2024-07-17
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمدللہ وحدہ والصلاٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ اما بعد !
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا ۚ فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۚ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
سورۃ الروم :۳۰ 
اپنا رخ دین حنیف کی طرف کیے رکھیے۔یہ اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے،اللہ تعالیٰ کی خلقت میں تبدیلی نہ کرو،یہی دین قیم ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
دین اسلام دین فطرت ہے۔اس کے احکام عین انسانی فطرتِ سلیمہ کے موافق ہیں۔ انسان فطری طور پر جمالیت پسند ہے، داڑھی مردانہ وجاہت کی ایک عمدہ علامت ہے۔ چنانچہ نبی آخر الزماں ﷺ نے اپنے متبعین کو داڑھی رکھنے کی تاکید فرمائی ہے۔ قابل غور یہ ہے کہ آپ نے خود بھی اس فطری سنت کو اختیار فرما کر ایک عملی اسوہ بہم پہنچایا ہے۔

داڑھی کی فضیلت

نبی اکرم ﷺ نے فطرت انسانی کی چند ظاہری علامات بیان  فرمائی ہیں، ملاحظہ فرمائیں:
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ 
 عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ قَصُّ الشَّارِبِ وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ وَالسِّوَاكُ وَاسْتِنْشَاقُ
 الْمَاءِ وَقَصُّ الأَظْفَارِ وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ وَنَتْفُ الإِبْطِ وَحَلْقُ الْعَانَةِ وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ  ‏.‏ قَالَ زَكَرِيَّاءُ قَالَ مُصْعَبٌ وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ إِلاَّ أَنْ تَكُونَ الْمَضْمَضَةَ 
صحیح مسلم: ۲۶۳
سیدہ عاءشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: دس کام فطرت میں سے ہیں، مونچھیں کترنا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا،  ناک میں پانی چڑھانا، ناخن تراشنا، انگلیوں کی پوریں دھونا، بغل کے بال اکھاڑنا، زیر ناف بال صاف کرنا، اور پانی سے استنجا کرنا، زکریا نے کہا، مصعب کہنے لگے کہ میں دسواں کام بھول گیا ہوں غالبا وہ کلی کرنا ہے۔
واضح رہے کہ یہ سب سنتیں انبیاء علیہم السلام کی مشترکہ سنتیں ہیں۔
داڑھی کی تنہا یہی فضیلت کافی ہے کہ یہ دنیا کے سب سے اعلیٰ و اشرف اور جلیل القدر انسانوں اورسب سے زیادہ شریف النفس سعید روحوں یعنی انبیاء علیہم السلام کی مشترکہ سنت مبارکہ ہے۔ اگرداڑھی بڑھانے میں کوئی قباحت اور داڑھی مونڈنے میں کوئی فضیلت ہوتی تو اللہ تعالیٰ اپنے سب سے زیادہ محبوب بندوں کو داڑھی مونڈنے کا حکم فرماتے اور نبی ﷺ بھی اپنے صحابہ کو یہی حکم ارشاد فرماتے۔ مگر ایسا نہیں ھوا ، جس کا مطلب اس  کے سوا کچھ نہیں کہ مردانہ وقار و وجاہت داڑھی بڑھانے میں ہے، نہ کہ عورتوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے میں۔
اسی لیے نبی اکرم ﷺ نے عورتوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والے مردوں پر لعنت فرمائی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ.
صحیح البخاری ۵۸۸۵
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ
 
نے عورتوں سے مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں سے مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔
رسول اکرم ﷺ 
 نے جو حکم ارشاد فرمایا اس پر خود عمل بھی کرکے دکھایا، چناں چہ احادیث صحیحہ میں کثرت سے آپ کی داڑھی کے متعلق روایات وارد ہوئی ہیں، جن کا احصا تو  ممکن نہیں،  صرف نمونے کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں:
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أُطَيِّبُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِأَطْيَبِ مَا يَجِدُ، حَتَّى أَجِدَ وَبِيصَ الطِّيبِ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ‏.
صحیح البخاری ۵۹۲۳‏
 سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی 
 کو بہتر سے بہتر عطر لگایا کرتی جو کہ دستیاب ہوتا، یہاں تک کہ میں آپکے سر اور داڑھی میں عطر کی چمک دیکھتی تھی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ أَتَيْتُ أَنَا وَأَبِي النَّبِيَّ، صلى الله عليه وسلم وَكَانَ قَدْ لَطَخَ لِحْيَتَهُ بِالْحِنَّاءِ ‏.‏
سنن النساءی ۵۰۸۳
 ابو رِمثہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں اور میرے والد جب نبی ﷺ 
 کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے داڑھی میں مہندی لگا رکھی تھی۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ الْكِلاَبِيُّ، حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ السَّائِبِ الرَّقَاشِيُّ، عَنْ أَبِي سَوْرَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ تَوَضَّأَ فَخَلَّلَ لِحْيَتَهُ ‏.‏
سنن ابن ماجہ ۴۳۳
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ
وضو کرتے ہوئے اپنی داڑھی میں انگلیاں پھیر رہے تھے۔
داڑھی مونڈنا 
  سورۃ الروم کی مذکورہ بالا آیت اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مذکورہ بالا حدیث کو ذہن میں مستحضر رکھتے ہوئے درج ذیل احادیث کا مطالعہ کریں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
 “‏ خَالِفُوا الْمُشْرِكِينَ، وَفِّرُوا اللِّحَى، وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ ‏”‏‏.‏
صحیح البخاری ۵۸۹۲
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ 
نے فرمایا

“مشرکین کی مخالفت کرو، داڑھی خوب بڑھاؤ اور مونچھیں کتر دیا کرو۔”
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
 “‏ انْهَكُوا الشَّوَارِبَ، وَأَعْفُوا اللِّحَى ‏”‏‏.‏
صحیح البخاری ۵۸۹۳
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ 
نے فرمایا
” مونچھیں پست کرو اور داڑھی کو بڑھنے دو۔”
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
 “‏ أَحْفُوا الشَّوَارِبَ وَأَعْفُوا اللِّحَى ‏”‏ ‏.‏
صحیح مسلم: ۲۵۹
 سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ 
 نے فرمایا
” مونچھیں خوب کتر دیا کرو اور داڑھی کو بڑھنے دو۔”
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ أَمَرَ بِإِحْفَاءِ الشَّوَارِبِ وَإِعْفَاءِ اللِّحْيَةِ ‏.‏
صحیح مسلم ۲۶۰
 سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ 
 نےحکم فرمایا کہ  مونچھیں خوب کتر دی جاویں اور داڑھی کو بڑھنے دیا جاوے۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
 “‏ خَالِفُوا الْمُشْرِكِينَ أَحْفُوا الشَّوَارِبَ وَأَوْفُوا اللِّحَى ‏”‏ ‏.‏
صحیح مسلم ۲۶۱
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ 
نے فرمایا
“مشرکین کی مخالفت کرو مونچھیں خوب کتر دیا کرو اور داڑھی کو بڑھنے دو۔”
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، مَوْلَى الْحُرَقَةِ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ “‏ جُزُّوا الشَّوَارِبَ وَأَرْخُوا اللِّحَى خَالِفُوا الْمَجُوسَ ‏”‏ ‏.‏
صحیح مسلم ۲۶۲
سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ 
 نے فرمایا
” مونچھیں خوب کتر دیا کرو اور داڑھی کو بڑھنے دو اور مجوسیوں کی مخالفت کرو۔”
عن ابی اُمامۃ قال فقلنا یا رسول اللہ  إن أھل الكتاب یقصون عثانینھم ویوفرون سبالھم، فقال النبي صلى لله علیہ وسلم 
قصوا سبالكم ووفروا عثانینكم وخالفوا أھل الكتاب
مسند امام احمد ۲۲۶۳۹
سیدنا ابو امامہ الباھلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ  اہل کتاب اپنی داڑھی کٹواتے ہیں اور مونچھیں بڑھاتے ہیں، 
آپ ﷺنے فرمایا
” مونچھیں کتر دیا کرو اور داڑھی خوب بڑھاؤ اور اہلِ کتاب کی مخالفت کرو۔”
اسناد و طُرُق کے اعتبار سے یہ سات احادیث صحیحہ ہیں، جو تین صحابہ کرام یعنی سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا ابو ھریرہ اور سیدنا ابو امامہ الباھلی رضی اللہ عنہم نےروایت کی ہیں۔
اختلاف الفاظ کے علی الرغم ان سب احادیث کا مفہوم مشترک یہی ہے کہ نبی اکرم نے داڑھی بڑھانے کی پر زور تاکید فرمائی ہےسیدنا عبداللہ بن عباس علیہما السلام کی مذکورہ بالا حدیث جس میں مردوں کو عورتوں سے مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے دلالت کرتی ہے کہ داڑھی مونڈنا مکروہ ہے۔ واللہ اعلم بالصواب

داڑھی کتنی لمبی ہو؟ 

مذکورہ بالا احادیث میں داڑھی بڑھانے کا حکم علی الاطلاق ہونے سے کوئی شخص یہ مت سمجھے کہ داڑھی کو لا متناہی طوالت تک بڑھانے کا حکم ہے، ظاہر ہے ایسا ممکن نہیں۔ اگر اس اطلاق سے مراد غیر معینہ طوالت مراد ہوتی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی غیر معمولی حد تک طویل داڑھیوں کا تذکرہ ذخیرہ حدیث میں موجود ہونا چاہیے تھا۔ مگر ہم احادیث میں ایسا کوئی تذکرہ نہیں پاتے۔ ہمارا مشاہدہ ہے کہ جوہندو اور سکھ جوگی داڑھی کو تراشے بغیر بڑھاتے چلے جاتے ہیں ان کی داڑھی غیر معمولی حد تک لمبی ہوجاتی ہے۔ کسی کی ناف تک، کسی کی گھٹنوں تک اور بعض کی تو قدموں تک لمبی ہوجاتی ہے۔ ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے تعلیم یافتہ تابعین کے ہاں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ جس کا صاف مطلب یہی ہے کہ مذکورہ بالا احادیث میں داڑھی کو غیر معین طوالت تک بڑھانا بہر کیف مقصود نہیں۔
  نبی اکرم 
سے مروی ایک مقبول حدیث میں وضاحت ہے کہ نبی 
 اپنی داڑھی کو غیر معینہ طوالت تک نہیں بڑھنے دیتے تھے، بلکہ گاہے بگاہے اس کے طول و عرض سے تراش دیتے تھے۔ درج ذیل حدیث ملاحظہ فرماءیں
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْخُذُ مِنْ لِحْيَتِهِ مِنْ عَرْضِهَا وَطُولِهَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہھا سے مروی ہے کہ رسول اللہ اپنی داڑھی کو طول وعرض سے تراش دیا کرتے تھے۔
 یہ درست ہے کہ بعض محدثین نے اس حدیث کے راوی عمر بن ھارونؒ کی عدالت و ثقاہت پر کلام کیا ہے۔ یہ راوی درحقیقت حافظ الحدیث تھے اور ان کا شمار امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے شیوخ میں ہوتا ہے۔ حافظ عمر بن ھارون بن  یزید بن جابر البلخیؒ  کے بارے میں خود امام احمد بن حنبل ؒ کا قول ملاحظہ فرماویں:
قال المروذی ؒ  سئل احمد عن عمر بن ھارون البلخیؒ ، فقال: ما اقدر ان اتعلق علیہ بشیء کتبت عنہ حدیثا کثیرا۔
امام مروذیؒ کہتے ہیں کہ امام احمد ؒ سے عمر بن ھارون البلخی ؒ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ میری مجال نہیں کہ میں ان کے بارے میں کچھ کہہ سکوں، کیوں کہ میں نے ان سے سن کر بہت سی احادیث لکھی ہیں۔
 امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے  حافظ الحدیث عمر بن ھارونؒ سے اپنی المسند میں حدیث قبول کی ہے، مثال کے طور ملاحظہ کریں رقم الحدیث ۱۷۷۸۵
امام احمد ؒ کا عمر بن ھارون ؒ سے حدیث قبول کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ انہیں قابل احتجاج  یا کم از کم قابل اعتبارسمجھتے تھے۔
امام ابو عیسیٰ الترمذی رحمہ اللہ مذکورہ حدیث کے آخر پر حافظ عمر بن ھارون البلخیؒ کے بارے میں امام ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ کی رائے یوں بیان کرتے ہیں:
سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يَقُولُ عُمَرُ بْنُ هَارُونَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ
میں نے امام محمد بن اسماعیل البخاری ؒ سے سنا کہ عمر بن ھارون مقارب الحدیث ہے۔
مقارب الحدیث حفظ و تعدیل کے مراتب میں سے ایک مرتبہ ہے، مقارِب الحدیث سے یہ مراد ہے کہ اس کی حدیث دیگر ثقہ راویوں کی حدیث سے قریب تر ہے، یعنی اس میں کوئی شاذ یا منکر روایت نہیں ہے۔
امام ترمذیؒ امام بخاری ؒ کے بارے مزید فرماتے ہیں:
وَرَأَيْتُهُ حَسَنَ الرَّأْىِ فِي عُمَرَ بْنِ هَارُونَ
میں نے دیکھا کہ وہ (امام بخاریؒ)  عمر بن ھارونؒ کے بارے میں اچھی رائے رکھتے ہیں۔
چناںچہ امام بخاریؒ کے ساتھ ساتھ  امام ترمذیؒ  کا رجحان بھی اس حدیث کی تحسین کی طرف معلوم ہوتا ہے۔واللہ اعلم
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کو نبی 
 نے اپنی احادیث لکھنے کی خصوصی اجازت مراحمت فرمادی تھی، چنانچہ وہ احادیث لکھ لیا کرتے تھے۔ ان کی جمع کردہ احدیث کا مجموعہ الصحیفۃ ا
صادقۃ کے نام سے معروف ہے۔ یہ صحیفہ انکی اولاد میں وراثت کی طرح منقل ہوتا رہا۔ ان کے پڑپوتے جناب عمرو بن شعیب ؒ اسی صحیفہ سے دیکھ کر احادیث روایت کرتے تھے۔ یہ طرز روایت بعض محدثین کے ہاں پسندیدہ نہیں ہے، اسلیے وہ اس سند کے ساتھ ملنے والی روایت کو ضعیف گردانتے تھے۔ تاہم امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اس سند کو نہ صرف شرف قبولیت بخشا ہے بلکہ المسند میں مسند عبداللہ بن عمرو بن العاص کے ضمن میں بیسیوں احادیث اسی سند سے روایت کی ہیں۔
امام ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل البخاری ؒ فرماتے ہیں:
رایت احمد بن حنبل و علی بن المدینی، و اسحٰق بن راھویہ و ابا عبیدہ و عامۃ اصحابنا یحتجون بحدیث عمرو بن شعیب۔
بحرالدم لیوسف بن المبرد، رقم ۷۶۷
میں نے امام احمد بن حنبل، امام علی بن عبداللہ المدینی، امام اسحٰق بن راھویہ، امام ابو عبیدہ القاسم رحمہم اللہ تعالیٰ اور اکثر محدثین کو عمرو بن شعیب کی حدیث سے حجت پکڑتے دیکھا ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ کا معیارِ صحت تمام محدثین سے اعلیٰ ہے، اگرچہ وہ اپنی جامع الصحیح میں عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی سند سے روایت نہیں لاتے تاہم انہوں نے اپنی تاریخ میں اس سند پر اعتماد کیا ہے۔ جیسا کہ وہ اپنی التاریخ الصغیر (رقم ۷) میں اسی سند سے روایت قبول کرتے ہیں اور اسے بغیر تنقید کے چھوڑ دیتے ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کے طریق پر ملنے والی روایت سے حجت لی جاسکتی ہے۔
آیے اب دیکھتے ہیں کہ داڑھی بڑھانے کی تاکید سے متعلق وارد مذکورہ بالا صحیح احادیث کا معنی صحابہ نے کیا سمجھا ہے؟
امام سماکؒ بن یزید فرماتے ہیں:
کان علی یأخذ من لحیتہ مما یلی وجھہ
مصنف ابن ابی شیبہ ۸۵۴۸۰
سیدنا علی علیہ السلام اپنے چہرے کے قریب سے داڑھی تراش دیتے تھے۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان میں سے چند احادیث کے راوی ہیں، ان کے بارے امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا حَجَّ أَوِ اعْتَمَرَ قَبَضَ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَمَا فَضَلَ أَخَذَهُ‏.
صحیح البخاری ۵۸۹۲
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تھے تو اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے اوراس کا  جو حصہ مٹھی سے باہر ہوتا اسے کاٹ دیتے تھے۔
عن أبي زرعة: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقْبِضُ عَلَى لِحْيَتِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ مَا فَضَلَ عَنِ الْقُبْضَةِ
مصنف ابن أبي شيبة ۲۵۴۸۱.
 امام ابو زرعہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے
اوراس کا  جو حصہ مٹھی سے باہر ہوتا اسے کاٹ دیتے تھے۔
امام حسن البصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
کان یرخصون فیما زاد علی القبضہ من اللحیۃ ان یوخذ منھا
مصنف ابن ابی شیبہ ۸۵۴۸۴
وہ (صحابہ کرامؓ) ایک مٹھی سے زیادہ بڑھی ہوئی داڑھی کو تراشنے کی اجازت دیتے تھے۔
صحابہ  کرام رضی اللہ عنہم کے اس طرز عمل سے جامع ترمذی کی مذکورہ بالا حدیث کی تائید مزید ہوتی ہے اور پتہ چلتا ہے کہ اس کا متن صحیح ہے۔ بلکہ صحابہ کا عمل ایک قدم آگے بڑھ کر ثابت کرتا ہے کہ اعفو اللحی سے کتنی داڑھی بڑھانا مقصود ہے۔ اس سے یہ حقیقت پایہ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ ایک مشت سے زیادہ بڑھی  ہوءی داڑھی کو کاٹنا صرف صحابہ کا ہی نہیں بلکہ نبی 
 کا بھی یہی عمل تھا۔ اسی سے اس عمل کا استحباب بھی ثابت ہوجاتا ہے۔
فقہا کی ایک بڑی جماعت کا یہی مؤقف ہے ، جیسا کہ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں

روى ابن القاسم عن مالك لا بأسَ أن يؤخَذَ ما تطايرَ من اللِّحيةِ وشَذَّ، قيل لمالك: فإذا 

طالت جدًّا؟ قال: أرى أن يؤخَذَ منها وتُقَصَّ
أبو الوليد الباجي في المنتقى شرح الموطأ : ج۴ ص ۳۶۷
امام ابن القاسمؒ امام مالکؒ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:
داڑھی سے جو بال باہر نکل آءیں اور عجیب معلوم ہوں تو انہیں تراش دینے میں کوءی حرج نہیں، امام مالک سے کہا گیا کہ اگر داڑھی زیادہ بڑی ہوجاءے تو کیا کریں؟ بولے میری راءے یہ ہے کہ اسے پکڑ کر کاٹ دیا جاءے۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا بھی یہی مؤقف ہے:
وقال ابن هانئ :سألتُ أبا عبد الله عن الرجُلِ يأخذ من عارِضَيه؟ قال: يأخذُ مِن اللِّحيةِ ما فضلَ عن القبضة
مسائل ابن ھانی ؒ ج ۲ ص ۱۵۱
امام ابن ھانی ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے  امام بو عبداللہ احمد بن حنبل ؒ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو اپنے رخساروں سے داڑھی تراشتا ہے۔ انہوں نے فرمایا:اسے چاہیے کہ ایک مٹھی سے زیادہ داڑھی کو کاٹ دے۔
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مؤقف اس سے بھی ایک قدم آگے ہے:
قال أصحابنا: الإعفاءُ تَرْكُها حتى تَكِثَّ وتَكثُرَ, والقَصُّ سنَّةٌ فيها، وهو أن يقبِضَ الرجُلُ لحيَتَه, فما زاد منها على قبضةٍ قَطَعَها، كذلك ذكر محمد في كتاب (الآثار) عن أبي حنيفة، قال: وبه نأخذُ
البحر الرائق ج۳ ص ۱۲
ہمارے اصحاب (علماء احناف) کا ماننا یہ ہے کہ  اعفاء سے مراد داڑھی کا گھنا اور لمبا ہونا ہے تاہم اس کو تراشنا سنت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی داڑھی مٹھی میں پکڑے اور جو مٹھی سے باہر ہو اسے کاٹ دیا جاءے۔ یہی امام محمد بن حسن الشیبانی ؒ نے کتاب الالٓثار میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ  سے نقل کیا ہے اور اسی پر ہمارا فتویٰ ہے۔

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading