2024-07-17

 

نوُرِ محمدی ﷺ کا تعارف

اللہ وحدہ لاشریک کا فرمان ہے

قَدْ جَآءَ 

کُمْ مِنَ اللّٰہِ نُوْر وَّ کِتَاب مُّبِیْن [1]

یقیناً آ پہنچا ہے تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور کتاب۔

 امام المفسرین قتادہ بن دعامہ السدومی  (متوفّی ١١٨ ھ)نے فرمایا کہ اس آیتِ مبارکہ میں نور سے مراد امام المرسلین محمد عربیﷺ  ہیں۔[2]

اما م المفسرین ابو جعفرمحمد بن جریر الطبری (٢٢٤۔٣١٠ ھ) فرماتے ہیں کہ اس آیتِ کریمہ میں نور سے مرادنورِ محمدی ﷺہے،جس کے ذریعے حق روشن ہوا اور اسلام غالب ہوا۔[3] 

امام محی السّنہ ابو محمد الحسین بن مسعودالفرأ البغوی الشافعی  (٤٣٦۔٥١٦ ھ)فرماتے ہیں کہ یہاں نور سے مراد نورِ محمدی ﷺ ہے۔[4]

امام ابوالفرج عبدا لرحمٰن بن علی ابن الجوزی الحنبلی  ؒ(٥١٠۔٥٩٧ھ) کی رائے بھی امام قتادہ کے موافق ہے۔[5]

 امام عِزالدّین عبدالعزیز بن عبدالسلام السلمی ( متوفّی٦٦٠ ھ) نے بھی نو ر سے  امام المرسلین محمد ﷺ مراد لئے ہیں۔[6]

امام ابو عبداللہ محمد بن احمد القرطبی المالکی  (متوفّیٰ ٦٧١ ھ) کی رائے بھی یہی ہے۔[7]

امام ابو البرکات عبداللہ بن احمدالنسفی الحنفی ( متوفّیٰ ٧١٠ ھ) کا رجحان بھی اسی قول کی طرف ہے۔[8]

 متأخرین مفسرین میں سے سید محمود آلوسی الحنفی (متوفّیٰ١٢٧٠ ھ) نے بھی تفسیر روح المعانی میں یہی قول اختیار کیا ہے۔[9]

اللہ وحدہ لاشریک کا فرمان ہے

اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طمَثَلُ نُوْرِہِ کَمِشْکوٰةِ فِیْھَا مِصْبَاح  اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ طاَلزُّجَاجَةُ کَاَنَّھَا کَؤکَب دُرِّی یُوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبَارَکَةٍ زَیْتُوْنةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وّلَا غَرْبِیَّةٍ یَکَادُ زَیْتُھَا یُضِیئُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْہُ نَار ط نُوْر عَلٰی نُوْرط یَھْدِیْ اللّٰہُ لِنُوْرِہِ مَنْ یَّّشَآئُ ط وَ یَضْرِبُ اللّٰہُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ ط وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلیْم[10]

اللہ تعالیٰ ہی آسمانوں اور زمین کے  نور کا خالق ہے، اس کے نورکی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک طاق ہے، جس میں ایک چراغ ہے،جبکہ وہ چراغ ایک قندیل میں ہے، قندیل گویا ایک چمکدار ستارہ ہے، یہ(چراغ) ایک مبارک درخت زیتون (کے روغن) سے ر وشن کیا جاتا ہے،جو شرقی ہے نہ غربی،ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کا روغن خود بخود جل اٹھے گا، اگرچہ آگ اسے نہ بھی چھوئے ، گویانور پہ نور چھایاہے، اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنے نور کی طرف ہدایت فراہم کردیتا ہے، اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے لئے مثالیں بیان فرماتا ہے، اور اللہ ہر چیز کا بخوبی جاننے والا ہے۔

          یہ آیتِ مبارکہ قرآن حکیم کے مشکل مقامات میں سے ہے، لہٰذامختلف مفسرین نے اس آیت کی تفسیر مختلف انداز میں کی ہے۔یہاں ہمارا مقصود اس آیت کی مفصل تفسیر بیان کرنا نہیں ہے بلکہ صرف ان نکات کی نشاندہی کرنا مقصود ہے جو موضوع زیرِ بحث سے تعلق رکھتے ہیں۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مَثَلُ نُوْرِہِ کَمِشْکوٰة میں امام المرسلین محمد عربی ﷺ کی مثال بیان کی گئی ہے۔[11]

سیدنا کعب الاحبار بن ماتع الحِمیَری  (متوفّیٰ  ٣٢ھ )، سیدنا سعید بن جبیر الوالبی  (٤٥۔٩٥ ھ) اور ابو عاصم الضحاک بن مخلد الشیبانی  (متوفّیٰ ٢١٢ ھ) نے اس مسئلہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی موافقت کی ہے۔[12]

امام ابوا لفرج عبدا لرحمٰن بن علی ابن الجوزی الحنبلی  ؒاسی آیتِ کریمہ کی تفسیر میں مفسرین کے مذکورہ قول کی ترجمانی کرتے ہوئے فرماتے ہیں

          اللہ تعالیٰ نے نورِ محمدی  ﷺکو روشن چراغ سے تشبیہ دی ہے، مِشْکوٰة  (طاق)  سے مراد سیدنا محمد عربی  ﷺ کا جوفِ بدن ہے ،مصباح (چراغ)  سے مراد نبی ﷺ کے قلبِ اطہر کا نور ہے، زُجَاجَة (قندیل) سے مراد قلبِ نبوی ﷺہے۔وہ (نبی )جس شجرہ مبارکہ سے تعلق رکھتے ہیں وہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہیں، انہیں شجرہ مبارکہ کا نام اس لئے دیا کیونکہ اکثر انبیاء علیہم السلام انہی کی آل و اولاد میں سے ہیں،لا شَرْقِیَّةٍ وّلَا غَرْبِیَّة کا مطلب ہے کہ نہ وہ یہودی تھے نہ نصرانی ۔ سیدنا محمد عربی  ﷺ کا نبی ہونا اتنا واضح وظاہر ہے  کہ اگر وہ کلام نہ بھی فرمائیں تب بھی لوگ آسانی سے پہچان جاتے ہیں کہ وہ نبی ہیں۔[13]

امام المفسرین ابو العالیہ رُفَیع بن مہران الریاحی  (متوفّٰی ٩٣ ھ)  نُوْر عَلٰی نُوْر کی تفسیرمیں فرماتے ہیں کہ اللہ کا نور (قرآن) نورِ محمدی   ﷺ پر نازل ہوا۔[14]

          مفسرین کے مذکورہ بالا قول کی تائید درج ذیل آیتِ مبارکہ سے بھی ہوتی ہے

یٰاَ یُّھَاالنَّبِیُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاھِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا

[15] وَّ دَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذنِہِ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا

اے نبی بے شک ہم نے آپ کو (حق کی) گواہی دینے والا، خوشخبری سنانے والا،خبر دار کرنے والا، اپنے رب کے حکم سے اللہ کی طرف بلانے والا اور روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے۔

امام ابو عبداللہ محمد بن احمد القرطبی ؒنے سورةالنور کی مذکورہ بالاآیت پر مفصل بحث کی ہے اور دلائل سے ثابت کیا ہے کہ یہاںامام المرسلین محمد عربی ﷺکی مثال بیان کی گئی ہے، جبکہ دوسرے اقوال کا آیت کے ساتھ مناسب ربط نہیں بنتا۔[16])

          سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ، امام ابو العالیہ ،امام کعب الاحبار، امام سعید بن جبیر, امام قتادہ بن دعامہ اورامام ضحاک بن مخلد رحمة اللہ علیہم جیسے جلیل القدر مفسرین متقدمین کا نورِ محمدی  ﷺکے وجودِمسعود کے لئے قرآن حکیم سے اِستدلال و اِثبات واضح کرتا ہے کہ صحابۂ کرام، تابعین اور اتباعِ تابعین کے مبارک قرون میں نورِ محمدی   کا عام چرچا تھا،یہی سبب ہے کہ امہات کتب تفسیر میں  نورِ محمدی  ﷺ کاجابجاتذکرہ ملتا ہے۔ پس یہ اصطلاح خیرالقرون کے بعد کی اختراع و ایجاد ہر گز نہیں ہے ، جیسا کہ بعض لوگوں نے گمان کر رکھا ہے۔

          خیر القرون میں نورِ محمدی کا چرچا کیوں نہ ہوتا کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کے نورِ کامل کا تذکرہ اپنی کتابِ مقدس میں فرمایا ہے اور خودامام المرسلین ﷺ نے اپنے نورِ مبین کا تذکر ہ اپنے فرامین میں بالصراحت کیا ہے۔

چند احادیثِ نور ِمحمدی ﷺملاحظہ کیجئے

سیدنا عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ  ﷺنے فرمایاکہ میری امی جان نے فرمایا کہ ان کے بدن سے ایک نور نکلا جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے۔[17]

سیدنا عِرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺکی والدہ ماجدہ نے انہیں جنم دیا تو ان کے وجود سے ایک نور نکلا جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے۔[18]

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ آمنہ بنتِ وہب (والدہ نبی کریم ) بیان کرتی ہیں کہ(وقتِ ولادت) جب وہ میرے بدن سے الگ ہوئے تو ان کے ساتھ ایک نور نکلا جس سے مشرق ومغرب روشن ہوگئے۔[19]

سیدنا ابو امامہ الباھلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:جب میری والدہ نے مجھے جنم دیا تو ان سے ایک نورنکلا جس سے مشرق و مغرب روشن ہوگئے۔[20]

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ  ﷺنے فرمایا:جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایااور انہیں ان کی اولاد کے بارے میں بتایا تو انہیں بعض کی بعض پر فضیلت کا مشاہدہ کرایا،سیدنا آدم علیہ السلام  نے ان سب کے پیچھے نہایت روشن نور دیکھا تو اللہ تعالیٰ سے استفسار کیا کہ یہ کون ہے؟اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ یہ تمہارا بیٹا احمد ہے، یہ پہلا(نبی)بھی ہے آخری بھی۔ وہی سب سے پہلا شفیع ہوگا جس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔[21]

اس حدیث کا شاہد درج ذیل حدیث ہے

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے سیدناآدم علیہ السلام کو پیدا فرما یا تو ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور ان کی قیامت تک پیدا ہونے والی اولاد کی روحیں ان کی پشت سے برآمد ہوگئیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی دونوں آنکھوں کے درمیان(پیشانی پر) چمکدارنور پیدا فرمادیا۔پھر ان روحوں کو آدم علیہ السلام کے روبرو کردیا۔وہ کہنے لگے کہ یا اللہ یہ سب لوگ کون ہیں؟اللہ تعالیٰ نے فرمایا:یہ سب تمہاری اولاد ہیں۔تب آدم علیہ السلام نے ایک آدمی دیکھا جس کی آنکھوں کے درمیان نہایت عجیب نور تھا۔وہ کہنے لگے یااللہ ! یہ کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ تمہاری اولاد کی آخری امتوں میں سے ایک مرد ہے جس کا نام داؤد( علیہ السلام) ہے۔[22]

جب نورِ داؤدی نے سیدنا آدم علیہ السلام کو حیران کر دیا ، تو اس سے ہزاروں گنا زیادہ روشن نورِ محمدی ﷺنے تو انہیں متعجب کرنا ہی تھا۔ سبحان اللہ

نورِ محمدی  ﷺ کا چرچا تو نبی اکرم   ﷺکی ولادتِ مبارک سے بھی پہلے دنیا میں شروع ہوچکا تھا۔نبی اکرم  محمد ﷺکے جدّامجد جناب عبدا لمطلب کو آپ کی ولادت سے پہلے ہی، خواب میں نورِ محمدی ﷺ کا نظارہ کرا دیا گیا۔جناب ابو طالب  کی روایت میں ہے کہ عبدالمطلب نے اپنا خواب ایک کاہنہ کے سامنے یوں بیان کیا: ایک روزمیں بیت اللہ کے پاس سو رہا تھا ، میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا  ایک نوارنی درخت اگ رہا ہے، جس کی چوٹی آسمان کو چھو رہی ہے اور اس کی شاخیں مشرق و مغرب میں پھیل رہی ہیں، اس نورانی درخت کا نور اس قدر منور تھا کہ اس سے زیادہ روشن نور میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔یہ نور سورج سے ستر گنا زیادہ روشن تھا۔میں نے دیکھا کہ سب عربی اور عجمی اسے سجدہ کر رہے ہیں،ہر گھڑی اس درخت کی جسامت ، نور اور بلندی میں اضافہ ہو رہا ہے، میں نے دیکھا کہ قریش کے کچھ لوگ اس کی شاخوں کے ساتھ لٹکے ہوئے ہیں جبکہ قریش کے کچھ دوسرے لوگ اسے کاٹنے کے درپے ہیں،جب وہ درخت کے قریب جاتے ہیں تو ایک نہات خوب صورت نوجوان انہیں اس کے پاس آنے سے روک دیتا ہے، اس نوجوان سے زیادہ خوبصورت اور زیادہ خوشبودارجوان میں نے کبھی نہیں دیکھا۔وہ ان کی پسلیاںتوڑ دیتا ہے اور ان کی آنکھیں نکال دیتا ہے۔ میں نے بھی اپنا ہاتھ اوپر اٹھایا تاکہ میں بھی اس میں سے حصہ لے سکوں ،لیکن اس نوجوان نے مجھے روک دیا۔میں نے پوچھا پھریہ شرف کس کو ملے گا؟وہ کہنے لگا کہ ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ لٹکے ہوئے ہیں اور یہ آپ سے سبقت لے گئے ہیں۔میں یہ دیکھ کر بہت دہشت زدہ ہو گیا ہوں۔

وہ کاہنہ کہنے لگی:” اگر واقعی آ پ نے یہ خواب دیکھا ہے تو آپ کی پشت سے ایک ایسا شخص پیدا ہوگا جو مشرق و مغرب کا مالک بنے گااور لوگ اس کے دین کی پیروی کریں گے۔

ابو طالب کہا کرتے تھے کہ وہ نورانی درخت ابوالقاسم الامین(محمد عربی) ہیں۔[23]

          نورِ محمدی  ﷺ،اصلاً روحِ محمدی  ﷺسے عبارت ہے۔ [24] 

نورِ محمدی  ﷺکی حقیقت کا کلی ادراک توہمارے لئے غیر ممکن ہے،تاہم اللہ تعالیٰ نے روح کے بارے جو علم ِ قلیل قرآن و حدیث کے ذریعے ہمیں عطا فرمایا ہے، اس سے روح ونفس کی ماہیئت کاضروری فہم کسی حد تک حاصل ہو جاتا ہے۔ علم العقائد اور تفاسیر میں متکلمین ِ اسلام نے روح و نفس کی ماہیئت پر مفصل بحث کی ہے   

          علمائے اسلام نے دلائل عقلی و نقلی سے ثابت کیا ہے کہ انسان محض جسدِعنصری یعنی مادی بدن سے عبارت نہیں، بلکہ اصل انسان بدن سے متغائر ہے، جس کی صفات مادی بدن سے بہت مختلف ہیں۔اسی اصل انسان کا نام روح ہے، جس کی وجہ سے بدن میں جان ہوتی ہے۔ جب یہ روح بدن سے کلیتاًجدا ہو جاتی ہے تو بدن بے جان و مردہ ہو جاتا ہے۔بدن کی موت سے روح فنا نہیں ہوتی بلکہ عالمِ برزخ  میں باقی رہتی ہے۔روح کی ماہیئت کے بارے مفصل معلومات کے لئے امام ابو عبداللہ محمد بن ابو بکرابن قیم الجوزیہ الحنبلی ؒکی مایہ ناز کتاب ‘الروح’ کا مطالعہ کیجئے۔

پس اصل انسان ’’روحِ انسانی‘‘ ہے، جس کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے

وَ یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْح قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّی[25]

اور وہ آپ سے روح کی بابت پوچھتے ہیں، کہہ دیجئے کہ روح میرے رب کے امرسے(وجود میں آئی) ہے۔

امام ابو عبداللہ محمد بن ابو بکرابن قیم الجوزیہ الحنبلی ؒنے کتاب الروح میں روح کی ماہیئت کے بارے مختلف اقوال نقل کیے ہیں، آخر میں یہ قول نقل کیا ہے

انہ جسم مخالف بالماہیة لھذا الجسم المحسوس، و ھو جسم نورانی علوی خفیف حیّ متحرک ینفذ فی جوہر اعضاء و یسری فیھا سریان الماء فی الورد، و سریان الدھن فی الزیتون والنار فی الفحم [26]

روح اس محسوس بدن سے مختلف ماہیئت کا حامل جسم ہے اور وہ ایک علوی،نورانی، لطیف ، زندہ اورمتحرک جسم ہے، جواعضا ء میں ایسے ہی سرایت کیے ہوتا ہے جیسے  گلاب میں عرق، زیتون میں روغن اورکوئلے میں آگ سرایت کیے ہوتی ہے۔

یہ قول نقل کرنے کے بعد امام ابن قیم الجوزیہ الحنبلی ؒفرماتے ہیں

وھذا القول ھوا لصواب فی المسأ لة ، و ھو الذی لا یصح غیرہ ، و کل الاقوال سواہ باطلة، و علیہ دل الکتاب والسنة و اجماع الصحابة و ادلة العقل والفطرة ۔[27] 

اس موضوع پر یہی قول صحیح ہے، اس کے سوا کوئی دوسرا قول صحیح نہیں،اس کے سوا تمام اقوال باطل ہیں، اسی پر قرآن، سنت، اجماعِ صحابہ اور عقل و فطرت کے دلائل قائم ہیں۔

امام ابنِ ابی العز الحنفیؒ  نے شرح العقیدة الطحاویہ میں روح کی ماہیئت کے بارے میں بعینہ وہی الفاظ لکھے ہیں جوامام ابن قیمؒ نے بیان فرمائے ہیں۔[28]

فی الحقیقت جنسِ ارواح، جنسِ ملائکہ سے مماثلت رکھتی ہے،ارواح کی صفات ملائکہ سے اس لئے مشابہ ہیں کہ ملائکہ کی طرح ارواح بھی نور سے بنی ہیں۔ملائکہ کی نور سے تخلیق حدیث ِصحیح سے ثابت ہے۔

سیدہ عائشہ صدیقہ علیہا السلام سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا

خُلِقَتِ الْمَلَائِکَةُ مِنْ نُوْرِ [29]

ملائکہ (فرشتے) نور سے پیدا کئے گئے ہیں۔

جمہوراہل ست کے نظریہ کے مطابق عام انسانوں کی ارواح بھی نور سے بنی ہیں، پھرروحِ محمدی  ﷺکے نور ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے، جسے خود قرآن نور ِمجسم قرار دے رہا ہے۔نورِ محمدی ﷺ تو نورالانوار ہے، جس سے سارے انوار وجود میں آئے ہیں۔[30]

سمجھ سکیں گے وہ کیا رُتبۂ نبی کریم

جو آدمی کو فقط آدمی سمجھتے ہیں

          رہا یہ سوال کہ جب عام انسانوں کی ارواح بھی نور کی ہیں تو پھر نورِ محمدی ﷺ کا کیا امتیاز باقی رہ جاتا ہے؟  اس کا جواب یہ ہے کہ عام انسانوں اور نبی اکرم ﷺ میں بشریت  کے اعتبار سے بنیادی فرق یہ ہے کہ عام انسانوں کی روح مغلوب اور اس پر ظلمتِ حیوانیت غالب ہوتی ہے، جسے احادیث میں دلوں کے زنگ آلود ہونے یا سیاہ ہونے سے تعبیر کیا گیا ہے اور قرآن میں بیان کیا گیا ہے کہ اسی روحانی نور کے ماند پڑنے کی وجہ سے قیامت کے روز کفار ، منافقین اور مجرمین کے چہرے سیاہ ہونگے۔ اس کے برعکس رسول اکرم ﷺ کی روحِ انور حیوانیت پر اس قدر غالب تھی، کہ حیوانیت معدوم ہونے کے مصداق تھی، یہی سبب ہے کہ آپ  ﷺکی روحِ اقدس کا نور آپکے پورے وجود سے جھلکتا تھا۔آپ کا چہرہ مبارک اس قدر روشن تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے رخِ انور کو قمرِ منیر(چودھویں کاروشن چاند) یا شمس طالعہ ( ابھرتے ہوئے آفتاب) سے تشبیہہ دیا کرتے تھے۔

          نورِ محمدی ﷺ اور عام ارواح کے نور میں وہی فرق ہے جو آفتابِ نصف النہار اور ستاروں کی روشنی میں ہے۔جب آفتاب طلوع ہوتا ہے ، ستارے اسی آسمان پر موجود ہوتے ہیں مگر ان کی روشنی آفتاب کی روشنی میں گم ہو کر کالعدم ہوجاتی ہے۔یہی حال نورِ محمدی  ﷺکا ہے۔ دوسری ارواح کا نور، نورِمحمدی ﷺکے سامنے ہیچ ہے۔شاعر نے کیا خوب کہا ہے

          مہرو ماہ ،زہرہ  و  انجم جو ضیأ دیتے ہیں

                   شاہِ کونین کے قدموں کا پتہ دیتے ہیں

          چاند ،ہاں چاند بھی شق ہو کے زمیں پہ گر جائے

                   جب وہ انگشتِ شہادت کو ہلا دیتے ہیں   

          نورِ محمدی ﷺ ہی نورِ کامل ہے، اس نورمبین کے سامنے تمام کائنات کانور ناقص ہے، حتیٰ کہ نورِ محمدی ﷺ نورِملائکہ سے بھی اعلیٰ و افضل ہے۔معراج کی رات سید الملائکہ جبریل امین علیہ السلام اپنے تمام تر شرف و فضل کے باوجود سدرة المنتہیٰ سے آگے نہ بڑھ سکے کیونکہ ان کانور اس نور کی تاب نہ لاسکتا تھا جس کے ماورا ٔ  ربِ کائنات جلوہ نما ہے، اس کے برعکس نورِ محمدی ﷺ کو چونکہ نورِربانی سے اک خاص نسبت ہے، اس لئے امام المرسلین  ﷺنے سر کی آنکھوں سے ربِّ کائنات کے لازوال انوار کا مشاہدہ کیا۔

 لامکاں سے ہیں بہت آگے مقاماتِ نبی

کس نے دیکھے ہیں نہایاتِ رسولِ ہاشمی

اللہم صل علیٰ محمد و علیٰ آل محمد

 

 



[1] المائدہ:۱۵

[2] عبدالرحمٰن بن علی ابن الجوزی الحنبلی ، زادالمسیر، جلد ٢ ،  صفحہ٣١٦

[3] محمد بن جریر الطبری، جامع البیان فی تاویل آیء القرآن،  جلد  ٨،  صفحہ  ٢٦٤

[4] ابو محمد الحسین بن مسعودالفرأ البغوی ، معالم التنزیل، جلد ٢،  صفحہ  ٢٢

[5] عبدالرحمٰن بن علی ابن الجوزی الحنبلی ، زادالمسیر، جلد ٢ ،  صفحہ٣١٦

[6] عِزالدّین عبدالعزیز بن عبدالسلام السلمی  ، تفسیر قرآن العظیم، جلد ١، صفحہ  ٦١٢

[7] ابو عبداللہ محمد بن احمد القرطبی ، الجامع  لاحکام القرآن، جلد ١٥، صفحہ  ٢٥٦

[8] امام ابو البرکات عبداللہ بن احمدالنسفی، مدارک التنزیل ، جلد ١، صفحہ  ٤٣٦

[9] سید محمود آلوسی الحنفی،روح المعانی، جز ٦، صفحہ  ٩٧

[10] النور:۳۵

[11] ابو محمد الحسین بن مسعودالفرأ البغوی ، معالم التنزیل، جلد ٣،  صفحہ  ٣٤٧، جلال الدین السیوطی ، الدر المنثور، جلد ١١،  صفحہ  ٦٤

[12] محمد بن جریر الطبری، جامع البیان فی تاویل آیء القرآن،  جلد  ١٧،  صفحہ  ٢٩٩، ابو محمد الحسین بن مسعودالفرأ البغوی ، معالم التنزیل، جلد ٣،  صفحہ  ٣٤٥۔٣٤٧

[13] عبدالرحمٰن بن علی ابن الجوزی الحنبلی ، زادالمسیر، جلد ٦،  صفحہ ٤٤

[14] جلال الدین السیوطی ، الدر المنثور، جلد ١١،  صفحہ  ٧٢،

[15] الاحزاب:۴۵،۴۶

[16] ابو عبداللہ محمد بن احمد القرطبی ، الجامع لاحکام القرآن، جلد ١٥،  صفحہ  ٢٥٦۔٢٦٧

[17] مسند امام احمد:١٧٧٩٨، مستدرک الحاکم:٤٢٨٣

[18] مسندامام احمد:١٧٢٨١

[19] محمد بن سعد، الطبقات  الکبریٰ،جلد ١، صفحہ  ١٠٢

[20] مسند الدیلمی:١١٦

[21] ابو بکر احمد بن حسین البیہقی،دلائل النبوة، جلد ٥، صفحہ  ٤٨٣، کنز العمال: ٣٢٠٥٦

[22] جامع الترمذی : ٣٠٧٦،  مسند ابو یعلیٰ :٦٣٧٧، مستدرک الحاکم:٤١٨٤

محمد بن سعد، الطبقات الکبریٰ، جلد ١،  صفحہ  ٢٧۔٢٨

 

[23] ابو نعیم الاصبہانی ، دلائل النبوة، صفحہ  ٩٩۔١٠٠،  

عبدالرحمٰن بن علی ابن الجوزی الحنبلی ،الوفاء  بتعریف فضائل المصطفیٰ،  صفحہ

[24] علی بن سلطان القاری ، مرقاة المفاتیح شرح المشکوٰة المصابیح، جلد ١، صفحہ  ١٦٧،

محمد اشرف علی تھانوی، نشرالطیب فی ذکر النبی الحبیب، صفحہ  ٧

 

[25] بنی اسرائیل:٨٥

 

[26] ابو عبداللہ محمد بن ابو بکرابن قیم الجوزیہ الحنبلی، کتاب الروح،  صفحہ  ٢٢٠

[27] ایضاً

[28] ابن ابی العز الحنفی، شرح العقیدة الطحاویہ، صفحہ  ٣٨٧

[29] مسند امام احمد:٢٥٧٠٩،  صحیح المسلم: ٢٩٩٦،  صحیح ابن حبان: ٦١٥٥

[30] سید محمود آلوسی الحنفی، روح المعانی، جزء  ٦،  صفحہ  ٩٧

Be the first to write a review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Discover more from دَارُالحِکمۃ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading