2024-07-17

 

مرض، دوا اور شِفاء

اہلِ ایمان کا یہ پختہ اعتقاد ہے کہ تمام اسبابِ خیر و شر کا پیدا کرنےوالا اللہ تعالیٰ ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے اذن و مشیئت کے بغیر نہ تو آگ جلا سکتی ہے نہ پانی آگ بجھا سکتا ہے۔ اسباب بذاتِ خود مستقل تأثیر نہیں رکھتے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے اذن و مشیئت کے محتاج ہیں۔ ہاں اسباب میں تأثیر کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ آگ میں جلانے ، غذا میں بھوک مٹانے، پانی میں پیاس بجھانے، جراثیم  و موذی  اشیا میں مرض پیدا کرنے  اور دوا میں مرض زائل کرنے کی تأثیر اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کی ہے۔ یہ تأثیر بھی اللہ  تعالیٰ کے اذن و مشیئت کی پابند ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے

وَاِنْ یَّمْسَسْکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلاَ کَاشِفَ لَہ اِلَّا ھُوَ وَاِنْ یُّرِدْکَ بِخَیْرٍفَلاَ رَآدَّ لِفَضْلِہ یُصِیْبُ بِہ مَنْ یَّشآءُ مِنْ عِبَادِہ وَھُوَالْغَفُوْرُ الرَّحِیْمِ [1]

اور اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو اس کے سوا کوئی اس تکلیف کو دور نہیں کر سکتا اور اگر وہ تمہیں خیر سے نوازنا چاہے توا س کے فضل کو کوئی دور نہیں ہٹا سکتا۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نوازتا ہے۔

قُل لَّن يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا هُوَ مَوْلَانَا 

ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ [2]

آپ انہیں بتا دیجیے کہ ہمیں وہی تکلیف پہنچتی ہے جو اللہ نے ہمارے مقدر میں لکھ دی ہے، وہی ہمارا کارساز ہے اور اہلِ ایمان تو صرف اللہ ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

قرآن کے عطا کردہ اس اعتقاد کے برعکس مشرکین عرب کا اعتقاد تھا کہ ہر مرض متعدی ہوتا ہے یعنی ایک مریض کو چھونے سے  صحتمند آدمی کوبھی وہی مرض لاحق ہوجاتا ہے۔ مرض میں مبتلا ہونے میں وہ اللہ تعالیٰ کے اذن و مشیئت پر یقین نہیں رکھتے تھے۔  چونکہ یہ اعتقاد توکل علی اللہ کے منافی ہے اس لیے رسول اکرم ﷺ نے واضح طور پر فرما دیا کہ امراض متعدی نہیں ہوتے۔

                            

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا صَاحِبٌ، لَنَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏”‏ لاَ يُعْدِي شَيْءٌ شَيْئًا ‏”‏ ‏.‏ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْبَعِيرُ الْجَرِبُ الْحَشَفَةُ نُدْبِنُهُ فَيُجْرِبُ الإِبِلَ كُلَّهَا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏”‏ فَمَنْ أَجْرَبَ الأَوَّلَ لاَ عَدْوَى وَلاَ صَفَرَ خَلَقَ اللَّهُ كُلَّ نَفْسٍ وَكَتَبَ حَيَاتَهَا وَرِزْقَهَا وَمَصَائِبَهَا ‏”‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَنَسٍ [3]

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ  رسول اکرم ﷺ نے ہمیں خطبہ ا  رشاد کرتے ہوئے فرمایا کہ چھوت چھات کی کوئی حقیقت نہیں۔ایک بدو کہنے لگا کہ یارسول اللہ ! جب ایک اونٹ کو خارش ہوجاتی ہے تو اگر ہم اسے اونٹوں کے گلے میں ہی رہنے دیں تو  اس کی وجہ سےباقی اونٹوں کو بھی خارش ہوجاتی ہے (اس کا کیا سبب؟) ۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اس پہلے اونٹ کو خارش  زدہ کون کرتا ہے؟ چھوت چھات کچھ نہیں ہوتی اور نہ ہی  ماہِ صفر منحوس ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر جان کو پیدا کیا اور اس کی زندگی گزارنے کی مدت ، اس کا رزق اور اس پر آنے والی مصیبتیں سب کچھ لکھ رکھا ہے۔

ملاحظہ فرمائیں کہ بدو کا خیال تھا کہ  خارش زدہ اونٹوں کے ساتھ چھو جانے سے صحتمند اونٹوں کو بھی خارش لاحق ہوجاتی ہے، مگر رسول اکرم ﷺ نے اس کے اس خیال کی نفی کرتے ہوئے بتایا کہ اگر یہ سچ ہے تو پھر سب سے پہلے اونٹ کو خارش کیسے ہوئی؟ وہ تو کسی خارش زدہ اونٹ کے ساتھ نہیں چھوا تھا۔ یعنی اس پہلےاونٹ کو بھی اللہ نے خارش میں مبتلا کیا اور اس سے چھونے والے دوسرے اونٹوں کو بھی اللہ تعالیٰ ہی اس مرض میں مبتلا کرتا ہے۔  مرض فی نفسہ متعدی نہیں ہوتا۔

غرض رسول اکرم ﷺ کا مقصد یہی باور کرانا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اذن و مشیئت کے بغیر کسی بھی جان کو کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی۔ ظاہری اسباب بھی اسی وقت کارگر ہوتے ہیں جب اللہ تعالیٰ کی مشیئت ہوتی ہے۔جُذام (کوڑھ) کے بارے میں زمانہ قبل اسلام کے عربوں اور دنیا کی دوسری قوموں کا یہی اعتقاد تھا کہ  جُذام (کوڑھ)  کے مریض کے ساتھ محض چھو جانے سے  صحتمند آدمی بھی اس مرض میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے اس اعتقاد کی  اپنے عمل سے بھی نفی فرمائی ۔ 

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخَذَ بِيَدِ مَجْذُومٍ فَوَضَعَهَا مَعَهُ فِي الْقَصْعَةِ وَقَالَ ‏ “‏ كُلْ ثِقَةً بِاللَّهِ وَتَوَكُّلاً عَلَيْهِ ‏”‏[4]

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ایک جُذامی (کوڑھی) کا ہاتھ پکڑا اور جس پیالے سے خود کھارہے تھے اسے بھی اس میں سے کھانے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:

کھاؤ کیونکہ ہمیں اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور بھروسہ ہے۔

تاہم چونکہ یہ  بات انسانی مشاہدے اور تجربے میں آتی رہتی ہے کہ بظاہر  جُذام  کے مریضوں کے ساتھ زیادہ میل جول رکھنے والوں کو بھی یہ مرض لاحق ہوجاتا ہے  لہٰذا آپ ﷺ نے انسانوں کے اس مشاہدے اور تجربے کی  کلی نفی نہیں کی بل کہ عام  لوگوں کو مجذوم (کوڑھی)  سے دور رہنے  اور بلا ضرورت اس کے قریب جانے سے باز رہنے کی تاکید فرمائی تاکہ ظاہری مشاہدے کی وجہ سے لوگ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کی نفی نہ کربیٹھیں۔

وَقَالَ عَفَّانُ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ “‏ لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ وَلاَ هَامَةَ وَلاَ صَفَرَ، وَفِرَّ مِنَ الْمَجْذُومِ كَمَا تَفِرُّ مِنَ الأَسَدِ ‏”‏‏.‏[5]

سیدنا  ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ چھوت چھات کچھ بھی نہیں، بدشگونی کچھ نہیں، ہامہ کا کوئی وجود نہیں، ماہِ صفر کے منحوس ہونے کا تصور غلط ہے، تاہم مجذوم  (کوڑھی)  سے ایسے دور رہو جیسے شیر سے دور رہتے ہو۔

چھوت چھات کی نفی کے ساتھ مجذوم سے دور رہنے کی یہ تاکید محض اس لیے ہے کہ عام لوگ  وہم میں مبتلا ہوکر یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ  مرض طبعی طور پر متعدی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی مشیئت  کے بغیر ہی مستقل تأثیر رکھتا ہے۔ ہمارے تجربے اور مشاہدے میں آتا ہے کہ بہت سے جراثیم  یعنی بیکٹیریا اور وائرس وغیرہ ظاہری طور پر امراض پیدا کرنے کا موجب بنتے ہیں۔  یہ جراثیم امراض کے ظاہری اسباب تو ضرور ہیں مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جب بھی جراثیم حملہ آور ہونگے ا ن سے متعلقہ مرض لازماً لاحق ہوگا ۔ یہ جراثیم اللہ تعالیٰ کے اذن و مشیئت کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے۔  ملحدین یہی سمجھتے ہیں  کہ جراثیم میں مرض پیدا کرنے کی مستقل تأثیر موجود ہے، جبکہ اہلِ ایمان کا پختہ اعتقاد  ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اذن و مشیئت کے بغیر جراثیم کسی انسان کو کسی معمولی مرض میں بھی مبتلا نہیں کر سکتے چہ جائے کہ وہ کوئی مہلک مرض از خود پیدا  کرسکیں۔

جراثیم کا حقیقی وجود ہے جنہیں  طاقتور مائیکروسکوپ  سے دیکھا جاسکتا ہے۔ تاہم یہ اسی وقت مؤثر ہوتے ہیں جب اللہ تعالیٰ کی مشیئت ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کی تائید جدید سائنسی تحقیقات سے بھی ہوچکی ہے۔ مثال کے طور پر  ہیپاٹائٹس  یعنی کالے یرقان کے  وائرس ایچ سی وی کا حملہ لازماً ہیپاٹائٹس کا موجب نہیں بنتا۔ بہت دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ وائرس جسم میں موجود ہوتا ہے مگر  بدن پرہیپا ٹائٹس کے اثرات مطلق  ظاہر نہیں ہوتے بلکہ وائرس خوابیدہ پڑا رہتا ہے۔ [6]یہ اسی وقت مؤثر ہوتا ہے جب اسے اللہ کا اذن ہوتا ہے۔

توکل کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جس شے کے بارے میں مکمل مشاہدہ اور تجربہ شاہد ہو کہ وہ انسانی صحت کے لیے مضر ہے اسے توکل کے نام پر استعمال کیا جائے یا اس سے بچنے کی کوئی تدبیر نہ کی جائے۔ جراثیم (بیکٹیریا اور وائرس)  چونکہ ظاہری طور پر امراض کا موجب بنتے ہیں اس لیے ان سے بچنے کی تدبیر کرنا اسلامی شریعت کا تقاضہ ہے۔ یہی سبب ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے  لوگوں کو طاعون زدہ علاقے میں جانے سے منع فرمایا ہے  اور طاعون زدہ بستی میں رہنے والوں کو اس بستی سے کسی دوسری بستی میں جانے سے منع فرمایا ہے۔ اس حکم کا مقصد طاعون کے جراثیم کے پھیلاؤ کا سدِ باب کرنا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، يُحَدِّثُ سَعْدًا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ “‏ إِذَا سَمِعْتُمْ بِالطَّاعُونِ بِأَرْضٍ فَلاَ تَدْخُلُوهَا، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلاَ تَخْرُجُوا مِنْهَا ‏”‏‏‏.‏[7]

 

سیدنا سعد بن ابی وقّاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم کسی بستی کے بارے میں سنو کہ وہاں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی ہے تو وہاں مت جاؤ اور اگر تمہاری بستی میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑے تو وہاں سے مت نکلو۔

پس جن طریقوں سےبھی جراثیم پھیلتے ہیں ان سب کا تدارک کرنا عین شرعی تقاضہ ہے۔یہ توکل کے منافی ہرگز نہیں جیسا کہ بعض لوگوں کا گمان ہے۔

اسی طرح اگر مشیئتِ الٰہی سے آدمی کو کوئی مرض لاحق ہوجائے تو اس  کا علاج معالجہ کرانا سنت نبوی ﷺ ہے۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کیہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا

ما أنزل الله من داء، إلا وأنزل معه الدواء، علمه من علمه، وجهله من جهله[8]

اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بیماری پیدا نہیں کی جس کے ساتھ ہی اس کی دوا پیدا نہ کی ہو۔ بعض لوگوں کو اس (دوا) کا علم ہوجاتا ہے اور دوسرے لوگ اس سے ناواقف ہی رہتے ہیں۔

ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ بھی وارد ہوئے ہیں

إن الله لم ينزل داء إلا أنزل له شفاء فتداووا

بے شک اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بیماری پیدا نہیں کی جس کی شفا نہ اتاری ہو۔ پس تم علاج کرایا کرو۔

غرض علاج معالجہ شریعتِ اسلامی کا ہی تقاضہ ہے ، اس کے منافی ہرگز نہیں۔ واللہ اعلم بالصواب



[1] یونس:١٠٧

 

[2] التوبہ: ۵۱

[3] جامع الترمذی: رقم ۲۲۹۳

[4] سنن ابو داؤد: رقم ۳۹۲۵

[5] صحیح البخاری: رقم ۵۷۰۷

[7] صحیح البخاری: رقم ۵۷۲۸

[8] مسند امام احمد

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading