2024-07-17

 

کیا سنتِ متواترہ وحیٔ الٰہی سے مأخوذ ہے؟

ساجد محمود انصاری

اللہ تعالیٰ نے بعض انبیا پر کتابیں نازل کیں اور اکثر کو پہلے سے نازل شدہ آسمانی کتاب کی اتباع کرنے کا حکم دیا۔مثلاً سیدنا داؤد علیہ السلام پر زبور نازل کی اور ان کے بیٹے سیدنا سلیمان علیہ السلام کو اسی زبور کی اتباع کا حکم دیا۔سیدناموسیٰ علیہ السلام کو توریت عطا فرمائی اور سیدنا ہارون علیہ السلام کو اسی توریت کی اتباع کا حکم فرمایا۔ہمارا ایمان ہے کہ کسی انسان کا نبی ہونا متعین ہی اس وقت ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ اس نبی پر وحی نازل فرماتا ہے۔کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس پر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل نہ کی ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ وحی کی دو  بنیادی قسمیں ہیں، ایک قسم کی وحی وہ ہے جو آسمانی کتاب میں درج ہوتی ہے اسے وحی جلی یا تلاوت کی جانے والی وحی کہا جاتا ہے۔جبکہ دوسری قسم کی وحی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیا پر نازل تو فرمائی مگر وہ کسی آسمانی کتاب کا حصہ نہیں تھی۔اسے اصطلاحاً وحی خفی یا تلاوت نہ کی جانے والی وحی کہا جاتا ہے۔

قرآن میں مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب موسیٰ علیہ السلام سے چالیس راتوں کا وعدہ لیا تو انہیں اپنی تجلیات دکھائیں اور انہیں توریت عطا فرمائی۔

وَ اِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰۤى اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ


ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ  وَ اِذْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ الْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ 

تَهْتَدُوْنَ

البقرۃ:51تا53

اور جب ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں  کا وعدہ لیا تو تم نے ان کے پیچھے بچھڑے 

کو (معبود) مقرر کر لیا اور تم ظلم کر رہے تھے، پھر اس کے بعد ہم نے تم کو معاف 

کر دیا، تاکہ تم شکر کرو، اور پھرہم نے موسیٰ کو کتاب اور معجزے عنایت کئے، تاکہ 

تم ہدایت حاصل کرو۔

سورۃ البقرہ کی مذکورہ بالا آیات سے پہلے فرعون کے بنی اسرائیل پر  مظالم  اور پھر فرعون کے غرق ِ آب ہونے اور بنی اسرائیل کے بچ کر نکل جانے کا قصہ اجمالاً مذکورہے۔بنی اسرائیل سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ارض معھود (فلسطین) کی طرف رواں دواں تھی کہ راستے میں اللہ تعالیٰ  نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام  کو چالیس راتوں کے لیے خلوت میں طلب فرمالیا۔ سورۃ الاعراف  (آیت 144 تا 154) میں  صراحت ہے کہ  اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام  کو توریت الواح کی شکل میں لکھی ہوئی عطا فرمائی۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام توریت لے کر اپنی قوم میں واپس آئے تو دیکھا کہ قوم بچھڑے کی پوجا کرنے لگی ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے توریت کی الواح (تختیاں) ایک جانب رکھیں اور اپنے بھائی سے سخت  ناراض ہوئے یہاں تک کہ انہیں سر کے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا۔ اس سے مبرہن ہوجاتا ہے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو توریت فرعون کے غرقِ آب ہونے کے بعد ملی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ توریت ملنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے وعدہ کیسے لیا؟ اس سے بھی بہت پہلےجب سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے نبوت سے نواز اور انہیں فرعون کے پاس دعوتِ توحید لے جانے کا حکم فرمایا تو انہوں نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو بھی ان کے ہمراہ بھیجنے کی درخواست کی۔

سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان یہ مکالمہ  توریت سے نزول سے بھی پہلے ہوا پھر یہ مکالمہ ہوا کیسے؟ صاف ظاہر ہے کہ وحی خفی کے ذریعے یہ مکالمہ ہوا۔ اسی طرح  توریت کے نزول کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لیے توریت کے علاوہ متعدد احکامات نازل فرمائے جیسے، گائے ذبح کرنے کا حکم اور پھر اس گائے کو لے کرکے بنی اسرائیل نے کٹ حجتی کرتے ہوئے گائے کی جو تفاصیل دریافت کیں اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام  اللہ کے حکم سے ان کو یہ تفاصیل بتاتے گئے۔ان تفاصیل کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے مکالمہ کیسے ہوا؟ یقیناً وحی خفی کے ذریعے۔

 اللہ تعالیٰ نے سورۃ الشوریٰ (آیت 51) میں وحی کی اقسام کا ذکر فرمایا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے

وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلاَّ وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاء حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولاً فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاء إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ 

الشوریٰ:51

کسی بشر کے لیے یہ روانہیں ہے کہ اللہ اس سے گفتگو کرے مگر  الہام (خفیہ 

اشارے)کے طریقے پر یا پردے کے پیچھے سے یا اس طرح کہ ایک پیغام بر بھیجے 

اور وہ اللہ کے اذن سے وحی کرے جو کچھ اللہ چاہتا ہو، وہ برتر اور حکیم ہے۔

اللہ تعالیٰ انبیا علیہم السلام کے ساتھ انہی میں سے کسی ایک یا ایک سے زائد طریقوں پر کلام فرماتا تھا۔سیدنا موسیٰ علیہ السلام  اور نبی آخرالزمان محمد عربی ﷺ سے اللہ تعالیٰ نے  ان تینوں طریقوں پر کلام فرمایا۔قرآن حکیم صرف   أَوْ يُرْسِلَ رَسُولاً فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاء کے  طریقے پر (جبریل امین  کے ذریعے)  نازل ہوا۔، جبکہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے طریقوں سے بھی رسول اکرم ﷺ سے کلام فرمایا ہے جیسا کہ وہ موسیٰ علیہ السلام سے دوسرے طریقوں پر بھی کلام فرماتا رہا ہے۔

قرآن حکیم میں کئی مقامات پر رسول اکرم ﷺ کی  وحی خفی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔مثلاً ارشادِ باری تعالیٰ ہے

حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ

 فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا ۖ فَإِذَا أَمِنتُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَمَا عَلَّمَكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ 

البقرہ:238

اور صلوٰۃ کی حفاظت کرو خاص طور پر صلوٰۃِ وسطیٰ کی۔اور اللہ کے سامنے عاجزی سے قیام کیا کرو۔اور اگر تم حالتِ خوف( یعنی جنگ) میں ہو توپیدل چلتے ہوئے یا سوار ہوکر بھی (صلوٰۃ ادا کرو)، اور جب تم امن کی حالت میں ہو تو اللہ کا ذکر اسی طریقہ پر کرو جو اس نے  تمہیں سکھایا ہے ،جس سے پہلے تم ناواقف تھے۔

ان آیاتِ مبارکہ سے واضح ہوجاتا ہے کہ صلوٰۃ  ذکرِ الٰہی کا  ایسا طریقہ ہے جس میں حالتِ امن میں قیام فرض ہے اور حالتِ جنگ میں پیدل اور سواری پر سوار ہوکر بھی  یہ ذکرکیا جاسکتا ہے ۔ اس میں یہ بھی بتلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو صلوٰۃ ادا کرنے کا طریقہ بھی سکھایا ہے۔لیکن قرآن کا مطالعہ کرنے والوں سے یہ حقیقت چھپی ہوئی نہیں کہ  قرآن میں صلوٰۃ ادا کرنے کا تفصیلی طریقہ کہیں بھی مذکور نہیں ہے۔ ہاں صلوۃ کے بارے میں چند احکام نازل ہوئے ہیں جیسے تکبیر،قیام،قرأت،  رکوع، سجود ، التحیات اور درود شریف پڑھنا وغیرہجبکہ قرآن کہتا ہے کہ تم اس طریقہ پر صلوٰۃ ادا کرو جو تمہیں اللہ تعالیٰ نے سکھایاہے۔پھر یہ طریقہ ایسا ہے کہ اس سے پہلے اہل عرب ناواقف تھے۔ گویا اس طریقے کی تفصیلی نظیر پہلے موجود نہیں تھی۔ اگرچہ صلوٰۃ سابقہ قوموں پر بھی فرض تھی مگر وہ بھی اس طریقۂ صلوۃ سے ناواقف تھیں جو اللہ تعالیٰ نے امت محمدی کو سکھایا ہے۔لا محالہ اللہ تعالیٰ نے یہ طریقۂ صلوٰۃ وحی خفی کے ذریعے اپنے نبی ﷺ کو سکھایا تھا، جو انہوں نے اپنی امت کو تعلیم فرمایا۔جیسا کہ احادیث صحیحہ میں یہ طریقہ تفصیل سے مذکور ہے۔ اسی طرح قرآن میں صلوٰۃ وُسطیٰ کا تعین نہیں کیا گیا کہ وہ کونسی صلوٰۃ ہے؟ اس کے بارے میں بھی نبی ﷺ کو وحی خفی کے ذریعے بتایا گیا۔

طریقۂ صلوٰۃکے بارے میں اکثر ناقدین یہ اعتراض کرتے نظر آتے ہیں کہ ہر مسلک کا اپنا الگ طریقہ ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے ، یہ سب عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ساری امت متفق ہے کہ سب سے پہلے، قیام، قیام میں قرأت، پھر رکوع، رکوع میں تسبیح، پھر قومہ، پھر سجدہ، پھر جلسہ، پھر سجدہ اور پھر دوسری رکعت کا قیام پھر پہلی رکعت کی طرح دوسری رکعت ادا کرنا، اور دوسری رکعت کے بعد قعدہ ہے جس میں تشہد پڑھا جاتا ہے۔ پھر آخر میں سلام ہے۔ساری امت فرض صلوٰۃکی تعداد اور ان کی فرض رکعات پر بھی متفق ہے۔

مسجد الحرام میں اسی طریقہ پر صلوٰۃ ادا کی جاتی ہے اور ساری دنیا کے مسلمان بلا تفریقِ مسلک امام کعبہ کے پیچھے بلا تردد اسی طریقہ پر  صلوۃ ادا کرتے ہیں۔کبھی کسی مسلک سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کو اس طریقہ پر صلوٰۃ ادا کرنے میں الجھن پیش نہیں آتی۔اگر مختلف مسالک کا طریقۂ  صلوٰۃ مختلف ہوتا تو مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے بھانت بھانت کے یہ لوگ کبھی ایک امام کے پیچھے صلوٰۃ ادا نہ کرسکتے۔

ہاں بعض جزئیات میں اختلاف ضرور ہے ، مگر یہ اختلاف ایسا نہیں کہ جس سے ایک امام کے پیچھے صلوۃ ادا کرنے میں دقت پیش آئے۔ باقی متشددین ہر گروہ میں موجود ہوتے ہیں جو کسی فروعی اختلاف کو بنیادی اختلاف قرار دے کر دوسرے مسالک کے پیچھے صلوٰۃ ادا کرنے کو ناپسندیدہ بتاتے ہیں۔مگر ایسے متشددین آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ ان ناعاقبت اندیشوں کی کج فکری کو امت کی مشترکہ فکرقرار دینا جہالت ہے۔جس کا بین ثبوت حج کے اجتماعات ہیں۔

قرآن حکیم میں ارشاد ہے

وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ 

المائدہ: 38

اور چور ی کرنے والے مرد اور اور چوری کرنے والی عورت کا ہاتھ کاٹ ڈالو، یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کے کیے کی سزا ہے اور اللہ زبردست حکمت والا ہے۔

اس آیت میں چور کا ہاتھ کاٹنے کا مطلق حکم وارد ہوا ہے۔ عربی زبان میں اید کا اطلاق کہنی تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ سورۃ المائدہ  میں فرمایا

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ

المائدہ:6

اے مؤمنو! جب تم نیند سے بیدار ہوکر نماز کا ارادہ کرتے ہو تو اپنے منہ  اور اپنے ہاتھ کہنیوں تک دھو لیا کرو۔

اب چور کا ہاتھ کہاں سے کاٹا جائے گا؟ کہنی سے یا کلائی سے؟

اسی طرح کیا معمولی چوری پر بھی ہاتھ کاٹ دیا جائے گا؟ جیسے  کسی نے انڈہ  یا قلم چرا لیا تو کیا اس کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا؟ یا اس کے لیے موئی نصاب مقرر ہے؟

کیا چوری کرنے والے کی عمر کا بھی کوئی لحاظ کیا جائے گا یا نہیں؟ اگر کوئی نا بالغ بچہ چوری کرے تو کیا اس کا ہاتھ بھی کاٹا جائے گا؟

ان سوالوں کے جوابات قرآن میں موجود نہیں۔اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو وحی خفی 

کے ذریعے ان سب سوالات کے جوابات عطا فرمائے۔

 جن احادیث کے بارے میں محدثین کا اتفاق ہے کہ ان کی نسبت نبی اکرم ﷺ کی طرف سو فیصد یقینی ہے وہ احادیث وحی الٰہی ہی سے مأخوذ ہیں۔اس قسم کی احادیث عام تاہم طور پر سنتِ متواترہ کے درجے میں ہیں۔  

قرآن حکیم میں وحی خفی کی مزید مثالیں بھی موجود ہیں، مگر سمجھنے  اورحق کو تسلیم کرنے کا مادہ رکھنے والوں کے لیے مندرجہ بالا مثال ہی کافی ہے۔ اور نہ ماننے والوں کے لیے سارا قرآن بھی ناکافی ہے۔وما علینا  الا البلاغ المبین

 

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading