2024-07-17

 

علمِ حدیث کی تدوین میں تأخیر کے اسباب

از قلم: ساجد محمود انصاری
رسول اکرم ﷺ پر قرآن نازل ہوا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس کی تعلیم وتبلیغ کا خوب اھتمام فرمایا بلکہ اس کا صحیح حق ادا فرمایا، جس کی شہادت ایک لاکھ سے زائد صحابہ کے مجمع نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر باہم پہنچائی۔ ہر گاہ کہ آپکی رسالت اس شہادت کی محتاج نہ تھی مگرامت پر اتمامِ حجت کے لیے اس کا انتظام رب العالمین کی جانب سے کردیا گیا۔
رسول اکرم ﷺ قرآن حکیم کی تعلیم تین طریقوں سے فرماتے تھے
۱۔ تلاوتِ آیات
۲۔ تفسیرِ آیات
۳۔ عملی نمونہ
تلاوتِ آیات اصل میں تو زبانی ہی کی جاتی تھی۔ تاہم امت کی سہولت کے لیے آپ رفتہ رفتہ نجماً نجماً نازل ہونے والی آیات کو لکھواتے بھی جاتے تھے۔ تاہم ابتدا میں احتمال تھا کہ لوگ آیاتِ قرآنی اور ان کی تفسیر کو خلط ملط نہ کر بیٹھیں،سو آپ نے تفسیر آیات لکھنے سے منع فرمادیا۔ تاہم جب قرآن کا معتد بہ حصہ نازل ہوگیا اور اہلِ ایمان نےاسلوبِ قرآن اور تفسیرِ قرآن کا فرق خوب جان لیا تو آپ ﷺ نے ہجرت کے بعد بعض صحابہ کو فردا فردا تفسیرِ آیات لکھنے کی اجازت مرحمت فرمادی۔ جیسے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنھما نے اس کی صراحت کی ہے۔ کیونکہ آپ نے یہ اجازت فردا فردا دی تھی جو سب صحابہ میں شائع نہ ہوسکی تھی اس لیے صحابہ کرام ؓ کی عظیم اکثریت نے تفسیرِ قرآن لکھنے کی بجائے اسے اپنے سینوں میں محفوظ کرنا مستحسن جانا اوریہ علمی ذخیرہ اپنے تلامذہ (تابعین) کو
زبانی ہی منتقل کردیا۔
حدیث تو اصل میں رسول اکرم ﷺ کا قول وفعل ہے، صحابہ کو یہ احادیث براہ راست نبی ﷺ سے ملیں انہیں لکھنے کی حاجت ہی نہیں تھی کیونکہ انہوں نے خود اپنے سر کی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کیا تھا۔ لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی وفات سے اس علم حدیث کے ضائع ہونے کا اندیشہ تھا۔ اس لیے تابعین کو اس کے لکھنے کی حاجت محسوس ہوئی اور انہوں نے ہی علمِ حدیث میں ابتدائی تصنیفات کیں۔
 
 رسول اکرم ﷺ سے منقول قرآن کی علمی اور عملی تفسیر کو اصطلاحاً حدیثِ رسول کے نام 

سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح حدیث بھی قرآن ہی سے مأخوذ ہے ارشادِ باری تعالیٰ ہے

ھل اتٰک حدیث موسیٰ
علمِ حدیث کیونکہ اصلاً تفسیرِ قرآن ہے اس لیے احادیث کا حجم قرآن کی نسبت کئی گنا زیادہ ہے۔ یہ ایک فطری سی بات ہے کہ کسی بھی متن کی شرح حجم میں اس سے بڑھ کے ہوتی ہے۔ یہی معاملہ تفسیرِ قرآن کے ساتھ بھی پیش آیا۔ عربوں کے لیے قرآن سے کئی گنا بڑے حجم کی حامل تفسیرِ قرآن کو حفظ کرنا عجمیوں کی نسبت آسان تھا۔ مگر عجمیوں کے لیے یہ ایک ہمت شکن کام ہے۔ رسول اکرم ﷺ کی وفات حسرت آیات کے بعد جب اسلام کا غلبہ عراق، شام ، ایران اور دیگر دوردراز علاقوں تک وسیع ہوا تو عجمی بھی دین اسلام کے پیروکار بننے لگے۔
مشہور مقولہ ہے کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔ عجمیوں کے لیے تفسیرِ قرآن(حدیثِ رسول) سے استفادہ کرنے کی یہی صورت تھی کہ ان کے پاس یہ علم کتابی شکل میں موجود ہو۔ چنانچہ عجمیوں کی سہولت کے لیے اسے قلمبند کرنے کا بیڑا وقت کے اعلیٰ ترین علما نے اٹھایا۔
کتابتِ حدیث کا دوسرا سبب یہ ہوا کہ علم حدیث کی حافظہ کے ذریعے حفاظت قرون اولیٰ میں احسن طریقے سے جاری رہی۔ مگر خیرا لقرون کی برکات ختم ہونے کی وجہ سے لوگوں نےعلمِ حدیث کو ایک عام فن میں تبدیل کرڈالا۔ ایسے ایسے لوگ اس فن میں گھس آئے جن کا حافظہ تو شاید قابلِ اعتماد ہی تھا مگر ان کا کردار قابلِ اعتماد نہیں تھا۔ اسی طرح ہر ایرے غیرے نے اس فن پر طبع آزمائی شروع کردی۔ جس سے حفظِ حدیث کا معیار گرتا چلاگیا۔ چنانچہ بعض محدثین نے مناسب سمجھا کہ علم حدیث کو مدون کردیا جائے۔
سب سے پہلے امام ہمام بن منبہ ؒنے اس جانب قدم بڑھایا۔ اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اہم ترین مرویات  جمع کیں جو صحیفہ ہمام بن منبہ کے نام سے معروف ہے۔پھر ان کی اقتدا میں دوسرے محدثین بھی کتابتِ حدیث کی طرف مائل ہوئے۔ کتابتِ حدیث کی ابتدا عالمِ عرب میں ہی ہوئی۔ مدنی امام مالک رحمہ اللہ نے المؤطا کے نام سے احادیث کا ایک مقبول ذخیرہ جمع کیا۔ یمنی عالم امام عبدارلرزاق الصنعانی ؒ نے علمِ حدیث کا ایک عظیم ذخیرہ جمع کردیا جسے ہم مصنف عبدالرزاق کے نام سے جانتے ہیں۔ انہی کے شاگرد امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے مقبول احادیث کا ضخیم ترین ذخیرہ المسند کے نام سے جمع فرمایا۔امام احمد بن حنبلؒ عرب قبیلہ بنو شیبان سے تعلق رکھتے تھے۔ غرض یہ دعویٰ کہ احادیث کے سبھی مؤلفین عجمی یا ایرانی تھے یکسر غلط ہے۔
یوں بھی دین کا مدار محض کتابت پر نہیں ہے، حافظہ میں محفوظ کرکے آگے منتقل کرنا بھی قرآن سے ثابت ہے۔ احادیث کی حفاظت و انتقال کا اصل ذریعہ سینہ بہ سینہ منتقلی ہے۔ بعض محدثین کرام عمرو بن شعیب کی روایت کومحض اس لیے حجت نہیں مانتے کہ وہ اپنےدادا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنھما کے لکھے ہوئے صحیفہ صادقہ سے دیکھ کر احادیث نقل کرتے تھے۔ جبکہ صحیح حدیث کی شرط ہے کہ عادل (باکردار) راوی حدیث اپنے حافظے سے بیان کرے اور اس کا حافظہ ہو بھی قابل اعتماد۔
رہا یہ سوال کہ مقبول ترین کتبِ حدیث کی اکثریت عجمی کیوں ہے؟ اس کا بنیادی سبب یہی ہے کہ عجمی ہی ان کتب کے سب سے زیادہ محتاج تھے۔ اگر تمام احادیث لاکھوں اسناد سمیت کتابی شکل میں جمع کردی جائیں تو ان سے اوسط ضخامت کی کم از کم پچاس جلدیں وجود میں آجائیں گی۔ ظاہر ہے کہ ایسی ضخیم کتاب سے استفادہ کرنا عوام تو عوام علما تک کے لیے ہمالیہ سر کرنے کے مترادف ہے۔ عجمی محدثین کرام نے اس حقیقت کو شدت کے ساتھ محسوس کیا۔ چنانچہ انہوں نے علمی ذوق رکھنے والے عوام اور اوسط درجے کے علما کے لیے قابلِ اعتماد اسناد کا انتخاب کرکے اپنی کتابوں میں یکجا کردیا۔ اس طرح احادیث سے استفادہ کرنا آسان ہوگیا۔ اس ساری صورتحال کو کما حقہ سمجھنے کے لیے صحاح ستہ کے مؤلفین کے زمانے کا موجودہ زمانے سے تقابل کرکے دیکھ لیں۔ اُس دور میں لاکھوں اسناد سمیت احادیث کا مطالعہ کرنا اگر مشکل تھا تو آج یہ کیفیت ہے کہ صحاح ستہ میں جمع چند ہزار منتخب احادیث کی اسناد کا مطالعہ بھی لوگوں کی طبیعت پر ناگوار گزرتا ہے۔ یہ تو ان عجمیوں کی کیفییت ہے جو عربی جانتے ہیں۔ رہے وہ جوعربی زبان ہی سے نابلد ہیں، ان کے لیے ان کی زبان میں تراجم تیار کیے جاتے ہیں جن میں عموماً اسنادِ حدیث حذف کردی جاتی ہیں تاکہ طبیعت پر گراں نہ گزرے۔

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading