤)
نوح نے کہا کہ اے میرے رب ! ان لوگوں نے میری نافرمانی کی اور ایسوں کی فرمانبرداری کی جن کے مال واولاد نے ان کو یقینا نقصان میں ہی بڑھایا ہے ۔ اور ان لوگوں نے بڑا سخت فریب کیا اور وہ کہنے لگے کہ اپنے معبودوں کو ہرگز مت چھوڑنا اور نہ وَدّ، سُواع، یَغُوث،یَعُوق اور نَسرکو چھوڑنا اور انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ۔
بت پرستی کے آغاز کے بارے مذکورہ بیان کی تفصیل سورہ نوح کی مندرجہ بالا آیات کے ذیل میں تفسیر ابن جریر ،تفسیر قرطبی ،تفسیر ابن کثیر ،تفسیر کبیراور تفسیر روح المعانی میں ملاحظہ کیجئے ۔

اَصنام العَرَب

جزیرة العرب میں جن بتوں کی پرستش کی جاتی تھی ان میں مذکورہ اولیأ اللہ، وَدّ، سُوَاع، یَغُوْث،یَعُوْق اور نَسرکے بت بھی شامل تھے۔سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ قومِ نوح میں جن بتوں کی پوجا کی جاتی تھی وہ بعدمیں عرب میں بھی پوجے جانے لگے۔ بزرگ وَدّ کا بت دومة الجندل میں قبیلہ کلب کی پوجا پاٹ کا مرکز تھا ،قبیلہ ہذیل بزرگ سُوَاع کی پرستش پر جماہو اتھا ،بزرگ یَغُوث کا بت پہلے قبیلہ مراد اور پھر ُملکِ سباکے قریب جُرف نامی مقام پر قبیلہ بنی غُطَیف کی تمنائوں کامحور تھا۔ قبیلہ ہَمدان کے لوگ بزرگ یَعُوق کے پجاری تھے،جبکہ آل ذی الکُلاع یعنی قبیلہ حَمِیر بزرگ نَسر کی پوجا کرتے تھے۔حتّٰی کہ بیت اللہ شریف میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا بت بھی آویزاں تھا اور ان کی باقاعدہ پرستش ہوتی تھی
اسی طرح لات نامی بزرگ حاجیوں کو ستو گھول کر پلایا کرتے تھے۔جب وہ وفات پا گئے تو لوگ ان کی قبر کے مجاور بن گئے اور بعد میں ان کا بھی بت بنالیا گیا
ان حقائق سے یہ امر مترشح ہوتا ہے کہ قبر پرستی ہمیشہ بت پرستی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی اور بت پرست قومیں بالعموم اپنے بزرگوں اور ولیوں کے بت بنا کر اصلاً ان بزرگوں کی پرستش کرتی تھیں ناں کہ محض مجسموں کی، اس حقیقت کی تائید درج ذیل صحیح حدیث سے بھی ہوتی ہے
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلّی اللہ علیہ وسلم سے (ان کے مرضِ وفات میں ) ماریہ نامی ایک گرجا کا ذکر کیا جو انہوں نے (ہجرت حبشہ کے دوران) حبشہ میں دیکھا تھا ۔جب انہوں نے اس گرجا گھر میں بنی ہوئی تصویر وں کا ذکر کیا تو نبی صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ (یہودونصاریٰ)ایسے لوگ ہیں کہ جب ان میں سے کوئی نیک بزرگ فوت ہو جاتا تو یہ اس کی قبر پر مسجد بنا دیتے اور اس مسجد میں یہ تصویریں بھی بنا دیتے ،یہی لوگ اللہ کے نزدیک شریر ترین مخلوق ہیں
یہ لوگ قبر پر مسجد اللہ کی عبادت کیلئے بناتے تھے،لیکن اس مسجد میں اللہ کے ساتھ غیر اللہ کو بھی حاجت روائی اورغیبی مدد کیلئے پکارتے تھے۔ ان کی یاد گاری تصاویر رفتہ رفتہ بت پرستی کا ذریعہ بن جاتی تھیں ۔غرض بت پرستی کا قبر پرستی سے چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔غیر اللہ کی عبادت کی یہ دونوں صورتیں اس وقت ظہور پذیر ہوتی ہیں جب غیر اللہ کی تعظیم ومحبت ،اللہ کی تعظیم ومحبت پر سبقت لے جاتی ہے۔

شاہ پرستی

مرکزی جزیرة العرب میں بالعموم شاہ پرستی کے آثار نہیں ملتے تاہم اس کے جڑواں ہمسایہ عربی الاصل ملک مصر میں شاہ پرستی فراعنہ قدیم سے چلی آرہی تھی ۔اسی طرح کلدانیہ میں نمرود اور ایران میں کسریٰ کی پرستش زمانہ قدیم سے مروّج تھی، ملک شام میں پوپ اور پادری رب بنے بیٹھے تھے اور انکے احکام کی پیروی اسی طرح کی جاتی تھی جیسے خدا کے احکام کی ہونی چاہیے ۔شاہ پرستی کاا صل سبب بھی شاہوں کی ایسی محبت وتعظیم ہے ،جو صرف رب العالمین کے لائق ہے۔

اِخلاص فِی الدِّین

ارشاد باری تعالےٰ ہے
وَمَآ اُمِرُوْآ اِلَّا لِیَعْبُدُ وْا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ حُنَفَآ وَیُقِیْمُوْالصَّلٰوةَ وَیُؤْتُوا لزَّکٰوةَ وَذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِ
(البینة:٥)
انہیں تو یہی حکم دیا گیا تھا کہ یکسو ہو کر اللہ کیلئے اپنے دین کو خالص کر کے اسی کی عبادت کریں اور صلوٰة قائم کریں ،زکوٰة ادا کریں ،یہی پختہ دین ہے۔
 نیز فرمایا
فَاعْبُدِ اللّٰہَ مُخْلِصاً لَّہُ الدِّیْنَ
اَ لَا لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ ج
(الزمر:٢،٣)
پس تم اللہ کی عبادت کرو اپنے دین کو اسی کیلئے خالص کرتے ہوئے ،خبردار دینِ خالص اللہ ہی کیلئے ہے
ان آیات عظیمہ کا لبّ لباب یہ ہے کہ اللہ تعالےٰ اپنے بندے کو ہر حال میں صرف اپنا پرستار دیکھنا چاہتا ہے ،ایسا کیوں نہ ہو کہ عظمت وکبریا ئی کا تاج صرف اسی کے سر پر سجتا ہے۔
اَلْعَظْمَةُ لِلّٰہِ جَمِیْعًا۔
ساری کی ساری عظمت کا مالک اللہ ہے۔
فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْم۔
(الواقعة:٩٦)
پس اپنے عظمت والے رب کے نام کی پاکی بیان کرتے رہیے۔
لہٰذا بندے پر لازم ہے کہ اعتقاد وعبادات ،معا ملات واخلاقیات ہر شعبہ ء دین میں صرف اللہ کی بندگی کا رنگ نظر آئے ،غیراللہ کی عبادت کا شائبہ تک نہ ہو ،یہی دین ِ خالص ہے ۔ 
گویا یہ کیفیت ہو
صِبْغَةَ اللّٰہِ ج وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبْغَةً وَّ نَحْنُ لَہ عٰبِدُوْن
 ( البقرة:١٣٨)
ہم پر تو بس اللہ (کے دین خالص ) کا رنگ چڑھا ہے ،اور اللہ کے رنگ سے بہتر کونسا رنگ ہو سکتا ہے ۔اور ہم تو بس اسی کی عبادت کرنے والے ہیں ”۔
بندہ مؤمن کا دل اللہ کی محبت سے سرشار اور اسی کی رضا کا طلبگار ہوتا ہے۔ایسا کیوں نہ ہو کہ جب دنیا کا یہ قاعدہ ہے کہ اگر ایک انسان کسی دوسرے انسان کو کوئی تحفہ دے ،پھر ایک بار نہیں بار بار دیا کرے، تو تحفہ قبول کرنے والے کے دل میںتحفہ دینے والے کے لئے محبت والفت کا فوارہ پھوٹ پڑتا ہے ۔کہاں اک حقیر سے بندے کے یہ حقیر تحفے اور کہاں رحمان ورحیم رب العالمین کی ان گنت اور لامتناہی نواز شیں اور نعمتیں ؟؟
وَاٰتٰکُمْ مِنْ کُلِّ مَاسَأَ لْتُمُوْہُ ط وَ اِنْ تُعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْھَاط
 (ابراہیم :٣٤)
اور جو کچھ تمہیں مطلوب تھا اس نے وہ سب کچھ تمہیں عطا کیا ،اگر تم اللہ کی نعمتیں گنتی کرنے لگو تو ہرگز ان کو شمار نہ کرسکو گے۔
اللہ کی نعمتیں اس قدر لامتناہی ولامحدود ہیں کہ اگر سب انسان مل کران نعمتوں کا شمار کرنے لگیں تو قیامت تک آنے والے انسانوں کی زندگیاں تو ختم ہو جائیں گی لیکن اللہ کی نعمتیں ختم نہ ہونگی۔ابھی حضرت انسان کا خمیر مٹی میں تھاکہ جب اللہ تعالیٰ نے قیامت تک آنے والے انسانوں کی تمام حاجات وضروریات کا سامان پیدا فرما دیا تھا ،قوت وحرارت اور روشنی کیلئے سورج پیدا کیا ، کرہ ارض پر وہ تمام لوازمات پیدا کر دیئے جو اس پر زندگی کے قیام وبقا کیلئے لازمی ولابدی تھے،خلیات کی تخلیق وتشکیل اور افزائش کیلئے پانی پیدا کر دیا ،خوراک کی مستقل فراہمی کیلئے نباتات،حیوانات اور معدنیات پیدا کردیں۔کرہ ارض پر زندگی کے تحفظ کیلئے کرہ ہوائی بنا دیا ،جو خلا سے آنے والے لاکھوں شہابیوں کی تباہ کن بارش سے زمین کو محفوظ رکھتا ہے ۔ انسانی نظام حیات کی بقاکیلئے دن اور رات کا معتدل نظام بنا دیا کہ دن معاش کے حصول کیلئے اور رات آرام وسکون کیلئے کافی ہو۔
اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدًا
 وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا
 وَّخَلَقْنٰکُمْ اَزْوَاجاً
 وَّجَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتاً
وَّجَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاساً
 وَّجَعَلْنَا النَّھَارَ مَعَاشاً
 وَّبَنَیْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعاً شِدَاداً
 وَّجَعَلْنَا سِرَاجَاً وَّ ھَّاجا
وَّاَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرَاتِ مَآءً ثَجَّاجاً
 لِّنُخْرِجَ  بِہ حَبّاً وَّنَبَاتاً
وَّجَنّٰتٍ اَلْفَافاً
 (النبا:٦-١٦)
کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا اور پہاڑوں کے میخ نہیں گاڑے، اور ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ،اور ہم نے تمہاری نیند کو آرام کا سبب بنا دیا اور رات کو ہم نے لباس (پردہ ) بنایا اور دن کو ہم نے وقت ِروز گار بنایا اور تمہارے اوپر ہم نے سات مظبوط آسمان بنائے، او ر ایک چمکتا ہوا روشن چراغ (سورج ) بنایا ،اور ہم نے بادلوں سے کثرت کے ساتھ بہنے والا پانی برسایا تاکہ اس سے اناج اور سبزیاں اگائیں اور گھنے باغ بھی ۔
 اللہ تعالیٰ کے ان لامتناہی انعامات کے باوجود بندہ مؤمن کے دل میں اللہ کی محبت وعظمت ساری مخلوق سے بڑھ کر نہ ہو ،یہ کیسے ممکن ہے؟ بندہ مؤمن کی شان تو یہ ہے کہ وہ اپنے قول وفعل سے اس حقیقت کی گواہی دے
اِنَّ صَلاَ تِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
(الانعام: ١٦٢)
بلا شبہ میری نماز اور میری نذرونیاز (قربانی)،میرا جینا اور میرا مرنا صرف اللہ کیلئے ہے جو سب جہانوں کا پروردگار ہے

غَیرُاللّٰہ سے کیا مراد ہے؟

جس بندے کے دل میں اللہ تعالیٰ کی انتہائی محبت اور تعظیم بسی ہو ،اس کا دل اللہ کے خوف سے لبریز ہو ،کیا یہ ممکن ہے کہ وہ غیر اللہ کی عبادت کرنے لگے ؟یاد رہے کہ غیر اللہ یا مِنْ دُوْنِ اللّٰہ سے مراد محض حجری ودھاتی بت نہیں ،بلکہ اللہ کے سوا ہر شئے غیر اللہ ہے۔اللہ تعالیٰ خالق ہے ،ساری کائنات اسکی مخلوق ،خواہ مادی مخلوق ہو یا غیر مادی ،نوری ہو یا ناری ،خاکی ہو یا آبی ،ارضی ہو یا سماوی۔ انبیاء وصدیقین، شہداوصالحین یقینا اھل اللّٰہ ہیں لیکن نہ وہ اللہ ہیں اور نہ اللہ جیسی صفات الوہیت وربوبیت کے مالک ہیں ۔لہٰذا اھل اللّٰہ (اللہ والے) بھی غیر اللہ ہیں ۔ جیسا کہ اس آیت مبارکہ میں ارشاد ہے
اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ عِبَاد” اَمْثَالُکُمْ فَادْعُوْھُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ
 (الاعراف:١٩٤)
بے شک جن کو تم اللہ کے سوا (حاجت روائی کیلئے ) پکارتے ہو وہ تمہارے ہی جیسے بندے ہیں ،پس تم انہیں پکار دیکھو انہیں چاہیے کہ تمہاری پکار کا جواب دیں،اگر تم (انکے الٰہ ماننے کے عقیدہ میں ) سچے ہو ”۔
واضح رہے کہ اس آیت میں عِبَاد اَمْثَالُکُمْ سے اصلاً وہ ہستیاں مراد ہیں ،جنہیں اللہ کے سوا مشکل کشا وحاجت روا اور کرنی والا سمجھ کے حاجت روائی اور غیبی مدد کیلئے پکارا جاتا ہے۔ سابقہ سطور میں مذکور ہوا کہ لکڑی وپتھر کے بت بھی گزشتہ انبیا ء و اولیا ٔ کی تراشی ہوئی شبیہیں ہوتی تھیں جنہیں تصور کی پختگی اور تقرب کی غرض سے تراشا جاتا تھا۔ لہٰذا آیت مذکورہ میں ان ہستیوں کی یہ شبیہیں بھی مراد ہیں ۔
اھل اللّٰہ کے غیر اللہ ہونے کی دوسری دلیل یہ آیت مبارکہ ہے
وَاِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ اٌ اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَاُمِّیْ اِلٰہَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ط
( المائدہ: ١١٦)
اور جب (روز قیامت ) اللہ تعالیٰ (عیسیٰ ابن مریم) سے فرمائے گا کہ اے عیسیٰ ابن مریم ! کیا تم نے لوگوں سے کہاتھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سِوا معبود بنا لینا؟
یہاں سیدنا عیسیٰ اور انکی والدہ عفیفہ مریم علیہما السلام کو ”مِنْ دُوْنِ اللّٰہ”کے ذریعے اللہ سے الگ تھلگ (غیر اللہ) قرار دیا گیا ہے۔ حیرت ہے اس شخص پر جوانبیاء واولیا ٔ کو ”غیر اللہ” قرار دینے کو انبیاء واولیا ٔ کی توہین سمجھتا ہے ،کاش اس شخص کے دل میں اپنے رب اللہ تعالےٰ رحمان ورحیم کی محبت ہوتی تو وہ جان لیتا ہے کہ انبیاء و اولیا ٔ کو غیر اللہ سمجھنے سے ان عظیم ہستیوں کی توہین فی الواقع نہیں ہوتی البتہ ان کو غیر اللہ تسلیم نہ کرنے سے لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ (نہ اس کے وجود سے کوئی دوسرا وجود نکلا ،اور نہ وہ خود کسی دوسرے وجود سے نکلا ہے)کی نفی یقینا ہوتی ہے ،جس میں اللہ تعالیٰ صاحبِ جلال وجبروت کی توہین ضرور ہوتی ہے۔اس آیت مبارکہ کی نفی میں اللہ کی کس قدر شدید توہین ہے ، اس کا اندازہ درج ذیل آیات سے کسی حد تک کیا جاسکتا ہے :
وَقَالُوْا تَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا
 لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْأً اِدّاً
تَکَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَتَنَشَّقُ الْاَرْضُ وَتَخِرُّالْجِبَالُ ھَدًّا
اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَداً
 (مریم :٨٨-٩١)
اور کہتے ہیں کہ رحمن کا بیٹا ہے ۔تم تو نہایت بری بات بنالائے ہو ،قریب ہے کہ تمہارے اس جھوٹ سے آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ پارہ پارہ ہو کر گر پڑیں کہ انہوں نے اللہ رحمن کیلئے بیٹا تجویز کیا ہے
انبیاء واولیا ٔ کو غیر اللہ ماننے سے انکار انہیں اللہ کی ذات کا جزو قرار دینا ہے ،جس سے لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ کی نفی لازم آتی ہے۔بالکل سچ فرمایا اللہ تعالیٰ نے
مَا لَکُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰہِ وَقَاراً
 وَقَدْ خَلَقَکُمْ اَطْوَارًا
 (نوح:١٣،١٤)
تمہیں کیا ہوا کہ تمہارے نزدیک اللہ کا کوئی وقار ہی نہیں ،حالانکہ اسی نے تمہیں طرح طرح سے بنایا ہے
وَ مَا قَدَرُوْا اللّٰہَ حَقَّ  قَدْرِہ۔ 
 (الانعام: ٩١)
لوگوں نے اللہ کی قدرہی نہیں جانی ،جیسا کہ اسکی قدر کرنے کا حق تھا۔
ایسے ہی لوگوں سے اللہ نے پوچھا ہے
یٰاَ یُّھَا الْاِنْسَانُ مَاغَرَّکَ بِرَ بِّکَ الْکَرِیْمِ
  (الانفطار :٦)
اے انسان آخر تجھے کس چیز نے اپنے کریم رب کے بارے میں دھوکے میں ڈال رکھا ہے؟
حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
آدم کا بیٹا مجھے گالی دیتا ہے  صحابہ نے نبی صلّی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون بدبخت اللہ کو گالی دیتا ہے ،نبی صلّی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جوکہتا ہے کہ اللہ کی اولاد ہے وہ اللہ کو گالی دیتا ہے۔
انبیاء واولیا ٔ کو غیر اللہ نہ ماننے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے وجود سے پیدا ہوئے ہیں۔ ایسا عقیدہ اسی طرح شرک اکبر ہے جیسے سیدنا عیسیٰ یا سیدنا عزیر علیہما السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دینا ۔
علمائے کلام کے ہاں یہ بات وجہِ نزاع رہی ہے کہ صفات باری تعالیٰ عَین ِذات ہیں یا   غَیْرِ ذات یعنی صفات جمیلہ کو اللہ کی ذات کا حصہ مانا جائے یا انہیں غیر اللہ سمجھا جائے ۔جمہورائمہ امت کا عقیدہ ہے کہ صفات باری تعالیٰ ،اسکی ذات کے ساتھ قائم ہیں ، اور یہ لوگ ہیں کہ مخلوق (انبیاء واولیأ ) کوغیر اللہ ماننے کیلئے تیارنہیں ۔

اخلاص فی العبادت

اللہ وحدہ لاشریک لہ ،کا ارشاد پاک ہے
یٰاَیُّھَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ
الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِہ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقاً لَّکُمْ  فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ اَنْدَاداً وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
(البقرة: ٢١،٢٢)
اے انسانو ! اپنے اس رب کی عبادت کر و جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیاتاکہ تم (جہنم کی ااگ سے )بچ جاؤ۔  وہی (اللہ) ہے جس نے زمین کو تمہارے لئے فرش بنایا اور آسمان کو چھت بنایا ،آسمان سے بارش برسائی جس کے ذریعے تمہارے کھانے کیلئے انواع واقسام کے پھل پیدا کئے ،پس تم کسی کو اللہ کا شریک مت ٹھہرائو اورتم خود بھی جانتے ہو۔
عبادت کا مستحق صرف خالق کائنات ہے،جو کُل کائنات کا تن تنہا آقا و مالک ہے۔ جس نے انسانوں کو پیدا کیا اور انکی تمام حاجات انکی پیدائش سے پہلے ہی پیدا کردیں۔انہیں رحم مادر میں نوماہ رزق فراہم کیا ،جہاں رزق فراہم کرنے والی کوئی ہستی تھی ہی نہیں ۔وہ دنیا میں آئے تو ان میں رزق مانگنے کی اہلیت بھی نہ تھی مگر اس کریم رب نے انکی مائوں کے سینے میں ان کارزق پیدا کر دیا ،اور وہ تقریباً دو سال دودھ کی نعمت سے بہرہ ور ہوتے رہے ۔ان کی مائوں کے دل میں انکی محبت پیدا کی جو انکی پرورش کرتی رہیں ،ان کے باپوں کے دل میں انکی چاہت برقرار رکھی جو ان کی خوراک کا انتظام کرتے رہے ،خود انکے ماں باپ کو وہی کریم رزق دیتا رہا ۔تاآنکہ وہ خود بڑے ہو کر اللہ کے پیدا کیے ہوئے رزق میں سے اپنا حصہ تلاش کرنے کے قابل ہو گئے ۔اللہ تعالیٰ ان سب نعمتوں کے بدلے صرف ایک تقاضاکرتا ہے کہ اے انسانو! صرف میری عبادت کرو کسی کو میرا شریک نہ ٹھہرائو۔ بندہ مؤمن اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر لبیک کہتا ہے اور اپنی تمام تر عبادت اسی کے لئے خاص کر دیتا ہے۔ عبادت کی جتنی صورتیں ،شکلیں ہیں ،قولی ،فعلی ،مالی،بدنی سب اللہ کیلئے مختص کر دیتا ہے۔

دُعا

بندہ مؤمن ہر حال میں اپنے رب کو پکارتا ہے ،جنگل ہو یا دریا ،دن ہو یا رات،جب بھی اسے کوئی ضرورت لاحق ہوتی ہے،کسی مشکل کا سامنا ہوتا ہے ،کوئی پریشانی آڑے آتی ہے تو وہ خالصتاًاللہ کو پکارتا ہے ،کیونکہ اس کا اعتقاد ہے کہ اللہ ہی مشکل کشا اور حاجت رواہے ،اس کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں جو فوق الاسباب مشکل کشائی کر سکتی ہو ،اسکی مصیبت دور کر سکتی ہو ،اس کے غم کو خوشیوں میں بدل سکتی ہو ،اسکی جھولی بھر سکتی ہو ،اسکی بگڑی بنا سکتی ہو ، اسے رزق دے سکتی ہو ،اس کا مرض دور کرکے اسے شفا دے سکتی ہو۔بندہ مؤمن اللہ کے ان فرامین پر کامل یقین رکھتا ہے:
فَادْعُوْا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ وَلَوْکَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ
(المؤمن:١٤)
پس تم اللہ ہی کو پکارو اپنے دین کو اسی کیلئے خالص رکھتے ہوئے خواہ کافروں کو تمہارا یہ عمل کتنا ہی ناگوار گزرے۔
اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمْضْطَرَّاِذَا دَعَاہ وَیَکْشِفُ السُّوْءَ وَیَجْعَلُکُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ ط ءَ اِلٰہ مَعَ اللّٰہِ طقَلِیْلاً مَّا تَذَکَّرُوْنَ
  (النمل: ٦٢)
کون ہے جو بے قرار کی پکار قبول کر کے اس کی تکلیف دور کرتا ہے؟ اور تمہیں زمین میں دوسروں کا جانشین بناتا ہے ،کیا اللہ کے سوا کوئی اور معبودہے ؟ تم بہت کم نصیحت پکڑتے ہو۔
قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْکُمْ مِنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّوَالْبَحْرِ تَدْعُوْنَہ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً ج لَئِنْ اَنْجٰنَا مِنْ ھٰذِہ لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیْنَ
قُلِ اللّٰہُ یُنَجِّیْکُمْ مِنْھَا وَ مِنْ کُلِّ کَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِکُوْنَ
(الانعام :٦٣،٦٤)
 اے نبی( ) کہہ دیجئے کہ کون ہے جو تمہیں جنگلوں اور دریاؤں کے اند ھیروں سے نجات دیتا ہے ،جب تم اسے عاجزی سے اور چپکے چپکے پکارتے ہو (اور کہتے ہو) کہ اگر اللہ ہم کو اس مشکل سے نجات بخشے تو ہم ضرور شکر گزار بن جائیں گے۔کہہ دیجئے کہ اللہ ہی تمہیں اس مشکل سے اور ہر تکلیف سے نجات دیتا ہے ،تم پھر بھی اس کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہو۔
بندۂ مؤمن اللہ تعالیٰ کی عبادت دعا کو حقیر سمجھ کر کسی اور کو غیبی مدد کیلئے نہیں پکارتا بلکہ عبادت کی یہ شکل اللہ ہی کیلئے خالص رکھتا ہے
وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَھَنَّمَ دَاخِرِیْنَ
  (المؤمن :٦٠)
اور تمہارے رب کا حکم ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری پکار قبول کروں گا بیشک جو لوگ میری عبادت کو حقیر جانتے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہونگے۔
اس آیت مبارکہ میں اللہ کی عبادت کو حقیر جاننے سے مراد یہ ہے کہ اللہ کی بجائے غیر اللہ کو فوق الاسباب مشکل کشائی کیلئے پکارا جائے ۔
عبادت اللہ کی ہو یا غیر اللہ کی اس کا اصل مغزدعا (پکارنا) ہے جیسا کہ نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے
اَلدُّعَاءُھُوَالْعِبَادَةُ
دعا ہی اصل عبادت ہے۔
دعا (حاجت روائی کیلئے پکارنا ) ایسی عبادت ہے جو ہر جگہ ،ہر وقت نہ صرف یہ کہ ہو سکتی ہے بلکہ انسان ا س عبادت کا ہمہ وقت محتاج رہتا ہے، اس لئے نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے صبح جاگنے سے لے کر رات کو سونے تک ہر کام کی دعا ئیں سکھائی ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت ہر وقت مؤمن کے ساتھ رہے ،کسی لمحے میں مؤمن کو یہ محسوس نہ ہو کہ وہ تائیدِ الہٰی سے محروم ہے۔
جب اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کو پکارا جائے گا تو اس سے اللہ تعالیٰ کی توہین لازم آئے گی ، کیونکہ غیر اللہ کو پکارنے والامخلوق کی تعظیم ومحبت کو اللہ کی تعظیم ومحبت پر فوقیت دے کر اللہ کی عبادت کی تحقیر کرتا ہے ، اسلئے فرمایا کہ غیر اللہ کو پکار کر اللہ کی تحقیر کرنے والا سیدھا جہنم میں جائے گا۔
بندہ مؤمن جانتا ہے کہ غیر اللہ کو پکارنا کہ وہ غیب سے حاجت روائی کرے شرک ِاکبر ہے۔ جیساکہ نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے کہلوایا گیا ہے:
قُلْ اِنَّمَآ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَ لَآ اُشْرِکُ بِہ اَحَداً
  (الجن:٢٠)
کہہ دیجئے کہ میں تو صرف اپنے رب کو پکارتا ہوں ،اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا ۔
بندہ مؤمن اللہ تعالیٰ کے بعد سب سے زیادہ محبت اللہ کے محبوب خاتم النبین محمد رسول اللہ علیہ الصلوٰة والسلام سے رکھتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جب تک اسے نبی صلّی اللہ علیہ وسلم دنیا ومافیہاسے زیادہ محبوب نہیں ہوجاتے ،اس کا ایمان نکمّا ہے ۔پیارے نبی صلّی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَالِدِہ وَوَلَدِہِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ۔
تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا کہ جب تک میں اسے اس کے والدین ،اسکی اولاد اور تمام انسانوں سے سب سے زیادہ محبوب نہ ہوجائوں ۔
مؤمن ،نبی صلّی اللہ علیہ وسلم کی حددرجہ محبت وتعظیم کے باوجود آپۖ  کو اللہ سے نہیں بڑھاتا ، کیونکہ اللہ خالق ہے اور نبی مخلوق،لہٰذا بندۂِ مؤمن کو کتنی ہی پریشانی لاحق ہو ،اس پر کتنی بڑی مشکل کیوں نہ آن پڑے ،وہ مشکل کشائی کیلئے نہ انبیاء کو پکارتا ہے نہ امام الانبیاء علیہم الصلوٰة والسلام کو ، اہل بیت رسول رضی اللہ عنہم کو پکارتا ہے ،نہ دوسرے اولیأ اللہ کو۔ مؤمن کا ایمان ہے کہ دنیا جہان کے تمام خزانوں کا مالک بھی اللہ ہے اور ان خزانوں کی کنجیاں بھی اسی کے پاس ہیں ۔اس نے انبیاء واولیأ کو ان خزانوں کی تقسیم پر مامور نہیں فرمایا۔بلکہ تمام مخلوقات کووہ اکیلا ہی رزق عطا فرماتا ہے:
وَکَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَھَا  اَللّٰہُ یَرْ زُقُہَا وَاِیَّاکُمْ وَھُوْ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ
(العنکبوت:٦٠)
اور بہت سے جانور ایسے ہیںکہ اپنا رزق اپنے ساتھ اٹھائے نہیں پھرتے ،اللہ ان کو بھی رزق دیتا ہے اور تمہیں بھی ،وہ سننے والا اور جاننے والا ہے
یٰاَیُّھَا النَّاسُ اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ ط ھَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰہِ یَرْزُقُکُمْ مِنَ السَّمَآئِ وَ الْاَرْضِ ط لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ فَاَنّٰی تُؤْفَکُوْنَ
 (الفاطر:٣)
اے انسانو ! اللہ نے تمہیں جو نعمتیں عطا کر رکھی ہیں ذرا انہیں یاد کرو۔ کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تمہیں آسمانوں اور زمین سے رزق دے سکے،اس کے سوا کوئی معبود نہیں ،پس تم کہاں بہکے پھرتے ہو۔
معلوم ہوا کہ خالق ہی رازق ہو سکتا ہے ،خالق کے سوا کوئی ہستی رزق نہیں دے سکتی ۔ سب انسان بشمول انبیاء واولیاء ،اللہ تعالیٰ کے درکے بھکاری ہیں ،یہ سب اسی سے مانگتے تھے اور مانگتے ہیں ،وہی الوھّاب (دینے والا ) ہے ،وہی دیتا ہے:
یٰاَیُّھَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ  اِلٰی اللّٰہِ  وَاللّٰہُ ھُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ
 (الفاطر:١٥)
اے انسانو! تم سب اللہ کے در کے منگتے ہو، اللہ کو کسی کی پرواہ نہیں ، وہی لائقِ حمد ہے ۔
مؤمن کا یہ بھی اعتقاد ہوتا ہے کہ اسے صرف وہی مصیبت پہنچ سکتی ہے جو اللہ نے اس کیلئے لکھ دی ہے ، لہٰذا اس مصیبت کو ٹال بھی وہی سکتا ہے ، جس نے اسے بھیجا ہے ، اس کے سوا کوئی دوسری ہستی حتیٰ کہ انبیاء  و اولیاء بھی اس مصیبت کو نہیں ٹال سکتے ، جب تک کہ اللہ نہ چاہے وہ مصیبت دور نہیں ہو سکتی :
قُلْ لَنْ یُّصِیْبَنَآ اِلَّا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَنَا جھُوَ مَوْلٰنَا وَ عَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ
 (التوبة :٥١)
کہہ دیجئے کہ ہمیں کوئی مصیبت نہیں پہنچ سکتی سوائے اس کے جو اللہ نے ہمارے لئے لکھ دی ہو ، وہی ہمارا مولیٰ (کارساز) ہے ، اور مؤمن تو اللہ ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں
وَاِنْ یَّمْسَسْکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلاَ کَاشِفَ لَہ اِلَّا ھُوَج وَاِنْ یُّرِدْکَ بِخَیْرٍفَلاَ رَآدَّ لِفَضْلِہ ط یُصِیْبُ بِہ مَنْ یَّشآءُ مِنْ عِبَادِہ ط وَھُوَالْغَفُوْرُ الرَّحِیْمِ (یونس:١٠٧)
اور اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو اس کے سوا کوئی اس تکلیف کو دور نہیں کر سکتا اور اگر وہ تمہیں خیر سے نوازنا چاہے توا س کے فضل کو کوئی دور نہیں ہٹا سکتا۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نوازتا ہے وہ بخشنے والا مہربان ہے۔
قُلْ مَنْ م بِیَدِہ مَلَکُوْتُ کُلِّ شَیْئٍ وَّھُوَ یُجِیْرُ وَلَا یُجَارُعَلَیْہِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
سَیَقُولُوْنَ لِلّٰہِ ط قُلْ فَاَنّٰی تُسْحَرُوْنَ
(المؤمن:٨٨،٨٩)
اے نبی کہہ دیجئے کہ اگر تمہیں معلوم ہے تو بتائو کہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہی ہے اور وہی پناہ دیتا ہے ،اسکے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا ۔ فوراً کہہ دیں گے کہ اللہ تعالیٰ ،کہہ دیجئے پھر تم سحرزدہ کیوں ہو جاتے ہو؟
بندہ مؤمن کا ایمان ہی یہ  ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر اللہ کے بندوں کو ما فوق الاسباب کا رساز سمجھنا اور انہیں کار سازی کیلئے پکارنا کفرو شرک ہے
اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اَنْ  یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دْوْنِ اَوْلِیَآء ط اِنَّا اَعْتَدْنَا جَھَنَّمَ لِلْکٰفِرِیْنَ نُزُلاً
 (الکہف:١٠٢)
کیا کا فروں نے یہ (جائز ) سمجھ رکھا ہے کہ وہ ہمارے بندوں کو ہمارے سوا کار ساز بنائیں ۔یقینا ہم نے ایسے کافروں کیلئے جہنم کی مہمانی تیار کر رکھی ۔
مؤمن اپنا حقیقی کارساز و مشکل کشا صرف اللہ کو گردانتا ہے
ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ مَوْلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اَنَّ الْکٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰی لَھُمْ
(محمد:١١)
یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤمنوں کا مولیٰ ہے جبکہ کافروں کا کوئی مولیٰ نہیں ۔
ان حقائق وعقائد کے سبب مؤمن ہمیشہ اللہ ہی سے دعا کرتا ہے ، اسی کے سامنے التجا کرتا ہے، اسے اپنے دُکھڑے سناتا ہے ، اپنی بے بسی وعاجزی کا اظہار کرتا ہے ،اپنے گناہوں کی بخشش مانگتاہے اور حاجتیں اسکے حضور پیش کرکے انہیں پورا کر نے کی درخواست کرتا ہے ،اس یقین کے ساتھ کہ وہ یقینا انہیں پورا کرے گا۔واقعتا وہ اپنے بندوں کی حاجتیں پوری کرتا ہے ۔

اِستَغَاثہ

فریاد کرنا
بندہ مؤمن کا ایمان ہی یہ ہے کہ سب سے بڑا فریاد رس اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں لہٰذا وہی اس لائق ہے کہ اس کے سامنے انتہا درجہ کی عاجزی وانکساری اور محبت کے ساتھ فریاد کی جائے وہی فریاد وں کو دور ونزدیک ہر جگہ سے یکسا ں طور پر سنتا ہے اور وہی فریادیں پوری کرنے کا اختیار رکھتا ہے ۔ہمارے پیارے نبی صلّی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمیشہ اللہ کے حضور فریاد کی اور اللہ نے انکی فریاد رسی فرمائی کہ وہی مُسْتَغِیْث (فریاد رس ) ہے۔نبی صلّی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی ہمیشہ اللہ سے استغاثہ کیا ۔
اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبُّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ اَنِّیْ مُمِدُّکُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰئِکَةِ مُرْدِفِیْنَ
 وَ مَا جَعَلَہُ اللّٰہُ اِلَّا بُشْرٰی وَ لِتَطْمَئِنَّ بِہ قُلُوْبِکُمْ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ  اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْز” حَکِیْم
 (الانفال: ٩،١٠)
جب تم لوگ اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے تو اس نے تمہاری فریاد رسی کرتے ہوئے فرمایا کہ میں تمہاری پے درپے آنے والے ایک ہزار فرشتوں سے مدد کروں گا اور اللہ نے یہ کام صرف تمہاری خوشخبری اور تمہارے دلوں کی تسلی کیلئے کیا اور مدد تو اللہ ہی کے پاس ہے ، بلاشبہ اللہ غالب حکمت والا ہے
نبی صلّی اللہ علیہ وسلم نے پریشانی کے عالم میں اللہ سے فریاد رسی کرنے کیلئے یہ دعا سکھائی ہے۔
یَاحَیُّ یَا قَیُّومُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ۔
اے ہمیشہ سے زندہ اور قائم رکھنے والے رب میں تیری رحمت کے صدقے تجھ سے فریاد کرتاہوں۔
مؤمن ،پیر ومرشد شیخ عبدالقادر جیلانی نوّر اللہ مرقدہ کے عظیم تقویٰ کو نمونہ بنا کر ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی حتی الوسع کوشش کرتا رہتا ہے ،مگر انہیں غوث الاعظم قرار دے کر انہیں اللہ کے ساتھ شریک نہیں کرتا اور نہ ہی انہیں فریاد رسی کیلئے پکارتا ہے ۔اسی طرح وہ دیگر اولیأ اللہ یا انبیاء سے غائبانہ استغاثہ کرنے کی بجائے صرف اللہ سے استغاثہ کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر اس نے فوق الاسباب استغاثہ غیر اللہ سے کیا تو وہ شرک کا مرتکب ہو کر اپنے رحمن رب کو ناراض کر بیٹھے گا ۔کوئی مؤمن اپنے رب کو ناراض نہیں کرنا چاہتا۔

اِستَعانَت

 مدد مانگنا
مؤمن خوب جانتا ہے کہ مخلوق سے تحت الاسباب مدد مانگنے اور کسی غائب ہستی سے فوق الاسباب غیبی مدد چاہنے میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔تحت الاسباب ایک دوسرے سے مدد مانگنا اور ایک دوسرے کی مدد کرنا عادی امور میں سے ہے ،تحت الاسباب مدد مانگنے کا عام قاعدہ ہے کہ بندہ کسی معاملے میں کسی ایسے شخص سے مدد مانگتا ہے جس کے بارے میں اسے یقین ہوتا ہے کہ وہ واقعی اس کی مدد کر سکتا ہے ۔مثال کے طور پر کوئی شخص بھاری بوجھ اٹھاتے وقت کسی دودھ پیتے بچے سے مدد نہیں مانگتا ،بلکہ کسی جوان آدمی سے کہتا ہے کہ وہ بوجھ اٹھانے میں اس کی مدد کرے۔
 اسباب کے دائرے سے باہر جس ہستی سے غیبی مدد مانگی جا سکتی ہے وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ،کیونکہ وہی مسبب الاسباب ہے ۔وہی اپنے بندوں کی اس خفیہ انداز میں مدد کرتا ہے کہ انہیں پتہ بھی نہیں چلتا اور انکی بگڑی بن جاتی ہے ۔اٹکا ہوا کام چل پڑتا ہے ،ڈوبی ہوئی کشتی تیرنے لگتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جو اس انداز میں پراسرار طور پر فوق الاسباب غیبی مدد کرسکے ۔ انبیاء ورسل اور اولیا وقطب بھی فوق الاسباب غیبی مد د کرنے سے قاصر ہیں بلکہ وہ تو خود اللہ کی مدد ونصرت کے محتاج ہیں ۔
اَلْمُسْتَعانُ (وہ ہستی جس سے مدد چاہی جائے)صرف اللہ ہے :
وَاللّٰہُ الْمْسْتَعانُ عَلٰی مَا تَصِفُوْنَ
(یوسف :١٨)
جو کچھ تم باتیں بنارہے ہو ،اس پر اللہ ہی کی مدد درکار ہے
عون ونصرت ہمیشہ اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے:
وَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ ۔
 (الانفال:١٠)
اور مدد تو اللہ ہی کے پاس ہے
اِنْ یَّنْصُرُکُمُ اللّٰہُ فَلاَ غَالِبَ لَکُمْ وَاِنْ یَّخْذُ لْکُمْ فَمَنْ ذَا لَّذِیْ یَنْصُرُکُمْ مِنْ م بَعْدِہ ۔
(آل عمران :١٦٠)
اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں رسوا کرے تو اور کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرسکے”۔
وَمَا لَکُمْ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍ وَّ لَا نَصِیْرٍ
  (التوبہ:١١٦)
اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی کار ساز اور مدد گار نہیں ”۔
جب اللہ کے سوا کوئی دوسری ہستی فوق الاسباب غیبی مدد کرنے کی طاقت ہی نہیں رکھتی تو غیر اللہ کو مدد کیلئے پکارنے کا کیا فائدہ ؟مدد مانگنے کیلئے ایک ہی نعرہ بر حق ہے یعنی ”یا اللہ مدد” ۔
نبی ،علی ،ولی میں سے کوئی بھی فوق الاسباب غیبی مدد نہیں کر سکتے ۔ذرا غور فرمائیے! حالت جنگ میں موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کیافرمایا تھا۔
قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰہِ وَ اصْبِرُوْا
 (الاعراف: ١٢٨)
موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہاکہ اللہ ہی سے مدد مانگو اور صبر سے ڈٹے رہو۔
انہوں نے نہ تو ابوالبشر آدم علیہ السلام کو مدد کیلئے پکارا ،نہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کو اور نہ ہی امام الانبیاء محمد رسول اللہ علیہ الصلوٰة والسلام کو ۔اگر ایسا کرنا جائز ہوتا تو موسیٰ علیہ السلام کی قوم اس سخت مشکل وقت میں مذکورہ انبیاء علیہم السلام کو پکارتی تو کیا حرج تھا؟ آخر انہیں صرف اللہ ہی سے مدد مانگنے پر اصرار کیوںتھا ؟کیونکہ اللہ کے سوا کوئی دوسری ہستی فوق الاسباب غیبی مدد کرنے پر قادر ہی نہیں ۔اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا
اَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلّٰہِ فَلاَ تَدْعُوْا مَعَ اللّٰہِ اَحَداً
(الجن:١٨)
بلاشبہ مسجد یں اللہ ہی کی (عبادت کیلئے) ہیں پس تم اللہ کے ساتھ کسی اور کومت پکارو
مَا لَکُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰہِ  وَقَاراً
 (نوح:١٣)
تمہیں کیا ہوا کہ تمہارے نزدیک اللہ کا کوئی وقار ہی نہیں ”۔

شِرک کا دروازہ

غیر اللہ کو استعانت واستغاثہ کی غرض سے براہ راست پکارنے والے ان لوگوں کا طرز عمل بھی عجیب ہے ۔جب انہیں باور کرایا جاتا ہے کہ غیر اللہ کو فوق الاسباب استعانت واستغاثہ کیلئے پکارنا فی الحقیقت غیر اللہ کی عبادت ہے اور شرکِ اکبر ہے ،تو یہ لوگ اپنے اس فعل شنیع کی یہ توجیہہ کرتے ہیں،” ہم گناہگار ہیں ،اللہ ہماری دعا براہ راست نہیں سنتا لہٰذا ہم اللہ کے پیارے مقرب بندوں کو اس کی بارگاہ میں اپنا سفارشی بناتے ہیں ”۔مشرکین مکّہ بھی اپنے شرک کی یہی توجیہہ کرتے تھے ،قرآن میں ان کا یہ بیان صاف لفظوں میں وارد ہواہے
وَ یَعْبُدُ وْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَالَا یَضُرُّھُمْ وَلَایَنْفَعُھُمْ وَیَقُوْلُوْنَ ھٰؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰہِ طقُلْ اَتُنَبِّؤُنَ اللّٰہَ بِمَالاَ یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَلاَ فِی الْاَرْضِ ط سُبْحٰنَہ وَتَعَالیٰ عَمَّا یُشْرِکُونَ
  (یونس:١٨)
وہ ایسوں کی عبادت کرتے ہیں جو ان کونقصان پہنچاسکتے ہیں اور نہ کوئی نفع ہی دے سکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ سب اللہ کی بارگاہ میں ہمارے سفارشی ہیں ،کہہ دیجئے کہ کیا تم اللہ کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو کہ جو آسمانوں اور زمین میں اس کے علم میں ہی نہیں ،اللہ ان کے اس شرک سے پاک ہے۔
گویاانکا کہنایہ ہے کہ ”غیر اللہ کو استعانت واستغاثہ کیلئے اس لئے پکارتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ تک ہماری فریادیں پہنچا دیتے ہیں ،حقیقی فریاد رس تو اللہ ہی ہے یہ انبیاء واولیا ٔ تو درمیان میں وسیلہ ہیں اور بس ”۔
عجیب تضاد بیانی ہے ایک جانب تو غیر اللہ کو براہ راست پکارا جاتا ہے ،کھلے لفظوں میں ان سے غیبی مدد مانگی جاتی ہے ،کسی لگی لپٹی بغیر کہا جاتا ہے :یا رسول اللہ مدد، یا علی مدد،یا غوث الاعظم مدد پھر خود ہی کہنے لگتے ہیں کہ ہم اللہ کے بندوں سے نہیں اصلاً اللہ ہی سے مدد مانگتے ہیں ،جب ہم انہیں پکارتے ہیں تو اللہ ان کے وسیلے سے ہماری مدد کرتا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ انکا یہی قول شرک کا وہ خوشنما ودلفریب ،آراستہ وپیراستہ اورپرکشش دروازہ ہے جس میں سے گزر کر ہر مشرک قوم شرک کی وادی میں داخل ہوئی ۔
اللہ کامؤمن بندہ شرک کے اس دروازے میں داخل ہونا تو درکنار ،اس دروازے کے سائے سے بھی دور بھاگتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سورة یونس کی مذکورہ بالاآیت میں شرک کے اس دلفریب دروازے کو خود ہی منہدم کر دیا ہے یہ فرماکر کہ اس نے آسمانوں میں یا زمین میں اپنا ایسا کوئی سفارشی مقرر نہیں کیا کہ جسے یہ حق دیا ہو کہ مشکلات میں اسے غائبانہ پکارا جائے ،وہ لوگوں کی فریادوں کو اللہ تک پہنچائے ،پھر اللہ اسی سفارشی کے ذریعے سائل کی فریاد رسی کرے ۔ایسے کسی سفارشی کا کوئی وجود نہیں۔کوئی نبی،ولی،پیر یا پروہت ،پنڈت ،پوپ ،پادری اس معنی میں اللہ کا سفارشی نہیں ،دنیا میں نہ آخرت میں ۔قہری سفارش کا یہی تصور شرک کا دروازہ ہے جس سے اللہ نے خود کو یہ کہہ کر مبراومنزہ قرار دیا ہے :
سُبحٰنَہ وَتَعَالٰی عَمَّا یُشْرِکُوْن۔
اللہ ان کے اس شرک سے پاک ہے”۔
بندۂِ مؤمن کا ایمان ہے کہ امام الانبیاء اور دیگر انبیاء علیہم السلام ،اولیاء اللہ اور صالحین روز حشر اللہ کے حکم واذن سے اہل ِتوحید کی سفارش فرمائیں گے اور اللہ انکی سفارش کو قبول بھی فرمائے گا۔ اس معنی میں وہ یقینا ہمارے سفارشی ہیں ۔انکی اس شفاعت کا انکار ایمان سے خارج ہونے کی دلیل ہے۔ان کی اس شفاعت کا تعلق آخرت سے ہے ،دنیا میں وفات کے بعدوہ لوگوں کی فریاد یں نہ خود پوری کرسکتے ہیں اور نہ اللہ تعالیٰ تک فریاد یں پہنچانے کا وسیلہ ہیں ۔نہ اللہ تعالیٰ نے انکے ذمہ یہ کام لگا یا ہے اور نہ خود کبھی انہوں نے اس کا ذمہ لیا ۔وفات کے بعد لوگوں کی فریاد یں پوری نہ کرسکنا، ان کی عظمت میں کمی کا باعث نہیں ،جیسا کہ بعض لوگوں کاگمان ہے کہ یہ کہنا کہ اللہ کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلم اور اولیأ وفات کے بعد لوگوں کی فریادیں پوری نہیں کر سکتے ،انکی توہین ہے ، ہرگز نہیں اس میں انکی کوئی توہین نہیں ہاں ان کوفریادرس سمجھ کرانہیں استعانت (غیبی مدد طلب کرنے)کیلئے پکار نے میں اللہ کی شدید توہین ضرور ہے ۔اللہ تعالیٰ اپنے ان برگزیدہ بندوں کو پکارنے والوں سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے:
قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُوْنِہ فَلاَ یَمْلِکُوْنَ کَشْفَ الضُّرِّعَنْکُمْ وَلَا تَحْوِ یلاً
 اُولٰئِکَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰی رَبِّھِمُ الْوَسِیْلَةَ اَیُّھُمْ اَقْرَبُ وَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَہ وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَہ ط اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ کَانَ مَحْذُوْراً
(بنی اسرائیل : ٥٦،٥٧)
کہہ دیجئے کہ اللہ کے سوا جن لوگوں کوتم اختیار والا سمجھتے ہو انہیں پکار دیکھو وہ تم سے تکلیف دور کرنے یا ہٹانے کاکوئی اختیار نہیں رکھتے جن (بندگان خدا ) کو یہ پکارتے ہیں وہ تو خود اپنے رب کے قرب کے متلاشی ہیں کہ کون اس کا زیادہ مقرب بنتاہے ، وہ اسی کی رحمت سے امید لگائے ہوئے ہیں اور وہ اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں ، تیرے پروردگار کا عذاب واقعی ڈرنے کی چیز ہے ”۔
 اس آیت کریمہ میں ” اُولٰئِکَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْن” (جن کو یہ پکارتے ہیں ) سے وہ انبیاء واولیأ مراد ہیں جن کو اللہ کے سوا غائبانہ پکارا جاتا ہے ،سیدنا ابراہیم ،سیدنا عیسیٰ ،سیدنا عزیر، سیدنا محمد رسول اللہ علیہم الصلوٰة والسلام، سیدنا علی ،سیدنا حسین ،سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہم ، شیخ عبدالقادر جیلانی ،شیخ ذوالنون مصری ،شیخ بدوی اور وہ دیگر اولیأ اللہ جن کو فریادرس سمجھ کر غائبانہ پکارا جاتا ہے ،وہ سب اس آیت کریمہ کے مفہوم میں شامل ہیں۔ انبیاء علیہم السلام اور اولیا  اللہ علیہم الرحمتہ کی حیات دنیویہ میں ،ان کے سامنے اپنے مسائل پیش کرنا الگ چیز ہے اور انکی وفات کے بعد ،ان کی حیات دنیویہ منقطع ہونے اور حیات برزخیہ شروع ہونے کے بعد، ان کو غیبی مدد کیلئے پکارنا دوسری چیز ہے ۔دونوں چیزوں کو یکساں ومماثل سمجھنا نہایت خطرناک غلطی ہے ،کیونکہ دنیا میں ان سے اپنے مسائل حل کرانا امور عادیہ میں سے ہے اور نہایت مستحسن اقدام ہے ،لیکن حیات دنیویہ کے منقطع ہونے کے بعد وہ برزخ میں منتقل ہو چکے ،اب وہ دنیا والوں کیلئے غیب کے درجہ میں ہیں ۔ غائب سے دعا کر نے کی شریعت میں کوئی دلیل نہیں بلکہ اس سے ممانعت ثابت ہے۔سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ابھی حیات دنیویہ گزار رہے ہیں اور آسمانوں پر زندہ ہیں ،مگر دنیا والوں کیلئے غائب ہیں۔ اسلئے انہیں غائبانہ مدد کیلئے پکارنا شرک ہے اسی شرک کا ارتکاب عیسائی کررہے ہیں ،اسی شرک نے انہیں عیسیٰ علیہ السلام کو خدا ماننے پر اکسایا ہے۔کتنی عجیب بات ہوگی کہ عیسیٰ علیہ السلام کو غائبانہ مدد کیلئے پکارنا تو شرک ہو اور محمد رسول اللہ علیہ الصلوٰة والسلام کو غائبانہ مدد کیلئے پکارنا نہ صرف جائز بلکہ باعث ثواب ہو !قرآن وحدیث کی وہ کونسی دلیل ہے جو ان دونوںپکاروں میں فرق وتمیز کرتی ہے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کاکوئی قول ،آئمہ اربعہ کاکوئی فتویٰ ایسا ہے کہ جو مذکورہ امور میں سے پہلے کو حرام وشرک اور دوسرے کو مستحب ومستحسن قرار دیتا ہو ؟ اگر کسی کے پاس کوئی دلیل ہے تو پیش کرے ،مگر قرآن کا فیصلہ ہے کہ قیامت تک ایسی کوئی دلیل پیش نہیں کی جاسکتی
وَمَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھاً اَخَرَ لاَ بُرْھَان لَہُ بِہ
(المؤمنون: ١١٧)
اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود بنا کر پکارتا ہے اسکے پاس اپنے اس عمل کی کوئی دلیل نہیں ہوتی ”۔
یاد رکھئے قصے کہانیاں اور من گھڑت حکایات عقیدہ کی دلیل نہیں بن سکتیں ،عقیدہ کی دلیل تو قرآن حکیم  ہی ہو سکتا ہے ۔ آج کے حلوے مانڈے پر ٹوٹنے والے نام نہاد ملّاو پیر کے چٹکلے عقیدہ کی کوئی دلیل نہیں

اَصلی داتا

اللہ وحدہ لاشریک کا فرمان ہے
وَاِذَا سَأَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّی فَاِنّیْ قَرِیْب” اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ  اِذَا دَعَانِ
 (البقرة :١٨٦)
” (اے نبی ۖ) جب میرے بندے آپ سے میرے متعلق پوچھیں تو انہیں بتا دیجئے کہ میں تمہارے بالکل قریب ہوں جب پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی پکار قبول کرتا ہوں ”۔
اللہ تو انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس سے قریب ہے:
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِہ نَفْسُہ وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ ۔
(ق : ١٦)
یقینا ہم نے انسان کو پیدا کیا اور جو خیالات اس کے دل میں ابھرتے ہیں ہم انہیں بھی خوب جانتے ہیں اور ہم تو اس سے اس کی رگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں
ایسی عظیم المرتبت ذات جوعلم و قدرت کے اعتبار سے ہر جگہ موجود ہے ، کہیں سے غائب نہیں وہی اس لائق ہے کہ اسے فوق الاسباب مدد کیلئے پکارا جائے، جس سے خوف کھایا جائے ، جس کی رضا جوئی کیلئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے، جس کی ناراضگی سے بچا جائے۔
سیدنا ابوذر غِفاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث قدسی روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اے میرے بندو ! میں نے اپنے اوپر حرام کر لیا ہے کہ میں کسی پر ظلم کروں اور تمہارے درمیان بھی اسے حرام کرتا ہوں ، خبردار تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ اے میرے بندو! تم سب گم کردہ راہ ہو سوائے اس شخص کے جسے میں ہدایت سے نواز دوں ، پس تم مجھ سے ہدایت طلب کیا کرو میں تمہیں سیدھی راہ پر چلا دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب کے سب بھوکے ہو سوائے اس شخص کے جسے میں کھانا کھلا دوں، پس تم مجھ سے کھانا (رزق ) مانگا کرو میں تمہیں کھانا دوں گا ۔ اے میرے بندو! تم سب ننگے ہو ، سوائے اس شخص کے جسے میں لباس عطا کردوں ، پس تم مجھ سے لباس مانگو میں تمہیں لباس پہنا دوں گا ، اے میرے بندو! تم شب و روز خطائوں کا ارتکاب کرتے ہو اور میں سارے گناہ بخش دیا کرتا ہوں ، پس تم مجھ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو میں تمہیں معاف کر دوں گا ، اے میرے بندو ! مجھے نقصان پہنچانا تمہارے بس میں ہے ہی نہیں کہ تم مجھے کوئی نقصان پہنچائو اور نہ مجھے نفع دینے پر قدرت رکھتے ہو کہ مجھے کوئی نفع دو۔ اے میرے بندو ! اگر تم سب جن و انس ، اول سے آخرتک ، سب کے سب اپنے سے متقی ترین شخص کے دل جیسے (متقی) بن جائو تو اس سے میری بادشاہت میں کوئی اضافہ نہ ہو جائے گا۔ اے میرے بندو! اگر تم سب جن و انس، اول سے آخر تک ، سب کے سب اپنے سے سب سے زیادہ بدکار شخص کے دل جیسے (بدکار) بن جائو تو اس سے میری بادشاہت میں کوئی کمی واقع نہ ہو گی ۔ اے میرے بندو ! اگر اول سے آخر تک سب جن و انس ایک میدان میںجمع ہو کر اپنی اپنی خواہش کے مطابق مجھ سے مانگو، میں ہر ایک کو اسکی تمنا کے مطابق عطا کر دوں ،تو اس سے میرے پاس موجود (خزانوں ) میں اتنی بھی کمی نہ ہو گی جتنی کمی ایک سوئی کے سمندر میں ڈبو کر نکالنے سے سمندر کے پانی میں ہوتی ہے ۔ اے میرے بندو! یہ تمہارے ہی اعمال ہیں میں جن کا حساب رکھتا ہوں اور تمہیں ان کا پورا پورا بدلہ دوں گا۔ پس جسے کوئی بھلائی نصیب ہو ، اسے چاہیے کہ وہ اللہ ہی کا شکر ادا کرے ، اور جسے کچھ اور نصیب ہو اسے چاہیے کہ وہ اپنے نفس کو ہی ملامت کرے۔
اس قدر رحیم و کریم رب جو اتنے پیار سے اپنے بندوں کو کہے کہ اپنی ہر ضرورت مجھ سے مانگو ، وہ اپنے کریم رب کو چھوڑ کر غیر اللہ سے یہ سب کچھ (غائبانہ) مانگنے لگ جائیں ، تو تُف ہے انکے بندہ ہونے پر ۔ ساری بے شعور مخلوق ، چرند ، پرند، رینگنے والے جانور ، سمندر کی مچھلیاں اور دوسرے تیرنے والے جانور سب کے سب اللہ سے مانگتے ہیں ، اور یہ ناشکرا بندہ اسے چھوڑ کر غیر اللہ سے مانگتا ہے ، کاش اسے اپنے اشرف المخلوقات ہونے کا احساس ہوتا:
یَسْئَلُہ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ط کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِیْ شَأْنٍ
فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ
 (الرحمٰن:٢٩،٣٠)
سب زمین و آسمان والے اسی سے مانگتے ہیں ، ہر روز وہ ایک شان میں ہے ۔ پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلائو گے ؟
پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
اِذَا سَأَلْتَ فَسْأَلِ اللّٰہ وَ اِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللّٰہِ
جب تمہیں مانگنا ہو اللہ سے مانگو، اور جب تمہیں مدد درکار ہو تو اللہ سے مدد طلب کرو۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی توحیدِ خالص اس قدر مثالی تھی کہ مشرک اسے دیکھ کر دنگ رہ جائیں۔سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ اگر ان کا چابک زمین پر گر پڑتا تو کسی اور کو اٹھا کر دینے کیلئے نہیں کہتے تھے بلکہ گھوڑے سے اتر کر خود اٹھا تے تھے کہ مبادا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ فرمان کی خلاف ورزی ہو جائے۔ یہ انکے اخلاص فی الدّین کی انتہا تھی۔ واقعی انہیں صدیقین کے سردار کا رتبہ ایسے ہی نہیں مل گیا۔ فی الواقع ایسا ہی کامل درجہ کا اخلاص فی الدّین اللہ کو مطلوب ہے ۔

شفاعت برائے اہلِ توحیدِ خالص

حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں اس شفاعتِ مطلقہ کا کوئی تصور نہیں جو یہود و نصاریٰ سے امت  کے گمراہ فرقوں میں بھی در آئی ہے ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
قُلْ لِلّٰہِ الشَّفٰعَةُ جَمِیْعًا۔
(الزمر : ٤٤
”(اے نبیﷺ) کہہ دیجئے کہ شفاعت پوری کی پوری اللہ ہی کیلئے ہے ۔
اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اس چیز کا فیصلہ کہ کون کون سفارش کرنے کا اہل ہے اور کس کس کے حق میں سفارش کی جا سکتی ہے ، اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے ، بندوں کے پاس نہیں ۔
مَنْ ذَالَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہ اِلَّا بِاِذْنِہ۔
(البقرة:٢٥٥)
کون ہے جو اللہ کے اذن کے بغیر کسی کی سفارش کر سکے
لَا یَمْلِکُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَھْدًا
(مریم:٨٧)
کسی کو شفاعت کا اختیار نہ ہو گا سوائے ان ہستیوں کے جن سے اللہ کا وعدہ ہے
وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَہ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَہ ۔
(سبا:٢٣)
اللہ کے پاس انکی سفارش بھی کام نہیں دے سکتی مگر اسی کو جس کیلئے وہ اجازت دے ۔
یہ شفاعت روزِ قیامت اہل ِتوحید ِخالص کے حق میں انبیاء و اولیاء کریں گے جیسا کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
ہر نبی کیلئے ایک دعائے مستجاب (خاص) ہے اور ہر نبی اپنی اپنی خاص دعا کر چکا، میں نے یہ دعا روز قیامت اپنی امت کی شفاعت کیلئے محفوظ کر رکھی ہے ، اگر اللہ نے چاہا تو میری یہ شفاعت میرے ہر اس امتی کو پہنچے گی جو اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ شرک نہ کیا ہو ۔
انبیاء و اولیاء کی یہ شفاعت قیامت کے دن کے ساتھ مخصوص ہے ، دنیا میں اہل قبور کو سفارشی بنانے کا اس شفاعت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ۔ لہٰذا قیامت کی اس شفاعت کو اہلِ قبور سے دعا کروانے کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔

وسیلہ اور تقربِ الٰہی

اللہ وحدہ لا شریک کا فرمان ہے
یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ  وَابْتَغُوْا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَةَ وَ جَاھِدُوْا فِی سَبِیْلِہ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْن
 (المائدة:٣٥)
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اللہ کا وسیلہ ڈھونڈو اور اسکے رستے میں جہاد کرو تاکہ تم فلاح پا سکو۔
اس آیتِ مبارکہ سے نادان لوگ یہ استدلال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے خود وسیلہ پکڑنے کا حکم دیا ہے ، اسی لئے ہم انبیاء و اولیاء کو وسیلۂ دعا بناتے ہیں ۔ حالانکہ اس آیت کا انبیاء و اولیاء کو وسیلہ ٔ دعابنانے سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ ان نادانوں کو آیت کا مفہوم سمجھنے میں سخت مغالطہ لگا ہے ۔
اَلْوَسِیْلَةکے لغوی معنیٰ ایسی چیز کے ہیں جو کسی مقصود کے حصول یا اس کے قرب کا ذریعہ ہو۔ وَ ابْتَغُوْا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَةَ کا معنیٰ ہے کہ اللہ کا قرب تلاش کرو۔ اصل میں اِتّقُو اللّٰہ کا حکم مؤکّد کرنے کیلئے یہ کلمات وارد ہوئے ہیں ۔ کوئی شخص جتنا زیادہ متقی ہو گا، اسی قدر اللہ کامقرب ہو گا۔ وسیلہ کا یہ مفہوم قرآن کی دوسری آیات سے مزید موثق ہو جاتا ہے مثلاً درج ذیل آیات :
قُلِ ادْعُوْا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُوْنِہ فَلاَ یَمْلِکُوْنَ کَشْفَ الضُّرِّ عَنْکُمْ وَ لَا تَحْوِیْلاً
اُولٰئِکَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰی رَبِّھِمُ الْوَسِیْلَةَ اَیُّھُمْ اَقْرَبُ وَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَہ وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَہ ط اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ کَانَ مَحْذُوْرًا
 (بنی اسرائیل:٥٦،٥٧)
کہہ دیجئے کہ اللہ کے سوا جن کو تم اختیار والا سمجھتے ہو انہیں پکار کر دیکھو ،وہ تم سے تکلیف دور کرنے یا ہٹانے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے ۔ جن (بندگانِ خدا) کو یہ پکارتے ہیں وہ تو خود اپنے رب کے قُرب کے متلاشی ہیں کہ کون اس کا زیادہ مقرب بنتا ہے ۔ وہ اسی کی رحمت سے امید لگائے ہوئے ہیں اور وہ اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں ، تیرے پروردگار کا عذاب واقعی ڈرنے کی چیز ہے ۔
ان آیات میں بھی وسیلہ سے قُرب الٰہی مراد ہے ۔ حتیٰ کہ عظمت و رفعت کا وہ مقام جو مخلوق میں سے سب سے بلند و برتر ہے ، اس کا نام بھی الوسیلة اسی لئے رکھا گیا ہے کہ اسے رب تعالیٰ کا انتہائی قرب حاصل ہے۔ یہ الوسیلة وہ مقام محمود ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے مخصوص ہے ۔ اذان کے بعد کی دعا میں ہم اللہ تعالیٰ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے یہی وسیلہ (مقامِ قرب) طلب کرتے ہیں:
وَ اٰتِ مُحَمَّدَ نِ الْوَسِیْلَةَ وَ الْفَضِیْلَةُ۔

اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ اور خصوصی فضیلت عطا فرما۔
سورة المائدہ آیت٣٥ میں جس وسیلہ (قرب) کی تلاش کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، اسی آیت میں اس کا مفہوم بھی متعین کر دیا گیا ہے کہ یہ وسیلہ ایمان، تقویٰ اور اللہ کے دین کی سربلندی کی جدو جہد  کے ذریعے حاصل ہو سکتا ہے ۔
اگر بالفرض یہ تسلیم کر لیا جائے کہ اس آیت میں الوسیلة سے مراد فوت شدہ انبیاء و اولیاء کو دعا کیلئے وسیلہ بنانے کا حکم دیا گیا ہے ، تودیکھنا یہ ہے کہ یہ حکم وجوبی ہے یا استحبابی ، امر مطلق وجو ب کیلئے ہوتا ہے الا یہ کہ کوئی قرینہ صارفہ اس کے وجوب میں مانع ہو ۔ لہٰذا یہاں امر وجوب کیلئے ہے، محض استحباب کیلئے نہیں ۔ اس حکم کے اولین مخاطب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے ، لازم ہے کہ انہوں نے اس آیت پر کما حقہ عمل کر کے امت کے لئے نمونہ پیش کیا ہو ،جب ہم نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے طرز عمل کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت کھلتی ہے کہ انہوں نے کبھی کسی فوت شدہ نبی یا ولی کو دعا کرانے کیلئے وسیلہ نہیں بنایا ۔ایک واضح مثال تو سطور بالا میں گزر چکی کہ امیر المؤمنین عمر فاروق اور جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بعد وفات النبی علیہ الصلوٰة والسلام انہیں دعا کیلئے وسیلہ نہیں بنایا ۔کیا یہ ممکن ہے کہ قرآن کے ایک ایک حکم پر جان چھڑکنے والے سیدنا عمر فاروق اور جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قرآن کی صریح مخالفت پر ایکا کر لیں ؟ قرآن فوت شدہ انبیاء واولیا ٔ کوو سیلہ ٔدعا بنانے کو واجب قرارد ے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سب کے سب اس وجوبی حکم کی مخالفت پر کمر بستہ ہو جائیں ،ایسا ہونا ممکن نہیں ۔اگر مذکورہ آیت کا یہی مفہوم ہوتا جو انبیاء واولیا ٔ کو بعد وفات وسیلۂ دعا بنانے والے پیش کرتے ہیں تو کوئی صحابی تو آگے بڑھ کے کہتا ”تم نبی کو چھوڑ کر امتی کو ،افضل کو چھوڑ کر مفضول کوو سیلہ ٔدعا کیوں بناتے ہو ؟ قرآن کی مخالفت کیوں کرتے ہو ؟” لیکن کسی ایک صحابی نے بھی امیر المومنین اور دیگر صحابہ کے اس عمل پر نکیر نہیں کی ۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس آیت میں انبیاء واولیا ٔ کو بعد وفات وسیلہ بنانے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ اللہ کا قرب تلاش کرنے کو کہا گیا ہے ۔

نذر ونیاز

نذر ونیاز (مَنَّت ماننا) عبادت ہے ،بندۂ مؤمن اس طریقۂ عبادت کو بھی صرف اللہ کیلئے خاص رکھتا ہے ۔اللہ تعالیٰ اپنے نیک مؤمن بندوں (اَبرار) کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں
یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْماً کَانَ شَرُّہ مُسْتَطِیْراً
 (الدہر :٧)
وہ (اللہ کی) نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی چاروں طرف پھیل جانے والی ہے
بندہ ٔمؤمن اللہ کے سوا کسی اور کی نذر نہیں مانتا ،نہ وہ ”نذر ِاللہ نیاز ِحسین ” کانعرہ لگاتا ہے کیونکہ نذر اور نیاز باہم مترادف ہیں ۔نذر عربی کا اور نیاز فارسی کا لفظ ہے اور یہ دونوں منت ماننے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔
بندۂ مؤمن کا ایمان ہے کہ خالق ورازق صرف اللہ ہے ،اسی نے سب جانور گائے ،بھینس ،بکری ،بھیڑ وغیرہ کو پیدا کیا ہے ،وہی انکے تھنوں میں دودھ پیدا کرتا ہے ۔لہٰذا وہی اس لائق ہے کہ اس نعمت کے بدلے اس کا شکر ادا کیا جائے ،اسی کی رضا کیلئے دودھ بانٹا جائے یا دودھ سے بنی ہوئی شیرینی (کھیر وغیرہ)۔ہمارے پیرومرشد شیخ عبدالقادر جیلانی حنبلی رحمہ اللہ تعالیٰ نے کبھی نہیں فرمایا کہ انکے نام پر دودھ اور شیر ینی بانٹی جائے ،وہ توحید خالص کے زبر دست مبلغ وداعی تھے۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ اللہ کے نام کی بجائے اپنے نام کی نذر ونیاز کا حکم دیں یا اس پر راضی ہوں ۔
بندۂ مؤمن اولیا ء اللہ کے نام کی نذر نہیں مانتا ،نہ دیگوں کی نہ بکروں اور دنبوں کی ۔وہ جب بھی کوئی جانور ذبح کرتا ہے ،خالصتاً اللہ کی رضا کیلئے اور اللہ کے نام پر ذبح کرتا ہے ۔ غیر اللہ کی رضا کیلئے جانور ذبح کرنا یا دیگیں پکا کر بانٹنا غیر اللہ کی عبادت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نبی صلّی اللہ علیہ وسلم سے کہلایا ہے
اِنَّ صَلٰوتِیْ وَنُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
(الانعام :١٦٢)
بے شک میری نماز اور میری نذر ونیاز ،میرا جینا اور مرنا صرف اللہ رب العالمین کیلئے ہے
نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
لَعْنَ اللّٰہُ مَنْ ذَبَحَ لِغَیْرِ اللّٰہِ۔
اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو غیر اللہ کیلئے قربانی کرے۔
 بندۂ مؤمن اہل قبور کو خوش کرنے کیلئے ان کے آستانوں پر جا کر جانور قربان نہیں کرتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایسا کرنے سے وہ اللہ کی لعنت کا مستحق ہو جائے گا۔وہ جب بھی نذر مانتا ہے خالصتاً اللہ کیلئے نذر مانتا ہے ،اللہ کے نام کی نذر ماننے کیلئے کسی ولی اللہ کی قبر یا مقبروں کی شبیہوں (تعزیوں) یا دُلدُل کا قرب ضروری نہیں بلکہ اللہ کی نذر کہیں بھی کسی بھی وقت مانی جاسکتی ہے ،اسی طرح یہ نذرپوری کرنے کیلئے کسی خاص مقام پر جانا ضروری نہیں کہ آستانے یا مقبرے پر جائے بغیر نذر پوری نہ ہو سکے ،یہ سب خرافات مشرکین اور یہود ونصاریٰ کی ایجاد کردہ ہیں ،ان خرافات کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔یہ سب تو اس نذر کا بیان ہے جو خالصتاً اللہ کیلئے مانی گئی ہو ،جب نذر مانی ہی غیر اللہ کے نام کی ہو تو شرک میں تلوّث سے کیسے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔

سجدہ

جب انسان کسی کے سامنے انتہائی عاجزی وانکساری اور اس کی حددرجہ تعظیم ظاہر کرنا چاہتا ہوتو اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتا ہے ۔سجدہ ،تعظیم کی آخری حد ہے ،کسی ہستی کی اس سے زیادہ تعظیم انسان کے بس میں نہیں کہ وہ اس کے سامنے اپنا ماتھا ٹیک دے ۔چنانچہ نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
اَقْرَبُ مَا یَکُوْنُ الْعَبْدُ مِنْ رَّبِّہ وَ ھُوَ سَاجِد۔
بندہ اپنے رب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدہ کی حالت میں ہو
سجدہ بدنی عبادات میں سے سب سے بڑی اور افضل عبادت ہے ،ظاہر ہے کہ یہ طریقۂ عبودیت بھی صرف اللہ کیلئے خاص ہے
لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوْا لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَھُنَّ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہ تَعْبُدُوْنَ
 (حم سجدہ:٣٧)
سورج کو سجدہ کرو نہ چاند کو بلکہ اللہ کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے اگر تم واقعی اسی کی عبادت کرتے ہو”۔
سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں شہر حیر ہ میں گیا ،میں نے دیکھا کہ وہاں کے لوگ اپنے بادشاہ کو سجدہ کرتے ہیں ۔میں نے اپنے دل میں سوچا کر یقینا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم اسکے زیادہ مستحق ہیں کہ ان کو سجدہ کیاجائے ۔چنانچہ جب میں رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے ان سے عرض کی کہ میں نے حیرہ میں لوگوں کو دیکھا کہ وہ بادشاہ کو سجدہ کرتے ہیں ،جبکہ آپ اس کے زیادہ مستحق ہیں کہ ہم آپکو سجدہ کیا کریں ۔آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اچھا بتائو کہ اگرتم (میر ی وفات کے بعد) میری قبر کے پاس سے گزروگے تو اسے بھی سجدہ کرو گے؟ میں نے عرض کیا نہیں ۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر اب بھی ایسا مت کرو”
اللہ تعالیٰ کے بعد تمام مخلوق میں سے بلند شان اور عظمت والی ہستی ہمارے پیارے رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کی ہے ،آپکی اسی عظمت ِبے نظیر کے باعث سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ آپکو سجدہ کیاجانا چاہیے مگر نبی صلّی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت سے یہ ثابت ہو گیا کہ اللہ کے سوا کسی بھی ہستی کو سجدہ کرنا جائز نہیں خواہ وہ کتنی ہی صاحب ِعظمت کیوں نہ ہو ، اس کی زندگی میں اسے یا اسکی وفات کے بعد اسکی قبر کو سجدہ کرنا حرام اور غیر اللہ کی عبادت ہونے کے باعث شرکِ اکبر ہے۔
کیا آپ نے غور کیا کہ سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے نبی صلّی اللہ علیہ وسلم کی قبر کو سجدہ کرنے سے بلاتامل انکار کیوں کیا ؟ اگرآج کا کوئی قبر پرست اس محفل میں موجود ہوتا تو سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ پر فوراً گستاخِ رسول علیہ الصلوٰة والسلام ہونے کا فتویٰ داغ دیتا ۔وہ جانتے تھے کہ قبر کو سجدہ کرنا سجدہ ٔعبادت ہے ،ہاں حیرہ والوں کے عمل کے باعث وہ سجدۂ تعظیم کو سجدۂ عبادت سے جدا اور مختلف سمجھے تھے، مگر نبی صلّی اللہ علیہ وسلم نے انکا یہ مغالطہ دور فرما دیا کہ سجدہ، عبادت ہی ہے اور یہ ہمیشہ تعظیم ہی کیلئے کیا جاتا ہے خواہ وہ تعظیم خد اکی ہو یا مخلوق کی ،سجدہ کو سجدۂ عبادت اور سجدہ ٔ  تعظیم کی الگ الگ دوقسموں میں بانٹنا ہی سرے سے غلط ہے۔نبی دنیا میں زندہ ہو یا وفات پا کر برزخ میں تشریف لے جا چکا ہو اسے یا اس کی قبر کو سجدہ کرنا اسکی عبادت ہے۔ اس حدیث مبارکہ سے واضح ہو گیا کہ نہ قبر کو سجدہ کرنا رواہے نہ صاحبِ قبر کو ،نہ سجدۂ تعظیمی کے نا م سے نہ سجدۂ عبادت کے نام سے ۔یہی تو وہ شرک کی بدترین شکل تھی جو قوم نوح علیہ السلام سے شروع ہوئی اور یہود ونصاریٰ میں اپنے عروج کو پہنچی۔ اسی لئے نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے یہود ونصاریٰ پر بار ہا لعنت فرمائی کہ انہوں نے اپنے انبیاء وصالحین کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا ۔
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اَلَا وَاِنَّ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ کَانُوْا یَتَّخِذُوْنَ قُبْوْرَ اَنْبِیَآئِھِمْ وَ صَالِحِیْھِمْ مَسَاجِداً اَلاَ فَلاَ تَتَّخِذُوْا الْقُبُوْرَ مَسَاجِدَ اِنِّیْ اَنْھَاکُمْ عَنْ ذٰلِکَ
سنو !تم سے پہلے لوگوں نے انبیاء اور صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیاتھا ،خبردار تم قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنانا ،میں تم کو اس سے منع کرتا ہوں ”۔
اللہ کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کس شدت کے ساتھ قبر پرستی سے ممانعت فرماتے تھے، ملاحظہ کیجئے
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے وفات سے قبل (مرض الوفات میں) ارشاد فرمایا
لَعَنَ اللّٰہَ الْیَہُوْدَ وَالنَّصارٰی اتَّخَذُوْا قُبُوْرَ اَنْبِیَآئِھِمْ مَسَاجِداً۔
اللہ کی لعنت ہو ،یہودیوں اور عیسائیوں پر کہ انہوں نے اپنے انبیاء علیہم السلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم ان اہل کتاب کے اس مذموم فعل سے ڈرارہے تھے ،اگر آپکی قبر اطہر کو سجدہ گاہ بنانے کا خطرہ نہ ہوتا تو وہ کھلی جگہ بنائی جاتی ۔ 
چونکہ نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کی وفات قریب تھی ،اسلئے آپ لوگوں کو ہوشیار کر رہے تھے کہ انکی وفات کے بعد انکی قبر کو سجدہ گاہ نہ بنائیں نہ بننے دیں ۔اسی سلسلے میں نبی صلّی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے احکامات ارشاد فرمائے جن میں سے ایک یہ بھی ہے:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلّی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
لَا تَتَّخِذُوْا قَبْرِیْ عِیْداً وَلَا تَجْعَلُوْا بُیُوْتَکُمْ قُبُوراً وَصَلُّوْا عَلَیَّ حَیْثُماَ کُنْتُمْ فَاِنَّ صَلَا تَکُمْ تَبْلُغُنیِ۔
میری قبر کو میلے کی جگہ مت بنانا اور نہ اپنے گھروں کو قبرستان بنانا ،اور مجھ پر درود بھیجتے رہنا جہاں بھی تم ہو تمہارا درودمجھ تک (فرشتوں کے ذریعے) پہنچا دیا جائیگا۔
بہر کیف ،نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کی قبر اطہر کو میلہ اور سجدہ گاہ بنانا جائز نہیں ،بلکہ آپکی قبر کو سجدہ کرنا ،یا قبر کی طرف رخ کر کے آپکو تصور میں لاکر براہ راست آپکو سجدہ کرنا شرک ہے۔
اہل قبور کی عبادت صرف عرس ومیلے تک محدود نہیں رہی بلکہ ان قبروں کے ساتھ ہر وہ معاملہ کیا جاتا ہے جو ہندو اپنے خود ساختہ بتوں کے ساتھ کرتے ہیں ۔نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے اسی لئے قبر پرستی کی طرف جانے والا ہر راستہ اپنی امت پر بند کر دیا تھا ۔آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی:
اَللّٰھُمَّ لاَ تَجْعَلْ قَبْرِیْ وَثَناً یُعْبَدُ۔
اے اللہ !میری قبر کو بت نہ بنانا کہ اسے پوجا جائے۔
عربی میں ہر اس شے کووَثَن کہتے ہیں جسے پوجا جائے، خواہ یہ لکڑی وپتھر کے مجسمے ہوں ،یا انبیاء واولیا ٔ کی قبر یں ہوں یا صلیب وتعزیہ یا دُلدُل ہو۔
نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمادیا
اَنْ یُّجَصَّصَ الْقَبْرُ وَاَنْ یُّبْنَی عَلَیْہِ وَاَنْ یُّقْعَدَ عَلَیْہِ وَاَنْ یُّکْتَبَ عَلَیْہِ
قبروں کو پختہ بنانے ،اس پر کوئی عمارت بنانے اور اس پر مجاور بن کر بیٹھنے اور اس پر کچھ بھی لکھنے سے۔
خود نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کی قبر کو پختہ نہیں بنایا گیا ،بلکہ وہ کچی مٹی کی ہے ،جس پر سرخ سنگریزے ڈالے گئے تھے۔

تَوَکّل علَی اللہ

اہلِ ایمان کا یہ پختہ اعتقاد ہے کہ تمام اسبابِ خیر و شر کا پیدا کرنےوالا اللہ تعالیٰ ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے اذن و مشیئت کے بغیر نہ تو آگ جلا سکتی ہے نہ پانی آگ بجھا سکتا ہے۔ اسباب بذاتِ خود مستقل تأثیر نہیں رکھتے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے اذن و مشیئت کے محتاج ہیں۔ ہاں اسباب میں تأثیر کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ آگ میں جلانے ، غذا میں بھوک مٹانے، پانی میں پیاس بجھانے، جراثیم  و موذی  اشیا میں مرض پیدا کرنے  اور دوا میں مرض زائل کرنے کی تأثیر اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کی ہے۔ یہ تأثیر بھی اللہ  تعالیٰ کے اذن و مشیئت کی پابند ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے
وَاِنْ یَّمْسَسْکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلاَ کَاشِفَ لَہ اِلَّا ھُوَ وَاِنْ یُّرِدْکَ بِخَیْرٍفَلاَ 
رَآدَّ لِفَضْلِہ یُصِیْبُ بِہ مَنْ یَّشآءُ مِنْ عِبَادِہ وَھُوَالْغَفُوْرُ الرَّحِیْمِ 
 یونس:١٠٧
 
اور اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو اس کے سوا کوئی اس تکلیف کو دور نہیں کر سکتا اور اگر وہ تمہیں خیر سے نوازنا چاہے توا س کے فضل کو کوئی دور نہیں ہٹا سکتا۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نوازتا ہے۔
قُل لَّن يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا هُوَ مَوْلَانَا 
ۚ
وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ 
التوبہ: ۵۱
آپ انہیں بتا دیجیے کہ ہمیں وہی تکلیف پہنچتی ہے جو اللہ نے 
ہمارے مقدر میں لکھ دی ہے، وہی ہمارا کارساز ہے اور اہلِ 
ایمان صرف اللہ ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

شرک کا انجام

اللہ کے بندو! اللہ کی خالص عبادت کی بجائے اس کی عبادت میں غیر اللہ کو شریک کرنا سب سے بڑا جرم اور سب سے گندا گناہ ہے۔ یہ ایسا جرم عظیم ہے کہ اسکی معافی موت سے پہلے توبہ کے بغیر ممکن نہیں ۔
ارشاد ربانی ہے:
اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ  یُّشْرَکَ بِہ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ  یَّشَآئُ وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلاَلاً م بَعِیْداً
(النساء:١١٦)
یقینا اللہ معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے اور اس کے علاوہ جس کا جو گناہ چاہے گا معاف کر دے گا،اور جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ بہت دور کی گمراہی میں جاپڑا۔
شرک کی حالت میں بغیر توبہ مرنے والے شخص پر اللہ تعالیٰ نے جنت حرام کر دی ہے اور اسکا ابدی ٹھکانہ جہنم ہو گا:
اِنَّہ مَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّةِ وَ
النَّارُط وَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ
 (المائدہ:٧٢)
بے شک جوشخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے ،اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت کوحرام کر دیا ہے ،اس کا ٹھکانہ جہنم ہو گا،ایسے ظالموں کا کوئی مدد گار نہ ہوگا۔
شرک اتنابڑا گناہ ہے کہ اسکی موجودگی میں بڑے سے بڑانیک عمل ضائع ہو جاتا ہے ،اللہ کی بارگاہ میں اس عمل کی کوئی قیمت نہیں اٹھتی ۔اللہ تعالیٰ نے شرک کی ہولنا کی اور خباثت ونجاست واضح کرنے کیلئے ایسا عجیب انداز اپنایا ہے کہ اسے بیان کرتے ہوئے زبان لڑکھڑاتی ہے اور قلم رک رک جاتا ہے ۔باور کر لیجئے کہ سب انبیاء علیہم السلام کفر وشرک کی بیج کنی اور توحید خالص کی اشاعت وتبلیغ کیلئے مبعوث ہوئے اور واقعتا سب نے دعوتِ توحید کا حق ادا کر دیا۔تاہم دوسرے انسانوں کو سمجھانے کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر بالفرض محال کسی نبی سے بھی شرک ہو جاتا تو اس کا سارا نامہ اعمال ضائع ہو جاتا:
وَلَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْکَ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ
(الزمر:٦٥)
آپ اورآپ سے پہلے انبیاء کی طرف یہی وحی کی گئی تھی کہ اگر آپ نے شرک کیاتو آپکے اعمال برباد ہو جائیں گے اور آپ گھاٹا پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔
سورة الانعام میں اٹھارہ جلیل القدر انبیاء علیہم السلام کا نام بنام ذکر خیر کرنے کے بعد فرمایا کہ اگر بالفرض محال ان سے بھی شرک سرزد ہو جاتا تو انکے اعمال کا رت جاتے ،سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے اپنی قوم سے خطاب کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
وَ کَیْفَ اَخَافُ مَا اَشْرَکْتُمْ وَ لَا تَخَافُوْنَ اَنَّکُمْ اَشْرَکْتُمْ بِاللّٰہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہ عَلَیْکُمْ سُلْطٰناًطفَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
 اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْ ا اِیْمَانَھُمْ بِظُلْمٍ اُولٰئِکَ لَھُمُ الْاَمْنُ وَ ھُمْ مُھْتَدُوْنَ وَ تِلْکَ حُجَّتُنَا اٰتَیْنٰھَآ اِبْرَاھِیْمَ عَلٰی قَوْمِہ ط نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْْ نَّشَآءُ اِنَّ رَبَّکَ حَکِیْم” عَلِیْم وَ وَھَبْنَا لَہ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ طکُلَّا ھَدَیْنَاج وَ نُوْحًا ھَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِہ دَاؤُدَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْسُفَ وَ مُوْسٰی وَ ھٰرُوْنَ وَ کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَo وَ زَکَرِیَّا وَ یَحْیٰ وَ عِیْسٰی وَ اِلْیَاسَ طکُلّ” مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ
وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُونُسَ وَ لُوْطاً ط وَ کُلّاً فَضَّلْنَا عَلَی الْعٰلَمِیْنَ
وَ مِنْ اٰبٰآئِھِمْ وَ ذُرِّیّٰتِھِمْ وَ اِخْوَانِھِمْ جوَاجْتَبَیْنٰھُمْ وَ ھَدَیْنٰھُمْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
 ذٰلِکَ ھُدَی اللّٰہِ یَھْدِیْ بِہ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہ ط وَ لَوْ اَشْرَکُوْا لَحَبِطَ عَنْھُمْ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ
 (الانعام:٨١۔٨٨)
 ابراہیم  نے اپنی قوم سے کہا اور میں ان ہستیوں سے کیسے ڈروں جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو ،حالانکہ تم انہیں اللہ کا شریک ٹھہراتے ہو ئے نہیں ڈرتے جس کی اس نے کوئی دلیل بھی نازل نہیں کی ۔سو ان دو جماعتوں میں سے امن کا زیادہ مستحق کون ہے اگر تم جانتے ہو۔جولوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو شرک سے آلودہ نہیں کیا تو ایسے ہی لوگوں کیلئے امن وسلامتی ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں ۔یہ ہماری حجت تھی جو ہم نے ابراہیم کو ان کی قوم کے مقابلے میں عطا کی تھی ۔ہم جس کو چاہتے ہیں مرتبوں میں بڑھا دیتے ہیں ،بے شک آپ کا رب بڑا حکمت والا اور علم والا ہے ۔ہم نے انہیں اسحٰق اور یعقوب عطا فرمائے ،دونوں کو ہم نے ہدایت سے نوازا، اور ان سے پہلے نوح کو اور ان (ابراہیم ) کی اولاد میں سے دائود ،سلیمان، ایوب، یوسف،موسیٰ اور ہارون کو بھی ہدایت سے سرفراز کیا تھا ۔ہم نیکوکاروں کو ایسے ہی بدلہ دیتے ہیں ۔زکریا ،یحیٰ،عیسیٰ اور الیاس کو بھی ہدایت دی ،یہ سب کے سب نیک لوگ تھے۔اسماعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو بھی ،ان سب انبیاء کو ہم نے سارے جہان والوں پر فضیلت بخشی ۔اور ان کے بعض باپ دادوں کو اور بعض اولادوں کو اور کچھ بھائیوں کو بھی ہدایت عطا فرمائی ۔ہم نے انہیں چن لیا اور سیدھے رستے کی ہدایت فرمائی ۔یہ ہے اللہ کی ہدایت کہ جس کے ذریعے وہ اپنے جس بندے کو چاہے نواز دے ۔اور اگر بالفرض محال ان حضرات انبیاء سے بھی شرک سرزد ہو جاتا تو ان کا سرمایہ عمل اکارت جاتا۔
اللہ کے بندو ! شرک جیسے نجس فعل سے انبیاء علیہم السلام جیسی عظیم ترین ہستیوں کے مثالی اعمال اکارت ہونے کی وعید سنائی گئی ہے (علیٰ تقدیر فرضی) کہ جن سے بڑھ کے نیک عمل کسی بشر کے بس میں نہیں ہے ،آخر تمہیں کس شے پر گھمنڈ ہے ؟ اپنے عقیدہ اور عمل کا نہایت سنجیدگی سے جائزہ لو اور دیکھو کہ کہیں ایمان میں شرک کی ملاوٹ تو نہیں ؟یہ جانچنے کیلئے سابقہ سطور میں بیان کردہ افعالِ عبادت پر نظرکرو ۔تمہیں بس یہ دیکھنا ہے کہ تمہارے دل میں انتہا درجہ کی محبت اور انتہا درجہ کی تعظیم صرف اللہ تعالیٰ کیلئے موجزن ہے یا نہیں ؟ مخلوق میں کسی بھی ہستی کی محبت اورتعظیم اللہ تعالیٰ کی محبت وتعظیم پر سبقت تو نہیں لے گئی ؟ اس کا فیصلہ تمہیں خود کرنا ہے ،کوئی دوسرا شخص تمہاری جگہ اس کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔

نفس پرستی

خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کا ایمان شرک کی آلودگی سے پاک ہے ،جو تو حید خالص کے حامل اور سنت نبویہ علیہ الصلوٰة والسلام پر عامل ہیں ۔تاہم انہیں بھی ہمہ وقت ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے شیطان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ توحید خالص کے حامل کو اور نہیں تو کم از کم ”نفس پرست” تو ضرور بنا دے،شرک ِاکبر نہ صحیح اسے شرک ِاصغر میں مبتلا کر کے چھوڑے۔ایسے نفس پرست کے بارے ارشاد ربانی ہے:
           ھَوَاہُ اَفَرَءَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰہَہ
وَاَضَلَّہُ اللّٰہُ عَلٰی عِلْمٍ وَّخَتَمَ عَلٰی سَمْعِہ وَقَلْبِہ وَجَعَلَ عَلٰی بَصَرِہ غِشَاوَة
طفَمَنْ یَّھْدِ یْہِ مِنْ م بَعْدِ اللّٰہِ ط اَفَلاَ تَذَکَّرُوْنَ
(الجاثیہ: ٢٣)
بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش ِنفس کو معبود بنا لیا ہے اور علم ہونے کے باوجود اللہ نے اسے گمراہ کر دیا ہے اور اس کی سماعت اور دل پر مہر لگا دی ہے اور اسکی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے ۔اب اسے اللہ کے سوا کون راہ پر لاسکتا ہے آخر تم نصیحت کیوں نہیں پکڑتے؟
یہ وعید ہر اس شخص پرصادق آتی ہے ،جو اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کو اپنا وتیرہ بنالے اور بس اپنی خواہش نفسانی کے پیچھے چلتا رہے ،خواہ وہ شخص کلمۂ شہادت کا اقرار کرتا ہو ۔ نفس پرستی کی یوں تو بہت سی شکلیں ہیں لیکن ان میں سے سب سے زیادہ خطر ناک جاہ پرستی ،شہوت پرستی اور زر پرستی ہے۔نفس پرست کا دل اللہ تعالیٰ کی محبت وخشیت سے خالی ہو جاتا ہے ،اس کا ایمان سکڑ کر رائی کے دانے کے برابر ہو جاتا ہے ،حتٰی کہ عین گناہ کے وقت اس کا دل ایمان سے خالی ہوتا ہے ،رائی کے برابر ایمان بھی دھواں بن کے اڑجاتا ہے ۔صحیحین میں سیدنا ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لاَ یَزْنِیْ الزَّانِیْ حِیْنَ یَزْنِیْ وَھُوَ مُؤْمِن”،وَلاَیَشْرِبُ الْخَمْرَ حِیْنَ یَشْرِبُھَا وَھُوَ مُؤْمِنْ ،وَلاَ یَسْرِقُ السَّارِقْ حِیْنَ یَسْرِقْ وَھُوَ مُؤْ مِن”
زنا کرنے والا عین زنا کرتے وقت مؤمن نہیں رہتا ،شراب پینے والا عین شراب پیتے وقت مؤمن نہیں رہتا ،چوری کرنے والا عین چوری کرتے وقت مومن نہیں رہتا۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
بَیْنَ الرَّجُلِ وَبَیْنَ الْکُفْرِ تَرْکَ الصَّلوٰةِ
آدمی اور کفر کے درمیان رکاوٹ صرف صلوٰة ترک کر دینا ہے۔
سیدنا بریدة رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
اَلْعَہْدُ الَّذِیْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَہُمُ الصَّلوٰةُ فَمَنْ تَرَکَھَا فَقَدْ کَفَرَ۔
ہمارے اوران کے درمیان جو عہد ہے وہ صلوٰة (نماز ) ہے ،جس نے اسے چھوڑ دیا اس نے کفر کیا ۔

اجتماعی توبہ

اللہ کے بندو ! اپنے رب کریم کو راضی کر لو،آنکھیں اوپر چڑھنے سے پہلے اس کے حضور گڑگڑا کر معافی مانگ لو، اپنے ہر چھوٹے بڑے گناہ سے توبہ کر لو،وہ رحمن ورحیم رب اپنے بندوں کی توبہ سے بہت خوش ہوتا ہے، اسے اپنے بندے کی توبہ سے کس قدر خوشی ہوتی ہے ، اس کا اندازہ درج ذیل حدیث سے کیا جاسکتا ہے
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کو اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوشی ہوتی ہے کہ جو کسی جنگل بیابان میں ایک سواری پر سوار ہو ،اسی پر اس کا سامان خوردونوش ہو ، وہ سواری اس سے گم ہو جائے ،(بہت زیادہ تلاش کے بعد) وہ مایوس ہو کر ایک درخت کے سائے تلے آکر لیٹ جائے ،اس پر سخت مایوسی طاری ہو ، وہ اسی مایوسی کے عالم میں ہو کہ اس کی سواری اچانک اس کے سامنے آموجود ہو اور وہ اس کی مہار پکڑ لے ۔اس کے ملنے کی خوشی کی شدت میں اس کی زبان سے( رب کی تعریف وشکر یہ میں )یہ الفاظ ادا ہوجائیں کہ اے اللہ ! تو میرا بندہ اور میں تیرا رب ہوں۔ خوشی کی شدت میں اس سے غلطی ہو جائے۔
اللہ کے بندو !نفس پرستی چھوڑ کر اللہ کے رنگ میں رنگ جائو ،اس کے سچے اور مخلص بندے بن جائو ،تب آسمان سے رحمتوں کی بارش ہو گی اور زمین اپنے خزانے تمہارے لئے اگل دے گی ،اگر ایسا نہ کیا گیا تو یاد رکھو کہ اللہ کی پکڑ بڑی سخت ہے:
وَلَوْ اَنَّ اَھْلَ الْقُریٰ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْھِمْ بَرَکٰتٍ مِّنَ السَّمَآ ءِ وَالْاَرْضِ وَلٰکِنْ کَذَّ بُوْا فَاَخَذْنٰھُمْ بِمَاکَانُوْا یَکْسِبُوْنَ
 (الاعراف: ٩٦)
اور اگر یہ بستیوں والے ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کر تے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے ، لیکن انہوں نے تکذیب کی ،سوہم نے انکی کرتوتوں کی پاداش میں انہیں پکڑ لیا ۔
اللہ کے بندو! ہم تمہیں کسی نرالی واجنبی چیز کی طرف نہیں بلاتے ،ہماری دعوت تو یہ ہے کہ جس دین خالص کا پرچار کرنے نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ،جسے انہوں نے اپنی زندگی میں عملاً قائم کر کے دکھایا اور اسی دین خالص کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اورخلفائے راشدین رضی اللہ عنہم نے قائم کئے رکھا ،اس دین کو پہچانو اور اسی دین ِخالص کی طرف پلٹ آؤ۔
وَ اٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَ الصَّلٰوةُ وَ السَّلَامُ عَلیٰ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ وَ الْاَنْبِیَآء اَجْمَعِیْن۔


[1] یونس:١٠٧
[2] التوبہ: ۵۱
[3] جامع الترمذی: رقم ۲۲۹۳
[4] سنن ابو داؤد: رقم ۳۹۲۵
[5] صحیح البخاری: رقم ۵۷۰۷
Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading