2024-07-17
کیا تلاوتِ قرآن کے لئے طہارت شرط ہے؟
ارشادِباری تعالیٰ ہے:  
 اِنَّہ لَقُرْاٰن کَرِیْم
فِی کِتَابٍ مَّکْنُوْنٍ [1] لَا یَمَسُّہ  اِلَّا الْمُطَہَّرُوْنَ
یہ ایک مکرم قرآن ہے جو ایک محفوظ کتاب (لوحِ محفوظ )میں درج ہے،اسے پاک ہستیوں (فرشتوں)کے سوا کوئی ہاتھ نہیں لگاتا۔
بظاہر یہ خبر ہے مگر خبر بمعنی امر (حکم) کے ہے۔
          سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاوتِ قرآن سے کوئی شے نہیں روکتی تھی سوائے جنابت ( ناپاکی کی حالت) کے۔[2] 
          سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے ہر شخص کو قرآن پڑھاتے تھے سوائے ناپاک شخص کے۔ [3]
          سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جنابت اور حیض کی حالت میں کوئی شخص قرآن میں سے کچھ نہ پڑھے ۔” [4]      
جنبی مرد اورحیض و نفاس والی خواتین تلاوتِ قرآن سے باز رہیں اور قرآن پاک کو صرف پاک آدمی ہاتھ لگائے۔
ٍٍٍٍٍٍ                             ( امام عمر بن حسین الخرقی الحنبلی ،المختصر: ص ١٦، امام ابن قدامہ الحنبلی  ، المغنی والشرح الکبیر: ج ١، ص ١٣٤ )
امام ابو حنیفہ، امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہم کا مسلک یہ ہے کہ پاک آدمی کے سوا قرآن کو کوئی شخص ہاتھ نہ لگائے۔[5]                
          جہاں تک قرآن کو ہاتھ لگانے کا تعلق ہے ، تو صحیح یہ ہے کہ اس کے لئے وضو کرنا فرض ہے، جیسا کہ جمہور کا قول ہے، یہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا معروف مسلک ہے،جیسے سیدناسعد بن ابی وقاص، سیدناسلمان الفارسی اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کا مؤقف ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے نام جو مکتوب لکھا تھا اس میں مرقوم ہے:”قرآن کو پاک آدمی کے سوا کوئی ہاتھ نہ لگائے۔” [6]
          جیسے لوحِ محفوظ میں لکھے قرآن کو صرف پاک ہستیاں چھوتی ہیں اسی طرح لازم ہے کہ لکڑی ،پتھر، چمڑے،کپڑے یا کاغذ پر لکھے قرآن کو صرف پاک حالت میں )وضو کرکے (ہاتھ لگایا جائے اور اس کی تلاوت (دیکھ کر یا زبانی )صرف پاک حالت میں کی جائے۔
             


[1] الواقعہ: ۷۸۔۸۰
[2] مسندامام احمد بن حنبل : ح  ٦٣٩، سنن ابو داؤد: ح  ٢٢٩،جامع الترمذی: ح ١٤٦، سنن ابن ماجہ: ح  ٥٩٤)
[3] مسندامام احمد بن حنبل : ح  ٦٢٧
[4] سنن ابن ماجہ: ح ٥٩٥،  جامع الترمذی : ح  ١٣١
[5] (امام ابن قدامہ الحنبلی  ، المغنی والشرح الکبیر: ج ١  ، ص ١٣٧ )

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading