2024-07-17

باغِ فدک کے تنازعہ کی حقیقت

اس سے پہلے کہ باغِ فدک کے تنازعہ کی حقیقت بیان کی جائے، سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ باغِ فدک کا تعلق شریعت کے کن احکام سے ہے؟  دراصل باغِ فدک کا تعلق اموال فئے سے ہے۔ اموالِ فئے کے احکام سورۃ الحشر کے پہلے رکوع میں بیان کیے گئے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَمَآ اَفَـآءَ اللّـٰهُ عَلٰى رَسُوْلِـه مِنْـهُـمْ فَمَآ اَوْجَفْتُـمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَّلَا رِكَابٍ وَّلٰكِنَّ اللّـٰهَ يُسَلِّطُ رُسُلَـه عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ  وَاللّـٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ مَّآ اَفَـآءَ اللّـٰهُ عَلٰى رَسُوْلِـه مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّـٰـهِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِـذِى الْقُرْبٰى وَالْيَتَامٰى وَالْمَسَاكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۙكَىْ لَا يَكُـوْنَ دُوْلَـةً بَيْنَ الْاَغْنِيَآءِ مِنْكُمْ ۚ وَمَآ اٰتَاكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ۚ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ ۖ اِنَّ اللّـٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ  لِلْفُقَرَآءِ الْمُهَاجِرِيْنَ الَّـذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِـمْ وَاَمْوَالِـهِـمْ يَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّـٰهِ وَرِضْوَانًا وَّيَنْصُرُوْنَ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـه ۚ اُولٰئِكَ هُـمُ الصَّادِقُوْنَ وَالَّـذِيْنَ تَبَوَّءُوا الـدَّارَ وَالْاِيْمَانَ مِنْ قَبْلِـهِـمْ يُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَيْـهِـمْ وَلَا يَجِدُوْنَ فِىْ صُدُوْرِهِـمْ حَاجَةً مِّمَّآ اُوْتُوْا وَيُؤْثِرُوْنَ عَلٰى اَنْفُسِهِـمْ وَلَوْ كَانَ بِـهِـمْ خَصَاصَةٌ ۚ وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِه فَاُولٰئِكَ هُـمُ الْمُفْلِحُوْنَ  وَالَّـذِيْنَ جَآءُوْا مِنْ بَعْدِهِـمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّـذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِىْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا رَبَّنَآ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِـيْـمٌ [1]

اور جو کچھ اللہ نے اپنے رسول کو ان (یہود) سے بلا مشقت  دلا دیا ہے،  تم نے اس کے لیے گھوڑے نہیں دوڑائے اور نہ اونٹ لیکن اللہ اپنے رسولوں کو غالب کر دیتا ہے جس پر چاہے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔جو مال اللہ نے اپنے رسول کو دیہات والوں سے بلا مشقت دلایا سو وہ اللہ اور رسول اور  (رسول کے )قرابت والوں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے، تاکہ وہ تمہارے دولت مندوں میں نہ پھرتا رہے، اور جو کچھ تمہیں رسول دے اسے لے لو اور جس سے منع کرے اس سے باز رہو، اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔وہ مال وطن چھوڑنے والے مفلسوں کے لیے بھی ہے جو اپنے گھروں اور جائیدادوں سے نکالے گئے (وہ) اللہ کا فضل اس کی رضامندی چاہتے ہیں اور وہ اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں، یہی سچے (مؤمن) ہیں۔ اور وہ (مال) ان کے لیے بھی ہے کہ جنہوں نے ان سے پہلے (مدینہ میں) گھر اور ایمان حاصل کر رکھا ہے، جو ان کے پاس وطن چھوڑ کر آتا ہے اس سے محبت کرتے ہیں، اور اپنے سینوں میں اس کی نسبت کوئی خلش نہیں پاتے جو مہاجرین کو دیا جائے، اور وہ  ان (مہاجرین) کو اپنی جانوں پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ ان پر فاقہ ہو، اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچایا جائے پس وہی لوگ کامیاب ہیں۔اور ان کے لیے بھی جو مہاجرین کے بعد آئیں گے (اور) دعا مانگا کریں گے  کہ اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارےان بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں ایمانداروں کی طرف سے کینہ قائم نہ ہونے پائے، اے ہمارے رب! بے شک تو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ 

ہمارا مقصد سرِ دست ان آیات کی مکمل تفسیر بیان کرنا نہیں ہے، بس ہم ان آیات کے لُبِ لُباب پر گفتگو کریں گے۔ ان آیات سے درج ذیل نکات سامنے آتے ہیں:

۱۔ کفار کا جو مال جنگ کیے بغیر ہاتھ لگے وہ مال فئے ہے۔

۲۔۔ چونکہ اس  مال کے حصول میں مجاہدین نے کوئی خون پسینہ نہیں بہایا  لہٰذا اسے مجاہدین میں تقسیم نہیں کیا جائے گا۔

۳۔  یہ مال رسول اکرم ﷺ کی تحویل میں رہے گا۔

۴۔ رسول اکرم ﷺ اس مال کو اپنے علاوہ اپنے اہلِ بیت (علیہم الصلوات والسلام) ، یتیموں، مسکینوں  اورمسافروں کی فلاح و بہبود کے لیے خرچ کریں گے۔

۵۔ رسول اکرم ﷺ کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ جس کو جتنا چاہے عطا فرمائیں، کسی کو اس پر چوں چرا کرنے  کی اجازت نہیں۔

 مالِ فئے کے بارے میں ان بنیادی باتوں کے جاننے  کےبعد یہ بھی جان لیجیے کہ فدک  خیبر سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ایک قصبہ تھا  جو جنگ کیے  بغیر مفتوح ہوگیا تھا۔  لہٰذا اس کا شمار اموالِ فئے میں ہوتا ہے۔دیگر اموالِ فئے کی طرح فدک بھی رسول اکرم ﷺ کی تحویل میں تھا اور آپ قرآن حکیم کے ارشادات کے مطابق فدک کی آمدنی  آیاتِ فئے میں مذکور مصارف پرصرف فرماتے تھے۔

اموالِ فئے کے بارے میں صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم کے مابین یہ اجتہادی اختلاف تھا کہ آیا اموالِ فئے بھی اموالِ غنیمت  (جنگ کے ذریعے کفار سے حاصل ہونے والے مال)  کی طرح پانچ حصوں میں تقسیم ہوگا یانہیں۔جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:


وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ إِن كُنتُمْ آمَنتُم بِاللَّهِ وَمَا أَنزَلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ ۗ [2]

اور جان لو کہ جو کچھ مالِ غنیمت تم نے پایا ہو تو اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لیے اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اور (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) قرابت داروں کے لیے (ہے) اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کے لیے ہے۔ اگر تم اللہ پر اور اس (وحی) پر ایمان لائے ہو جو ہم نے اپنے (برگزیدہ) بندے پر (حق و باطل کے درمیان) فیصلے کے دن نازل فرمائی وہ دن (جب میدان بدر میں مومنوں اور کافروں کے) دونوں لشکر باہم مقابل ہوئے تھے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

اللہ تعالی نے خمس یعنی مال غنیمت کا پانجواں حصہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص فرمادیا ھے اور اس خمس کے بھی پانچ حصے کرنے کی تاکید فرمائی ھے. یہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس علیھما السلام اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ھیں
عن ابن عباس – رضي الله عنهما – : كان رسول الله – صلى الله عليه وسلم – إذا بعث سرية فغنموا ، خمس الغنيمة ، فضرب ذلك الخمس في خمسة [3].

یعنی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی فوجی مہم بھیجتے تھے تواس سے جو مال غنیمت حاصل ہوتا اس کے پانچ حصے کرتے تھے, پھر ان کے پانچویں حصے کو پھر پانچ حصوں میں بانٹ دیتے تھے۔
گویا کل مال غنیمت کے پانچ حصے کیے جاتے تھے, جس میں سے چار حصے مجاھدین میں تقسیم کیے جاتے اور خمس یعنی پانچواں حصہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تحویل میں لے کر اسے مذکورہ حکم الہی کے مطابق مزید پانچ حصوں میں تقسیم فرماتے تھے۔وہ پانچ حصے یہ ہیں
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ
اھل بیت رسول علیھم الصلوة والسلام کا حصہ
یتیموں کا حصہ
مساکین کا حصہ
مسافروں کا حصہ

آیتِ فئے اور آیتِ خُمُس  میں اموالِ فئے اور خُمُس کےمصارف ایک جیسے بیان کیے گئے ہیں۔ جس سے اہلِ بیت علیہم الصلوات والسلام کا رُجحان اس طرف ہواکہ اموالِ غنیمت میں سے تو چار حصے مجاہدین کے ہوتے ہیں اور صرف پانچویں حصے کاخُمُس اہلِ بیتِ رسول علیہم الصلوات والسلام کے حصے میں آتا ہے، جوکہ کُل مال ِ غنیمت کا صرف  چار فیصد بنتا ہے  تاہم اموالِ فئے کا پانچواں حصہ یعنی بیس فیصد اہلِ بیت کے حصے میں آنا چاہیے ۔

ہمارے اس دعویٰ کی دلیل درج ذیل صحیح حدیث ہے:

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، أَنَّ نَجْدَةَ الْحَرُورِيَّ، حِينَ خَرَجَ فِي فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى لِمَنْ تُرَاهُ قَالَ هُوَ لَنَا لِقُرْبَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَهُمْ وَقَدْ كَانَ عُمَرُ عَرَضَ عَلَيْنَا شَيْئًا رَأَيْنَاهُ دُونَ حَقِّنَا فَأَبَيْنَا أَنْ نَقْبَلَهُ ‏[4]

یزید بن ہُرمُز رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ کہ جب سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ کے زمانہ میں نجدہ الحروری (خارجی) نے ان پر لشکر کشی کی تو انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس علیہما السلام کے پاس مکتوب بھیج کر دریافت کیا کہ اہلِ بیتِ رسول علیہم الصلوات والسلام کا اموالِ فئے میں سے کتنا حصہ مقرر ہے اور اس کے اصل مستحق کون ہیں؟  تب عبداللہ بن عباس علیہما السلام نے جواب بھیجا کہ وہ ہمارے لیے ہے، رسول اکرم ﷺ نے وہ ہم میں ہی تقسیم فرمایا تھا۔عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں کچھ حصہ دینے کی پیش کش کی تھی مگر وہ ہمارے اصل حصے سے بہت کم تھا اس لیے ہم نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔

در اصل سیدنا ابو بکررضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ  اگرچہ اموالِ فئے مجاہدین میں تقسیم نہیں کیے جائیں گے مگر یہ رسول اللہ ﷺ کے توسط سے  وقف علی المسلمین ہیں ۔ لہذا رسول اکرم ﷺ کی وفات کے بعد خلیفۂ وقت کو  ہی ان میں تصرف کا اختیار ہوگا۔ دوسرے اوقاف کی طرح ان کی خریدو فروخت اور وراثت ممنوع ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ ان کی یہ بھی رائے تھی کہ اموالِ غنیمت میں سے جو پانچواں حصہ رسول اکرم ﷺ کو ملتا تھا وہ رسول اکرم ﷺ کی حیاتِ دنیوی کے ساتھ مخصوص تھا اب وفات کے بعد ان کا حصہ ساقط ہوگیا ہے۔لہٰذااب وہ خمس بھی بیت المال میں جمع کیا جائے گا۔[5]

چنانچہ جب رسول اکرم ﷺ کی وفات ہوگئی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے تمام اموالِ فئے بشمول فدک اپنی تحویل میں لے لیے۔تب سیدنا علی علیہ السلام نے سیدہ فاطمہ علیہا السلام کو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تاکہ وہ ان سے اموالِ فئے  میں سے اپنے حصے (خُمُس)     کا مطالبہ کریں۔ چنانچہ سیدۂ کائنات سلام اللہ علیہا اپنے دادا عباس علیہ السلام کے ساتھ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور ان سے اموالِ فئے  اور اموالِ غنیمت میں سے اپنے حصے  (خُمُس)  کا مطالبہ کیا۔ صحیح البخاری میں یہ روایت ان الفاظ میں روایت ہوئی ہے:

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِيمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم، تَطْلُبُ صَدَقَةَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الَّتِي بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ “‏ لاَ نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا فَهْوَ صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ ـ يَعْنِي مَالَ اللَّهِ ـ لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَزِيدُوا عَلَى الْمَأْكَلِ ‏”‏‏.‏ وَإِنِّي وَاللَّهِ لاَ أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَاتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، وَلأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ [6]

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہ انہیں شعیب نے خبر دی، زہری کی روایت سے کہ مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ مجھ سے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیاکہ سیدہ فاطمہ علیہا السلام کو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا گیا تاکہ وہ ان سے مدینہ اور فدک کےاموال فئے  اور خیبر کے  بقایا خُمُس میں سے اس میراث کا مطالبہ کریں جو رسول اکرم ﷺ ان کے لیے چھوڑ گئے ہیں۔ تب سیدنا ابو بکر رضی اللہ نے انہیں رسول اکرم ﷺ کا یہ فرمان سنایا کہ ہم انبیا کا ترکہ بانٹا نہیں جاتا۔ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ بے شک آلِ محمد اس مال میں سے کھاتی رہے گی، یعنی اللہ کے مال میں سے۔ان کا حصہ یومیہ خوراک سے زیادہ نہیں ہے۔ اللہ کی قسم میں رسول اکرم ﷺ کے ان صدقات (اوقاف) میں اپنی جانب سے کوئی ردو بدل نہیں کروں گا جیسےوہ رسول ﷺ کے عہد میں تھے۔ میں انہیں انہی مصارف پر صرف کروں گا جن پر نبی ﷺ صرف فرمایا کرتے تھے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” سَأَلَتْ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْسِمَ لَهَا مِيرَاثَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ [7] ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے صالح بن کیسان نے ‘ ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ‘ انہیں عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور انہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ  رسول ﷺ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم 

کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کیا تھا کہ نبی کریم ﷺ  

کے اس ترکہ سے انہیں ان کی میراث کا حصہ دلایا جائے جو اللہ تعالیٰ نے آپ 

 کو فئے کی صورت میں دیا تھا۔

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ وَالْعَبَّاسَ أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ يَلْتَمِسَانِ مِيرَاثَهُمَا، أَرْضَهُ مِنْ فَدَكٍ، وَسَهْمَهُ مِنْ خَيْبَرَ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ “‏ لاَ نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ فِي هَذَا الْمَالِ ‏”‏‏.‏ وَاللَّهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحَبُّ إِلَىَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي‏.‏ [8]

ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا کہ ہمیں ہشام نے خبر دی کہ ہمیں معمر نے زہری سے روایت بیان کی کہ عروہ نے بیان کیاکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ علیہا السلام اور سیدنا عباس بن عبدالمطلب علیہ السلام ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے تاکہ ان سے  ارضِ فدک اور خیبر میں سے اپنی میراث کا مطالبہ کریں۔ تب سیدنا ابو بکر رضی اللہ  عنہ نے انہیں رسول اکرم ﷺ کا یہ فرمان سنایا کہ ہم انبیا کا ترکہ بانٹا نہیں جاتا۔ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ بے شک آلِ محمد اس مال میں سے کھاتی رہے گی۔اللہ کی قسم ! اہلِ بیتِ رسول ﷺ مجھے اپنے گھر والوں سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔

اہلِ بیت علیہم الصلوات والسلام کو جناب ابوبکررضی اللہ عنہ کی دلیل سےدو وجوہ  کی بنا پرا ختلاف تھا۔پہلی یہ کہ  سیدہ فاطمہ علیہا السلام کا اموالِ فئے میں سے اپنے حصے کا مطالبہ ظاہر کرتا ہے کہ اُن کی رائے  میں اموالِ فئے   رسول  ﷺکے فرمان لا نوُرَث سے مستثنیٰ ہیں  کیونکہ اس فرمان کا اطلاق رسول اکرم ﷺ کے صرف  ذاتی اموال پر ہوتا ہے نیزیہ   کہ یہ اموال بھی اموالِ غنیمت کی طرح پانچ حصوں میں تقسیم ہونگے، اور یہ  کہ اہلِ بیت رسول علیہم الصلوات والسلام اموالِ غنیمت کے پانچویں حصے(خُمُس)  کے نبی اکرم ﷺ کی وفات کے بعدبھی حقدار ہیں کیونکہ وفاتِ رسول سے اہلِ بیت کا حصہ ساقط نہیں ہوا۔

یہ اختلاف بنیادی طور پر ایک اجتہادی اختلاف تھا ، اسے حق و باطل اور ایمان و کفر کا فرق باور کرانا یقیناً  ایک غیر معقول رویہ ہے، تاہم یہ اختلاف  مسلمانوں میں خلیج پیدا کرنے کاباعث بنا۔  سیدہ فاطمہ الزہرا علیہا لسلام نے جناب ابو بکر  رضی اللہ عنہ کے انکار کے بعد ان سے اموالِ فئے   اورغنیمت میں سے اپنے حصے کا دوبارہ مطالبہ نہیں کیا۔مگر وہ تادمِ واپسیں ان سے ناراض رہیں۔[9]لاریب اہلِ بیت علیہم الصلوات والسلام دنیا پرست نہیں تھے اور نہ ہی انہیں جاگیریں بنانے کی طمع تھی۔ تاہم  اپنے جائز حق کا مطالبہ کرنے کو دنیا پرستی قرار دینا اہلِ بیت علیہم الصلوات والسلام سے عداوت کی غمازی کرتا ہے۔

امام  محمد بن جریر الطبری ؒ  نےسورۃ الاسرا (بنی اسرائیل) کی آیت ۲۶ کی تفسیر میں امام زین العابدین علی بن الحسین علیہما السلام کا قول  نقل کیا ہے جس سے ہمارے دعویٰ کی تائید ہوتی ہے۔ پہلے آیت ملاحظہ فرمائیں:

وَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا

اور (اے نبی ﷺ)  اہلِ قرابت کواُ ن کا حق دیں اور مسکین و مسافر کا بھی۔ اور کبھی فضول خرچی مت کیجیے گا۔

اس آیت کے ذیل میں  امام ابن جریر الطبریؒ نے یہ روایت نقل کی ہے:

حدثني محمد بن عمارة الأسدي، قال: ثنا إسماعيل بن أبان، قال: ثنا الصباح بن يحيى المزَنيّ، عن السُّديّ، عن أبي الديلم، قال: قال عليّ بن الحسين عليهما السلام لرجل من أهل الشام: أقرأت القرآن ؟ قال: نعم، قال: أفما قرأت في بني إسرائيل

 (وآتِ ذَا القُرْبى حَقَّهُ)

قال: وإنكم لَلْقرابة التي أمر الله جلّ ثناؤه أن يُؤتى حقه، قال: نعم

امام زین العابدین علی بن الحسین علیہ

 السلام نے نے ایک شامی  سے دریافت کیا ،کیا تم قرآن پڑھتے ہو؟ وہ کہنے لگا جی ہاں۔ پھر امام علیہ السلام نے پوچھا کیا تم نے سورہ بنی اسرائیل کی یہ آیت نہیں پڑھی(اہلِ قرابت کو ان کا حق دو) وہ شامی پوچھنے لگا کہ  اس آیت میں جن اہلِ قرابت کا حق ادا کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا  ہے کیا اس سے مراد  اہلِ بیت رسول ہیں؟  امام علیہ السلام نے جواب دیا ’’ہاں‘‘ (وہی تو مراد ہیں)

امام ابن الجوزی الحنبلی ؒ نے اپنی تفسیر زادالمسیر فی علم التفسیر میں سورہ بنی اسرائیل کی مذکورہ آیت کے ذیل میں  امام  زین العابدین  علیہ السلام کے اس قول کو بطریقِ جزم بیان کیا ہے، جس سے اس قول کی صحت متعین ہوجاتی ہے۔[10]

ہمارے نزدیک اہلِ بیت رسول 

علیہم الصلوات والسلام کا مؤقف قرآن و سنت کے مطابق تھا اور وہ اپنے مطالبے میں بجانبِ حق تھے۔

رسول اکرم ﷺ نے اپنی  حیاتِ مبارکہ میں سیدنا علی علیہ السلام کو اموالِ خمس اور صدقات  (زکوٰۃ وعشر) کی تقسیم پر مأمور فرمایا تھا۔ اسی مقصد کے تحت  اموالِ فئے کے انتظامات سیدنا علی علیہ السلام کے سپرد تھے۔اگرچہ نبی ﷺ نے خیبروفدک کی سرزمین اہلِ بیت میں تقسیم نہیں کی تھی تاہم ان اراضی کی آمدن اور پیداوار وہ سیدنا علی علیہ السلام کے توسط سےاہلِ بیت میں تقسیم فرماتے تھے۔ اہلِ بیت کی رائے تھی کہ نبی ﷺ کی حیاتِ طیبہ کی طرح ان کی وفات کے بعد بھی  سیدنا علی علیہ السلام ہی ان اراضی کے انتظامات  کرنے کا حق رکھتے ہیں۔مگر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے تمام اموالِ فئے کے انتظامات  اپنے ہاتھ میں لے لیے ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ بھی اہلِ بیت پر شاق گزرا۔سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو سیدنا علی علیہ السلام نے ان سے بھی مطالبہ کیا کہ اموالِ فئے کے انتظامات ان کے سپرد کیے جائیں ، خلیفۂ ثانی نے ان کا مطالبہ جزوی طور پر  منظور کرلیا۔یعنی مدینہ طیبہ میں واقع بنی نضیر سے حاصل ہونے والے اموالِ فئے کے انتظامات تو سیدنا علی اور سیدنا عباس علیہماالسلام کے سپرد کردئیے مگر خیبر اور فدک کے انتظامات اپنے  ہی قبضے میں رکھے۔[11]

غرض فدک سے متعلق اہلِ بیت اور خلفا میں اختلاف صرف اموالِ فئے کی تقسیم کا ہی نہیں تھا بلکہ ان اموال کے انتظامات  کے بارے میں بھی ان میں اختلافِ رائے پایا جاتا تھا۔چونکہ بعض روایات میں یہ دونوں اختلافات اجمالا ً اکٹھے بیان کردئیے گئے ہیں اس لیے  بعض لوگ یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اختلاف محض انتظامی نوعیت  ہی کا تھا۔ حالانکہ ہم واضح کر آئے ہیں کہ انتظامی معاملات کے علاوہ اصل اختلاف اموالِ فئے اور اموالِ غنیمت کے خمس میں سے اہلِ بیت کا حصہ باقی ہونے  یا ساقط ہونے کے بارے میں تھا۔  ہمارا مقصود صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم کے اختلافات کو ہوا دینا یا ان کو ہوا بنا کر پیش کرنا نہیں ہے بلکہ اس مضمون  کا مقصد صرف یہ  ہے کہ لوگ  قابلِ اعتماد ذرائع سے درست معلومات تک رسائی حاصل کرسکیں تاکہ کوئی شر پسند ان اختلافات کو غلط رنگ نہ دے سکے۔

واللہ المستعان

 

 



[1] الحشر: ۱ تا ۱۰

[2] الانفال: ۴۱

[3]تفسیر ابن جریر الطبری

[4] سنن النسائی: رقم ۴۱۳۳

[5]المغنی و الشرح الکبیر لابن قدامہ الحنبلی: ج 7, ص 301, مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان

سنن ابو داؤد: رقم ۲۹۷۸

[6]صحیح البخاری: رقم ۳۷۱۱

[7] صحیح البخاری: رقم ۳۰۹۲

[8] صحیح البخاری: رقم ۴۰۳۵

[9]  صحیح  البخاری: رقم ۶۷۲۵ ،مصنف عبدالرزاق: رقم ۹۴۸۷

[10] زادالمسیر فی علم التفسیر، جلد ۵، صفحہ ۲۷، المکتب الاسلامی لزہیر الشاویش

[11] صحیح البخاری: رقم ۳۰۹۲، ۳۰۹۳

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading